آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ذیقعد 1441ھ11؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: شوال کےچھ روزوں کی شریعت میں کیا اہمیت ہے؟

جواب: شوال کے چھ روزے رکھنا سنت ہے، حدیث کی مستند کتابوں میں اس کی فضیلت و اہمیت وارد ہوئی ہے ۔مسلم شریف میں حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نےرمضان کے روزے رکھے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے تو وہ ایسا ہے جیسا کہ اس نےپورےسال کے روزے رکھے ۔یعنی ان دونوں قسم کے روزوں کا ثواب سال بھر کے روزوں کے برابر ہے۔اس حدیث کو قرآن کریم کے بیان کے ساتھ ملاکر دیکھیں تو مطلب سمجھ میں آجاتا ہے ،قرآن کریم کے وعدے کے مطابق ایک نیکی کا اجر کم از کم دس گنا ملتاہے،اس حساب سے رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر ہوئے اور شوال کے چھ روزے دومہینوں کے برابر ہوئے اور کل ملاکر بارہ مہینے ہوگئے،یا یوں کہہ لیں کہ رمضان اور شوال کے چھتیس روزے ہوئے اور چھتیس کو دس گنا بڑھانے سے تین سو ساٹھ روزے ہوئے اورقمری سال لگ بھگ اتنے ہی دنوں کا ہوتا ہے ، اس طرح رمضان کے ساتھ شوال کے روزے رکھنے والاگویاپورے سال روزہ رکھنے والا ہوجاتا ہے۔

انسان رمضان کے بعد تھوڑی مزید ہمت سے کام لے تو پورے سال کے روزوں کا اجروثواب سمیٹ سکتا ہےاور اگر کوئی یہ مستقل معمول بنالے کہ رمضان المبارک کے بعد شوال کے روزے رکھنے کا اہتمام کرے تووہ صائم الدھریعنی پوری زندگی روزے رکھنے والا شمار ہوگا۔حق تعالیٰ شانہ کی خصوصی عنایت ہے کہ کم پربھی زیادہ نوازتے ہیں،رمضان کی طرح یہ موقع بھی سال میں صرف ایک بار آتا ہے،اس لیے اسے غنیمت سمجھنا چاہیے۔شوال کا پہلا دن یعنی عید کا دن چھوڑ کرپورے مہینے میں جس طرح آسانی اور سہولت ہو،یہ روزے رکھے جاسکتے ہیں،مسلسل اور لگاتار چھ روزے رکھنا ضروری نہیں ہے، بلکہ بیچ میں وقفہ اور ناغہ بھی کرسکتے ہیں۔ان نفلی روزوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ فرض روزوں میں اگر کوئی کمی یا کوتاہی ہوجائے تو ان سے ان کی تلافی ہوجائے گی،اس لحاظ سے دیکھیں تو ان روزوں کو رمضان کے روزوں کے ساتھ وہی نسبت ہے جو سنتوں اور نفلوں کو فرض نمازکے ساتھ ہے۔

اقراء سے مزید