آپ آف لائن ہیں
جمعرات 15؍ ذی الحج 1441ھ6؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

حمنہ اسحاق، سندھ مدرستہ الاسلام یونی وَرسٹی

ہم سب اپنی اپنی زندگیوں میں مگن تھے۔ وہ زندگیاں، جومشینوں کی طرح رواں دواں تھیں۔ کسی کو کبھی خیال ہی نہ آیا کہ ہم توایک ریس میں دوڑے جا رہے ہیں، ایسی ریس، جس کا کوئی اختتام ہی نہیں، جس میں ہر کوئی بس دوسرے پر سبقت لے جانے کی غرض سے بنا منزل کا تعیّن کیے بھاگے جا رہا ہے۔ حضرتِ انسا ن ، اپنے خالق ومالک کو بھول بیٹھا تھا، بلکہ خود کو خدا سمجھنے لگا تھا۔ بس پھر کیا تھا، اس دنیا جہاں کے مالک نے ایک اَن دیکھے، معمولی ، حقیر وائرس کے ذریعے سب کو اپنے ہونے کا احساس دلا دیا۔ کورونا نامی ایسی وبا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تھم گیا۔کیا زندگیاں، کیا کاروبار، سب رُک گیاہے۔ جیسے ہماری مشینی زندگی کا بٹن اسٹاپ کر دیا گیاہو۔ انسانوں کو بتادیا گیا کہ بس ربّ کے’’ کُن‘‘ کہنے کی دیر ہےاورپھروہ جو چاہے گا، وہی ہوگا۔

وہ ممالک ، سُپر پاورز، ترقّی یافتہ اقوام جو خود کو سب سے بہتر، طاقت وَر سمجھتی تھیں ،آج اِک معمولی وائرس کورونا کے سامنے بے بس ہیں۔ چِین کے صوبے ووہان سے پھیلنے والا یہ وائرس جب پاکستان پہنچا ،تو اس سے بچنے کے لیے صوبائی اور قومی سطح پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکے۔ لاک ڈاؤن ، جو عوام کو سزا تو لگا لیکن اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں، بالخصوص نوجوان نسل کو معلوم ہوا کہ گھر صرف سونے کے لیے اور گھر والے صرف ساتھ رہنے کے لیے نہیں ہوتے ،ان سے دِلوں کا جُڑنا، اُن کے ساتھ وقت گزارنا بھی انتہائی ضروری ہے۔مشینی زندگیاں جب ’’پاز‘‘ ہوئیں تو احساس ہوا کہ حقیقی زندگی، اپنوں کے ساتھ مل بیٹھنے کی خوشی کیا ہوتی ہے۔ 

وہ لوگ، کام اور معمولات جو ہماری زندگیوں کا لازمہ بن چُکے تھے،جن کے بغیر زندگی کا تصوّر ہی ممکن نہیں لگتا تھا ، اب پتا چلا کہ ان کے بغیر بھی زندگی ممکن اور پُر سکون ہے۔ پہلے جن گھر والوں سے صرف سلام، دُعا کی حد تک بات چیت ہوتی تھی ، اب اُن کے بغیر دن ہی نہیں گزرتا۔ یہ وبا شاید ہمیں یہ بتانے، سکھانے آئی ہے کہ یہ جو ہم سب آگے بڑھنے کی دَوڑ میں لگے ہیں ناں، اگر اللہ پاک نہ چاہے، تو ہم ایک قدم بھی اُٹھا نہیں سکتے۔ کورونا کا آنا ، زندگیوں کا تھمنا ، اصل زندگی سے ملوا گیا۔ دوسری جانب، ہمیں یہ احساس بھی ہوا کہ زندگی کی اصل قدر و قیمت کیا ہے، اس صحت مند زندگی، خوش گوار ماحول، آزادی کو جسے ہم ’’فار گرانٹڈ‘‘ لیتے تھے ، وہ اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے، جس پر ہم نے کبھی اپنے مالک کا شُکر ہی ادا نہیں کیا۔

یاد رکھیں ! ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شُکر ادا کرتے رہیں،کیوں کہ ہم نہیں جانتے کہ آنے والا وقت کیسا ہوگا،تو بعد میں پچھتانے اور یادوں پر آنسو بہانے سے اچھا ہے کہ ہم آج ، اس پَل کو بھر پور جی لیں۔ اپنوں کا ساتھ انجوائے کرلیں، اس سے پہلے کہ یہ وقت گزر جائے،اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ اپنی شخصیت کو ، خوبیوںکو تلاش کریں، انہیں نکھاریں، کیوں کہ یہ وقت بھی پچھلے وقتوں کی طرح بالآخر گزر ہی جائے گا اورپھر ایک کہانی کی صُورت، ہماری کتابوں،تاریخ کا حصّہ بن کےرہ جائے گا۔