آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تباہی سے 19 منٹ قبل پائلٹ نے ہنگامی لینڈنگ کی ناکام کوشش کی

کراچی میں گر کر تباہ ہونے والے پی آئی اے کے طیارے کے پائلٹ نے تباہی سے 19 منٹ قبل کراچی ائیرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنے کی کوشش کی مگر ایمرجنسی لینڈنگ کے ضروری انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے طیارے کو ٹیک آف کرالیا۔

 ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق پائلٹ نے لاہور سے کراچی پہنچ کر لینڈنگ کیلئے اپروچ لینے کے دوران طیارے کے پہیئے کھولنا چاہے مگر ناکام رہا جس پر پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو صورتحال سے آگاہ کیا۔

 ذرائع کے مطابق رن وے تک پہنچنے کے دوران پائلٹ مسلسل پہیئے کھولنے کی کوشش کرتا رہا۔ دوپہر دو بجکر 20 منٹ پر طیارہ عین رن وے تک پہنچ گیا،  مگر ہنگامی لینڈنگ کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے کپتان نے طیارے کو واپس اڑا لیا۔

 دوبارہ اڑان بھرتے ہی پائلٹ نے ایک چکر لگانے کیلئے طیارے کو الٹے ہاتھ کی طرف موڑا اور شاہ فیصل کالونی، ملیر اور نیشنل ہائی وے سے ہوتے ہوئے لینڈنگ کیلئے دوبارہ اپروچ لینے کی کوشش کی۔

 ذرائع کے مطابق جہاز کے پہیئے کھولنے کے لیے کپتان نے آخری حربے کے طور پر سسٹم کو پمپ کیا تو جہاز کے پہیئے کھل گئے مگر اس وقت تک جہاز کا ایک انجن فیل ہوچکا تھا۔

 پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو اس دوسری ہنگامی صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور طیارے کو ہر ممکن مہارت سے ایئرپورٹ تک لے جانے کی کوشش کی مگر اس دوران جہاز کا دوسرا انجن فیل ہوا تو طیارہ خوفناک حادثے کا شکار ہوگیا۔

ایک اور ذریعے کے مطابق دوپہر دو بج کر 20 منٹ پر پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کی ہدایت کے مطابق طیارے کے پہیئے کھلے بغیر اور کسی ہنگامی انتظامات نہ ہوتے ہوئے ایمرجنسی لینڈنگ کیلئے رن وے کو ٹچ کیا تھا اور کافی چنگاریاں اٹھنے پر پائلٹ دوبارہ ٹیک آف کرگیا۔

قومی خبریں سے مزید