آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ذیقعد 1441ھ 6؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا کے دنوں میں غمگین سلیمانی پہلے سے زیادہ غمگین رہنا شروع ہو گیا ہے۔ غمگین سلیمانی اپنے بچپن ہی سے غمگین تھا چنانچہ شنید ہے کہ اپنی پیدائش کے وقت وہ دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ رویا تھا۔ جب یہ ذرا بڑا ہوا تو اس کے والدین کی خواہش تھی کہ یہ پنگھوڑے میں یا ان کی گود میں اسی طرح مسکرائے جیسے دوسرے بچے مسکراتے ہیں اور ایسے موقعوں پر سمجھا جاتا ہے کہ دراصل پریاں انہیں جھولا دے رہی ہیں لیکن غمگین سلیمانی کے چہرے پر کبھی مسکراہٹ نہیں دیکھی گئی۔ اس کے والدین اسے ہنسانے کے لئے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر ’’کھچ کھچ کھچ‘‘ بھی کہتے، اسے ہوا میں اچھالتے، بےسروپا سی باتیں کرتے اور مضحکہ خیز شکلیں بناتے لیکن یہ پکا سا منہ بنائے رکھتا۔ وہ تو جب اس نے بولنا شروع کیا تو پتا چلا کہ وہ پیدائش کے بعد سے اب تک غمگین کیوں نظر آتا ہے کیونکہ اسے کورونا کے حوالے سے کشف ہو گیا تھا اور یوں ہر وقت یہ خیال اسے غم زدہ رکھتا کہ ایک دن اس نے مر جانا ہے۔ جب اس کی والدہ کو بیٹے کی اس پریشانی کا پتا چلا تو اس نے صدقے واری جاتے ہوئے کہا ’’میرے غمگین بیٹے، اللہ تمہیں میری عمر بھی لگائے لیکن دیکھو وبائیں آتی بھی ہیں اور چلی بھی جاتی ہیں، تم ان دنوں کم از کم ایک آدھ دفعہ تو مسکرا لیا کرو‘‘ مگر اس نے اپنی والدہ کو بہت دکھ بھرے انداز میں جواب دیا ’’والدہ، مسکرانے سے موت ٹل تو نہیں سکتی‘‘۔

غمگین سلیمانی کا ایک اور واقعہ اس کے دوست سناتے ہیں کہ جب میٹرک کے امتحان میں وہ اپنی کلاس میں اوّل آیا تو دوست اسے مبارک باد دینے اس کے گھر گئے مگر وہ بہت دکھی نظر آ رہا تھا۔ دوستوں نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے ایک آہ بھر کر کہا ’’اگلے سال کوئی اور لڑکا کلاس میں اوّل آ جائے گا‘‘۔ غمگین کو عالمِ شباب میں ایک لڑکی سے محبت ہو گئی کیونکہ وہ اس سے بھی زیادہ دکھی تھی ۔ وہ ایک ٹی وی چینل سے وابستہ تھی اور لوگوں کو دکھ بھرے مناظر دکھا دکھا کر رلاتی رہتی تھی۔ اسے جب پتا چلتا کہ کہیں کوئی حادثہ ہوا ہے تو وہ فوراً اپنے کیمرہ مین کے ساتھ جائے حادثہ پر پہنچتی اور بین کرتی عورتوں کو دکھاتی۔ غمگین کی یہ دوست شاعرہ بھی تھی، وہ ایسے شعر کہتی کہ فانی بدایونی کی روح بھی زار و قطار روتی نظر آتی۔ ان دونوں کے مشترکہ دوستوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جائیں، ان کی خوب نبھے گی مگر غمگین نے ایک آہِ سرد کھینچی اور کہا ’’اگر شادی کی تو بچے ہوں گے چنانچہ ہم یہ رسک نہیں لے سکتے‘‘۔ دوستوں نے پوچھا ’’اس میں رسک کی کون سی بات ہے؟‘‘ غمگین سلیمانی نے جواب دیا ’’رسک یہ ہے کہ ہماری شادی پر ہمارے خاندان والے خوش ہوں گے لیکن نہ ہم خوش رہنا چاہتے ہیں اور نہ دوسروں کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ دنیا فانی ہے چنانچہ ہم یہ عرصہ رو دھو کر ہی گزارنا چاہتے ہیں‘‘۔ ان دنوں یہ غیر شادی شدہ جوڑا اگرچہ اپنی خوشی ظاہر نہیں کرتا لیکن ان کی گفتگو سے ان کی اندر کی خوشی بہرحال چھلکتی ہے کیونکہ پوری قوم کورونا کے المیہ واقعات سے اداسی کی زد میں آئی ہوئی ہے، جس پر ان کی خوشی سنبھالے نہیں سنبھلتی۔ غمگین سلیمانی کی ٹی وی اینکر دوست تمام چینلوں کے اینکر پرسنز کا ایک اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں وہ یہ تجویز ان کے سامنے رکھے گی کہ ان دنوں ٹی وی چینلوں پر پہلے سے زیادہ اندوہناک مناظر دکھائے جائیں تاکہ پاکستانی قوم حالات کی بہتری کی جس امید پر زندہ ہے وہ بھی ختم ہو جائے۔ نیز پاکستانی قوم کے مختلف طبقوں میں جو مثبت علامتیں پائی جاتی ہیں انہیں سامنے نہ لایا جائے تاکہ غمگین سلیمانی اور اس کی اینکر پرسن دوست لوگوں کو یہ یقین دلا سکیں کہ دائمی صداقت صرف آہ و زاری ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ عارضی ہے۔

مگر ہماری پاکستانی قوم بھی بہت ڈھیٹ ہے۔ وہ آہ و زاری کے بجائے بحرانوں کا مقابلہ پامردی سے کرنے کی قائل ہے بلکہ ہمارے درمیان تو ایسے ستم ظریف بھی موجود ہیں جو غمگین سلیمانی اور اس کی غم زدہ اینکر پرسن دوست کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ چنانچہ ایک ایسے ہی ستم ظریف نے ان کے ’’دکھوں‘‘ کا مداوا کرنے کی ایک تجویز سامنے رکھی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ رب کی ملائی ہوئی یہ جوڑی ایک نارمل سوچ کی حامل ہو سکتی ہے، اگر ان کی شادی زبردستی کرا دی جائے۔ دوستوں نے اس ستم ظریف کو بتایا کہ غمگین سلیمانی شادی کے بھی خلاف ہے اور وہ بار بار انکار کر چکا ہے جس پر یہ ستم ظریف سوچ میں پڑ گیا، وہ کافی دیر سر نیہوڑائے بیٹھا رہا پھر اس نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور بولا ’’اب میرے پاس کہنے کی کچھ گنجائش نہیں سوائے اس کے کہ غمگین سلیمانی کا میڈیکل چیک اپ کرایا جائے تاکہ اس کی ’’مایوسی ‘‘ کی اگر کوئی طبی وجہ ہے تو وہ سامنے آئے۔

گزشتہ روز مزید غمگین لگ رہا تھا۔ میں نے پوچھا ’’غمگین صاحب خیریت تو ہے‘‘ بولا ’’مجھے رات کو خواب آیا کہ کل مجھے مر جانا ہے‘‘ میں نے کہا ’’برادر اس میں پریشانی کی کیا بات ہے، تم تو ساری عمر اس کے انتظار میں اپنی خوشیوں کو قریب نہیں آنے دیتے رہے‘‘۔ لرزتی آواز میں بولا ’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن....‘‘ اس کے ساتھ ہی اس نے رونا شروع کر دیا۔ مجھ سے اس کی یہ حالت دیکھی نہ گئی چنانچہ میں نے اسے مخاطب کیا اور کہا ’’تمہیں پتا ہے میں اولیاء اللہ کی اولاد میں سے ہوں، رات کو میں نے تمہیں خواب میں دیکھا اور مجھے بشارت ہوئی کہ تم کل فوت نہیں ہو گے‘‘۔ یہ سنتے ہی غمگین کے چہرے پر پہلی بار میں نے شادمانی کی جھلک دیکھی مگر پھر یہ فوراً ہی غائب ہو گئی۔ مگر اگلے دن وہ میرے پاس آیا اور کہا ’’اگر کل نہیں پرسوں تو میرا فوت ہو جانا یقینی ہے‘‘ اور پھر اس نے رونا شروع کر دیا۔ یہ تو مجھے بعد میں پتا چلا کہ اس نے کہیں یہ خبر پڑھ لی تھی کہ ابھی کورونا کی ایک اور لہر آنی ہے.... مگر اسے کسی اور کی نہیں صرف اپنی فکر ہے، غمگین سلیمانی تینوں اللہ پُچّھے!