آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

چیلنجز تو بے شمار ہیں، مگر دنیا کے لیے سب سے زیادہ باعثِ تشویش یہ بات ہے کہ کورونا کی تباہ کاری کے بعد اقتصادی بحالی کیسے ممکن ہوگی، کیوں کہ معیشت کا پہیّہ چلے گا، تو ہی سب کی جان میں جان آئے گی اور اسی سے یقین آئے گا کہ کورونا وائرس واقعی شکست کھا چُکا ہے۔ بیش تر ماہرین کا کچھ روز پہلے تک خیال تھا کہ بدلتے حالات کی وجہ سے دنیا میں’’ نیو ورلڈ آرڈر‘‘ جیسا کوئی نیا نظام جگہ بنائے گا، لیکن مغربی ممالک نے جس تیزی سے کورونا وبا پر قابو پایا، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اب کوئی نیا نظام جگہ نہیں بنا پائے گا۔ البتہ اِتنا ضرور ہے کہ موجودہ نظام کی’’ اوور ہالنگ‘‘ ہو جائے گی۔ پہلی رائے رکھنے والوں کا یہ بھی خیال تھا کہ دنیا بند ہوگی، رابطے مختصر ہوں گے اور گلوبلائزیشن کے تصوّر پر ضرب پڑے گی، بلکہ بعض اقتصادی ماہرین تو یہاں تک کہہ رہے تھے کہ’’ اب عالمی تعاون کا دَور گزر چُکا‘‘، لیکن ایسا کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آرہا، بلکہ اس کے برعکس، ممالک کا ایک دوسرے پر انحصار مزید بڑھ گیا ہے۔ 

اس کی وجوہ واضح ہیں کہ عالمی اقتصادی ادارے اور بڑی طاقتیں کسی بھی ایسے بحران کے لیے بہت حد تک تیار تھے۔اس کی ریہرسل 2007ء تا 2015 ء کے عالمی اقتصادی بحران میں ہوچُکی، جس میں دنیا نے معاشی بحران کو کام یابی سے شکست دی، بلکہ ریکوری امیدوں سے بھی زیادہ تیز رہی۔اُس بحران میں مقابلہ اقتصادیات اور سرمائے کا تھا، اِس مرتبہ سائنس اور معیشت ایک طرف، تو گڈ گورنینس اور مالیاتی مینجمنٹ اُن کے مقابلے میں دوسری طرف ہیں۔بلاشبہ جس تیزی اور وسعت سے کورونا وائرس کا پھیلائو ہوا، اُس نے پہلے چند ہفتوں میں بڑی طاقتوں کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی ، لیکن اُنھوں نے جلد ہی یہ جان لیا کہ اِس وبا سے مقابلے کا میدان کون سا ہے۔اسی لیے برق رفتاری سے کورونا کے پر کاٹ دیے گئے، لیکن یہ صرف اُن ممالک میں ممکن ہوسکا، جو سائنس اور گورنینس کا بیک وقت بھرپور اور کام یابی سے استعمال کرسکے۔

اُن کے پاس دولت تھی اور وسائل بھی، سب سے بڑھ کر ایسی تعلیم یافتہ اور باشعور آبادی، جس نے پہلے جھٹکے کے ساتھ ہی محسوس کرلیا کہ اس وائرس سے نمٹنے کے لیے اُنھیں ایک نئے قسم کے تعاون کی ضرورت ہوگی، جو لاک ڈائون اور سوشل ڈسٹینسنگ کی صُورت میں ہوگا۔نیز، اس جنگ میں عام آدمی کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل رہا، اس سے ایک طرف ڈاکٹرز اور سائنس دانوں کو مرض پر قابو پانے میں مدد ملی، تو دوسری جانب، حکومت کو معیشت کی بحالی کے لیے مہلت مل گئی۔اب اُن ممالک میں لاک ڈائون میں مرحلہ وار نرمی کر کے زندگی معمول پر لائی جا رہی ہے، لیکن ہر چیز پر منظّم طریقے سے عمل درآمد ہو رہا ہے۔ پہلے کورونا کے گراف کو فلیٹ کیا گیا، پھر نیچے لایا گیا اور اب نرمی کی جارہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہاں کسی طرح کی افراتفری دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ یقیناً اِس سے اُن لوگوں کو مایوسی ہوگی، جو شہریوں کے اسلحہ خریدنے پر خانہ جنگی کی پیش گوئیاں کر رہے تھے۔ تاہم، افسوس تو یہ ہے کہ ہم نے اُن سے کچھ نہ سیکھا اور اب تک اندھیرے میں تیر چلائے جارہے ہیں۔

کورونا وبا کے سبب عالمی معیشت کو دو جانب سے شدید نقصان پہنچا ۔ چوں کہ کورونا کی تباہ کاری ایک غیرمعمولی واقعہ تھا، تو معیشت پر دبائو بھی غیرمعمولی رہا۔ عالمی گروتھ انتہائی کم ہوگئی، بلکہ ابتدا میں تو سِسک رہی تھی۔ رواں برس عالمی معیشت کا گروتھ ریٹ تین بتایا جارہا تھا، جو گر کر کر اب ایک پر آگیا ہے۔یوں صرف عالمی ہی نہیں، مُلکوں کی معیشت بھی سُکڑی ہے۔ سکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ پیداوار گھٹ جائے گی اور روزگار کے مواقع کم ہوجائیں گے، تو کیا ایسی صُورت میں تیزی سے بڑھتی آبادی کو مطمئن کرنا ممکن ہوگا؟ خاص طور پر جب پانی اور کھانے کے ذخائر میں بھی کمی آرہی ہے۔پھر ترقّی پذیر اور غریب ممالک میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جنھیں فوری روزگار کی ضرورت ہوگی۔ 

پہلے آبادی میں نوجوانوں کی زیادہ تعداد کا فخریہ طور پر ذکر کیا جاتا تھا، مگر اب اُنھیں روزگار فراہم کرنا دردِ سر بنا ہوا ہے۔اِس نوجوان آبادی نے کوئی بڑی جنگ دیکھی ہے اور نہ ہی کوئی عالمی بحران کہ جسے برداشت کرنے کی قوّت رکھتے ہوں۔ اِسی لیے لاک ڈائون میں بھی اُن ممالک میں بے صبری اور زیادہ بے چینی دیکھنے میں آئی، جہاں آبادی میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ عالمی معیشت میں چین نے سب سے زیادہ فائدہ اُٹھایا ہے۔ گلوبلائزیشن کے عالمی تعاون کے باعث اس کا مال بہت تیزی سے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا اور خریدا بھی گیا، کیوں کہ وہ سَستا تھا، لیکن کورونا وائرس نے جو جھٹکا بڑے اور یورپی ممالک کو دیا، اُس نے اُنہیں اِس بات پر غور کے لیے مجبور کر دیا کہ کیا کسی ایک مُلک کو دنیا کی فیکٹری بننے کی اجازت دینا مناسب ہے؟ 

کسی بحران کے نتیجے میں رابطے منقطع ہو جائیں، تو کسی ایک مُلک کی باقی دنیا پر اجارہ داری مُلکی معیشتوں کے لیے کس حد تک خطرناک ہوسکتی ہے، اس کا عملی مظاہرہ کورونا وبا اور لاک ڈائون میں ہوا، جب اُن ممالک کو ماسک تک چین سے منگوانے پڑے۔ اِس مرحلے پر یورپ اور امریکا اپنی صنعتوں کو دوبارہ فعال کرنے پر سوچ بچار کر رہے ہیں۔ برطانیہ ہی کی مثال لے لیں۔ایک زمانے میں مانچسٹر ٹیکسٹائل حب ہوتا تھا، لیکن اِس صدی کے اوائل میں اُسے لپیٹ دیا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت بڑی تعداد میں مزدور بے روزگار ہوگئے، جن میں کافی پاکستانی بھی شامل تھے۔ برطانیہ نے خود کو خدمات کی فراہمی تک محدود کر لیا۔ ایسا ہی کچھ دیگر یورپی مُمالک نے بھی کیا۔امریکا نے اپنی بڑی صنعتوں کو تو جاری رکھا، لیکن چھوٹے مال کے لیے چین جیسے ممالک پر انحصار شروع کردیا، کیوں کہ وہاں سے اُسے لیبر کوسٹ کم پڑتی تھی اور مال کی قیمت بھی۔اِسی لیے چین سے اُس نے اِتنا زیادہ مال درآمد کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے تک اِس تجارت میں امریکا کا خسارہ پانچ سو بلین ڈالرز تک جا پہنچا۔ ٹرمپ نے اس معاملے پر چین کو مسلسل اپنی تنقید کا نشانا بنایا اور امریکیوں سے وعدہ کیا کہ وہ اس کا مداوا کریں گے۔ 

چین، امریکا ٹرید وار کا اصل سبب یہی معاملہ ہے۔اب کورونا نے اسے پھر سے نمایاں کردیا ہے۔ عالمی معیشت میں جس تبدیلی کا بہت ذکر کیا جا رہا ہے، اُس میں یہ معاملہ بہت اہمیت کا حامل ہوگا۔یقیناً چین اِس صُورتِ حال سے پریشان ہے۔اِس کا مطلب یہ ہوا کہ یورپ اور دوسرے بہت سے امیر ممالک میں صنعتیں پھر سے کام شروع کردیں گی، جس کے لیے اُنہیں لیبر کی ضرورت پڑے گی اور یہ ضرورت، غریب اور بڑی آبادی والے ممالک ہی پوری کریں گے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کورونا بحران کے دوران چین اُس پیمانے پر غریب ممالک کی مدد نہیں کر رہا، جس حساب سے اُس نے دنیا بھر سے دولت کمائی تھی۔ وہ سی پیک جیسے منصوبے تو لارہا ہے، لیکن’’ مارشل پلان‘‘ جیسے معاشی بحالی کے منصوبے ابھی تک اُس کی جانب سے سامنے نہیں آئے۔ حالاں کہ اِس طرح کے منصوبے اُس کی اچھی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

دنیا کو جو دوسرا بڑا قتصادی معاملہ درپیش ہوگا، وہ سیّاحت اور ائیر انڈسٹری کا ہے۔ اِس صنعت کو کورونا کی وجہ سے زبردست دھچکا لگا۔ بہت سی ائیرلائنز تو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چُکی ہیں۔ لوگوں کے پاس عام گزر اوقات کے لیے پیسے نہیں، تو اِس حالت میں سیّاحت اور فضائی سفر کا کون سوچے گا؟ صرف امریکا میں تین کروڑ سے زیادہ افراد ’’بے روزگار الائونس‘‘ لے چُکے ہیں۔تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ یورپ، امریکا اور دوسرے بہت سے امیر بلکہ ترقّی پذیر ممالک بھی سیّاحت کی بنیاد پر اپنی معیشت چلاتے ہیں۔ سمر سیزن آتے ہی اُن ممالک سے کروڑوں افراد سیّاحت کے لیے نکل پڑتے ہیں۔اسی سے منسلک دوسری صنعتیں، جیسے ہوٹل انڈسٹری وغیرہ بھی بحران سے دوچار ہیں۔ 

پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ کورونا وائرس سے زیادہ متاثرہ ممالک یا شہر وہی ہیں، جہاں باہر سے آنے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔ نیویارک، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور اسپین میں ٹورازم کی صنعت بہت مضبوط ہے، اسی لیے وہ سب سے زیادہ وائرس سے متاثر ہوئے۔ وہاں مرض جلد پہنچا، متاثرین کی تعداد زیادہ رہی اور شرحِ اموات بھی۔ نیز، کم ترقّی یافتہ اور غریب ممالک کا معاملہ بھی بہت توجّہ کا متقاضی ہے۔کورونا پھیلنا شروع ہوا، تو ہمارے وزیرِ اعظم نے خود سرِعام اعتراف کیا کہ’’ ہمارے وسائل اور سرمایہ اِس وبا سے مقابلہ کرنے کے لیے نہ ہونے کے برابر ہیں۔‘‘ وزِیر اعظم اور اُن کی اقتصادی ٹیم کا اسی پر فوکس رہا کہ کسی طرح آئی ایم ایف کے قرضے معاف ہو جائیں یا پھر اُن کی واپسی طویل عرصے کے لیے مؤخر کردی جائے۔ ہم اسی قسم کی درخواستیں قرض دینے والے ممالک سے بھی کرتے رہے۔ 

درحقیقت یہ صرف ہمارا ہی نہیں، تمام غریب، پس ماندہ ممالک کا المیہ ہے کہ وہ کسی بھی بڑے بحران سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بدقسمتی سے اس میں اب تیل پیدا کرنے والے مسلم ممالک بھی شامل ہوچُکے ہیں۔تُرکی جیسا رول ماڈل بھی اب اسی صف میں ہے،جہاں بے احتیاطی کے سبب چار ہزار سے زاید اموات ہوچُکی ہیں۔ ایران، جو کسی صُورت مغرب کے سامنے ناک نیچی کرنے کے لیے تیار نہ تھا، آئی ایم ایف کے سامنے جُھک کر چھے ارب ڈالرز کے فوری قرضے کا طالب ہوا اور آئی ایم ایف اُس کی درخواست پر غور تک کے لیے تیار نہیں۔ان ممالک کے رہنما خواہ کیسے ہی بڑے بڑے بیانات دیتے رہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اپنے لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ان ممالک کے پاس سرمایہ اور معاشی قوّت نہیں اور نہ ہی ان کے پاس اس طاقت کے حصول کے لیے کوئی طویل المدّتی منصوبہ ہے۔ 

اس بات کا بہت شور ہے کہ بڑی معیشتیں برباد ہوگئیں، لیکن امریکا نے عوام کو ٹریلینز ڈالرز کے ریلیف پیکجز دیے، یورپ نے بھی دل کھول کر عوام کی مدد کی۔پیسے تھے، تو ہی گھر بیٹھے شہریوں کو کِھلایا۔ امریکا کا اگلے سال چاند پر جانے کا منصوبہ بھی برقرار ہے اور یورپ کے کلائمیٹ چینج کی پلاننگ بھی جاری ہے۔ لیکن چھوٹے مُمالک، جن کے لیڈر بڑے بڑے بیانات دیتے تھے، صرف ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں۔اس پر بھی حیرت یہ کہ ان ممالک نے طرح طرح کے تنازعات میں ٹانگ اڑانا بھی گویا فرض تصوّر کر رکھا ہے۔ عوام بنیادی ضروریات تک کو ترس رہے ہیں اور یہ نئی سرزمینیں فتح کرنے کے خواب دیکھتے ہیں۔

بس بہت ہوگیا، اب دنیا بدلنے کے دعوے چھوڑ کر پہلے اپنے مُلکوں سے بھوک، غربت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ ہنگامی بنیادوں پر اپنا نظامِ صحت ٹھیک کرنا ہوگا۔ ہر وقت اور بات، بے بات دوسروں پر الزام تھوپ کر اپنی نااہلیوں پر پردہ ڈالنے کا چلن اب زیادہ دیر نہیں چل پائے گا۔مسلم دنیا کو یہ سوچنا ہوگا کہ آخر اس نے اپنے عوام کو نظرانداز کرکے علاقائی اور عالمی تنازعات میں ٹانگ کیوں اَڑا رکھی ہے ؟ آخر یہ کیسی لیڈر شپ ہے، جو ناک کے نیچے دیکھنے کو تیار نہیں کہ اس کے عوام کی کیا حالت ہو چُکی ہے۔ وہ کسی قدرتی آفت کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کے معاشی نظام میں اتنی جان ہے کہ اپنے لوگوں کو چند ماہ گھر بِٹھا کر کِھلا سکیں۔ اس کے باوجود، یہ بڑی بڑی جنگیں لڑنے کے دعوے اور طرح طرح کے انقلابات کی باتیں کرتے ہیں۔افسوس تو ان ممالک کے عوام پر بھی ہے، جو ان رہنماوں کی لوریوں اور لارے لپّوں میں آجاتے ہیں۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ ان ممالک کے ساتھ کبھی کوئی زیادتی یا ناانصافی نہیں ہوئی، لیکن سوال یہ ہے کہ محض بڑھکوں پر گزارہ کرنے کی بجائے خود کو ایک طاقت ور مُلک میں بدلنے میں کیا حرج ہے؟اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کورونا وبا نے کئی ممالک، خاص طور پر مسلم ممالک کی لیڈرشپ اور ان کی پالیسیز کو بُری طرح ایکسپوز کردیا ہے۔اب ان رہنماؤں کی صلاحیت کا امتحان ہے اور شاید اب کی بار عوام محض جذباتی نعروں سے نہ بہلیں۔ اقتصادی معاملات گراوٹ کی کِن حدوں کو چُھو رہے ہیں، عوام اپنے رہنماوں سے جلد یا بدیر اِس سوال کا جواب ضرور مانگیں گے،اس لیے حکم رانوں کو ابھی سے جواب کی تیاری شروع کردینی چاہیے۔دنیا بھر میں لاکھوں افراد روزگار کے لیے اپنے آبائی مُلکوں کو چھوڑ کر پردیس کا رُخ کرتے ہیں، جہاں ایک طرف تو وہ میزبان مُلک کی تعمیر و ترقّی میں کردار ادا کرتے ہیں، تو دوسری طرف ان کی کمائی سے نہ صرف یہ کہ اُن کے گھروں کے چولھے جلتے ہیں، بلکہ اُن کی بھجوائی گئی رقومات آبائی وطن کی ترقّی میں بھی کام آتی ہے۔ 

پاکستان کے بھی تقریباً ایک کروڑ افراد بیرونِ مُلک روزی روٹی کماتے ہیں، جو کُل آبادی کاپانچ فی صد ہے۔ ان میں سے زیادہ تر انتہائی کم معاوضے پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔اُنھیں طرح طرح کے سنہری خواب دِکھا کر بیرونِ مُلک لے جانے والے ان کی انشورنس کرتے ہیں اور نہ ہی کورونا جیسی آفت میں کوئی مدد۔ کسی بھی مشکل میں ان کے پاس ایک ہی حل ہوتا ہے کہ ان مزدوروں کو جیسے تیسے جہازوں میں بِٹھا کر آبائی وطن روانہ کردیا جائے۔نیز، ایک اہم معاملہ ان طلبہ کا بھی ہے، جو بیرونِ مُلک بھاری فیس ادا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

یہ تو ان کے سرپرست ہی جانتے ہیں کہ یوں دیارِ غیر میں تعلیم دِلوانا کس قدر دل، گردے اور صبر کا کام ہے۔وہ خود تکالیف اٹھا کر انھیں پڑھاتے ہیں کہ خوش حالی ان کے گھروں پر دستک دے۔ کورونا جیسی آفات میں ان طلبہ کا بھی کوئی پُرسانِ حال نہیں ہوتا۔ میزبان مُلک، جو ان سے بھاری فیسز تو وصول کرتے رہے، مگر بُرے وقت میں وہ بھی ہاتھ کھڑے کردیتے ہیں۔وہ ان طلبہ کے حوالے سے کوئی ذمّے داری نہیں لیتے۔ایسے میں طلبہ اپنے مُلکوں کی حکومتوں سے مدد اور واپسی کی فریاد کرتے ہیں۔ان کے والدین ترپٹے رہتے ہیں۔ پاکستانی طلبہ اِن دنوں اسی انسانی المیے سے گزر اور حکومتوں کی نااہلی کا عذاب بھگت رہے ہیں۔

کورونا کے بحران کے بعد ہر مُلک کو غور کرنا ہوگا کہ تارکینِ وطن اور طلبہ کو کس طرح اور کیونکر باہر جانے دیا جائے۔ایسے ایسے چھوٹے اور غیرمعروف ممالک سے ہمارے پس ماندہ علاقوں کے طلبہ کی اپیلیں سامنے آرہی ہیں کہ دل دہل کر رہ جاتا ہے۔کیا حکومت اور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے پاس ان کا کوئی باضابطہ ریکارڈ موجود ہے؟ ایک خبر نظر سے گزری کہ بھارت نے موجودہ بحران میں سب سے بڑا فضائی آپریشن کرکے اپنے دولاکھ طلبہ کو فوری واپس وطن بلالیا۔ہم نے اپنے طلبہ کے لیے کیا کیا؟ ہمارے جیسے ہر مُلک کو اس پہلو پر غور کرنا چاہیے کہ تارکینِ وطن سے ہروقت زرِمبادلہ بھجوانے کی اپیل کافی نہیں، ان کے دُکھ درد بھی بانٹنے ہوں گے۔ نیز، طلبہ کو باہر جانے کی اجازت دینے کے لیے صرف ملازمت یا داخلہ ہی اہم نہیں، ان کا مکمل ڈیٹا موجود ہونا چاہیے اور ایسا پلان بھی تیار رہنا چاہیے کہ اگر کوئی پریشانی آجائے تو انہیں بحفاظت مُلک واپس لایا جاسکے۔