آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نیپرا کچہری،KE کا فرنس آئل کی قلت، لوڈشیڈنگ بڑھنے کا اعتراف


کراچی میں غیر اعلانی لوڈشیڈنگ پر نیپرا کی کھلی کچہری میں سی ای او کےالیکٹرک مونس علوی نے بتایا کہ 22 جون کے بعد سے کراچی میں لوڈ شیڈنگ بڑھی ہے، کے الیکٹرک کے پلانٹس کو فرنس آئل کی قلت ہوئی، پی ایس او وفاقی حکومت کو آگاہ کر چکا تھا کہ کےالیکٹرک کی تیل کی ضرورت پوری نہیں ہوسکے گی، پی ایس او نے وفاقی حکومت سے تیل درآمد کی اجازت مانگی تھی۔

چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کی زیر صدارت نیپرا میں کے الیکٹرک کے حوالے سے عوامی سماعت ہوئی جس میں نیپرا اتھارٹی کے چاروں صوبوں کے تمام ممبران اور دیگر نے شرکت کی، جبکہ شہری زوم لنک کے ذریعے کھلی کچہری میں شرکت کر سکتے ہیں۔

وائس چیئرمین نیپرا سیف اللہ چٹھہنے بتایا کہ آج کی سماعت کا مقصد کراچی میں لوڈشیڈنگ پربات کرنا ہے،اتھارٹی آج تمام اسٹیک ہولڈرز کو سنے گی۔

نیپرا نے کہا کہ کےالیکٹرک نیپرا کو بجلی میں کمی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ تیل کی کمی بتاتی رہی،سی ای او کےالیکٹرک مونس علوی نے کہا کہ 22 جون کے بعد کراچی میں لوڈ شیڈنگ بڑھی ہے، عام حالات میں لوڈشیڈنگ 3سے ساڑھے 7گھنٹے تک ہوتی ہے۔

سی ای او کےالیکٹرک نے کہا کہ پی ایس او وفاقی حکومت کو لکھ چکا تھا کہ کےالیکٹرک کی تیل کی ضرورت پوری نہیں ہوسکے گی،پی ایس او نے وفاقی حکومت سے تیل درآمد کی اجازت مانگی تھی۔

مونس علوی کاکہنا تھا کہ کے الیکٹرک کے پلانٹس کو فرنس آئل کی قلت ہوئی، تیل فراہمی کا مسئلہ کےالیکٹرک کوہی نہیں سرکاری تھرمل پاور پلانٹس کو بھی رہا ہے ، پی ایس او کو کےالیکٹرک کے پاورپلانٹس کیلئے تیل درآمد کی اجازت تاخیر سے ملی ہے۔

چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی نے سی ای او کے الیکٹرک سے کہا کہ آپ نے بجلی کی طلب کا اندازہ کیوں نہیں لگایا؟ آپ ذمہ داری لیں یا نہ لیں، آپ ہمیں فیل کر رہے ہیں۔

توصیف ایچ فاروقی نے کہاکہ نجکاری کے باوجود کے الیکٹرک میں بہتری نہیں آ رہی، گیارہ مہینے سے آپ نے گرڈ اسٹیشنز کو اپ گریڈ نہیں کیا، آپ کو وفاق اضافی بجلی فراہم کر بھی دے تو آپ کی صلاحیت نہیں کہ وہ اٹھا سکیں۔

چیئرمین نیپرا نے کے الیکٹرک کو بجلی کی تقسیم اور پیداوار سمیت تمام تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اسکول، کالجز اور شادی ہال بند ہونے سے کراچی میں بجلی کی 300 سے 400 میگا واٹ طلب کم ہے، اگر اب یہ صورت حال ہے تو جب اسکول کالجز اور شادی ہال کھلیں گے تو پھر کیا ہوگا۔

نیپرا کی کھلی کچہری میں حکومتی جماعت پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے ویڈیو لنک پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیپرا بطور ریگولیٹر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوچکا ہے، اس نے کراچی کے شہریوں کو ایک اجارہ دار کمپنی کے سامنے چبانے کے لئے پیش کردیا ہے، کےالیکٹرک کو بتانا ہوگا کہ کتنے عرصہ میں لوڈشیڈنگ فری کر سکتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید