آپ آف لائن ہیں
اتوار20؍ذیقعد 1441ھ 12؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ بدھ کے روز ملک کے طول و عرض میں بیشتر پٹرول پمپوں پر راتوں رات شہریوں کو پٹرول کی سپلائی بند کر دی گئی۔ رات گئے تک شہری پٹرول کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے جبکہ موقع پرست عناصر نے پٹرول کی مقدار کا پیمانہ کم کرتے ہوئے لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔ اوگرا نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ تیل کمپنیوں کو شو کاز نوٹس جاری کیے ہیں جو بلاشبہ اپنی جگہ اہم کارروائی ہے۔ سر دست مشکوک ڈپووں پر چھاپے مار کر پٹرول کی رسد معمول پر لانے کی ضرورت ہے اور صورتحال کے ذمہ دار عناصر کو بےنقاب کرکے قانون کی گرفت میں لانا چاہئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بیشتر مقامات پر قلت کے باعث راشننگ کرتے ہوئے پٹرول پمپ مالکان کی طرف سے موٹر سائیکل سواروں کو سو روپے اور گاڑی مالکان کو دس لیٹر سے زیادہ پٹرول نہیں دیا جا رہا۔ یکم جون کو جب پٹرول کی قیمتوں میں مزید کمی کی جارہی تھی پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے اوگرا کو ارسال کیے گئے خط میں متنبہ کیا گیا تھا کہ آئندہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے ممکنہ اضافے کا مالی فائدہ حاصل کرنے کے لئے ملک بھر میں پٹرول پمپوں پر مصنوعات کی فراہمی میں کمی کی جا سکتی ہے جبکہ قواعد کے تحت تیل کمپنیاں اور ریفائینریاں اس بات کی پابند ہیں کہ تیل کا کم از کم اکیس دن کا ذخیرہ رکھیں جبکہ ذرائع کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے ملک میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کا مجموعی اسٹاک اوسطاً گیارہ دن سے زیادہ کانہیں تھا۔ اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں شہر شہر جہاں پٹرول کا غیرقانونی کاروبار ہو رہا ہے یہ عناصر سرکاری اہلکاروں کی سرپرستی میں آگ سے کھیلتے ہوئے غیرمحفوظ طریقے سے پٹرول ذخیرہ کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ لاک ڈائون ختم ہونے کے بعد کاروبار زندگی تبھی معمول پر آسکے گا جب شہریوں کو پٹرول سمیت ضروریات زندگی بلاتعطل دستیاب ہونگی۔