آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسے حرماں نصیبی، نا اہلی یا بدعنوانی سے تعبیر کیا جائے یا کچھ اور کہ 60کی دہائی میں ایئر مارشل نور خان کی سربراہی میں دنیا کی بہترین ایئر لائن پی آئی اے اس حال کو پہنچ گئی ہے کہ اس کے پائلٹس کے لائسنس مشکوک قرار دیئے جانے کے بعد یورپ، ملائشیا، برطانیہ اور اب امریکہ نے بھی پاکستانیوں کی واپسی کے لئے پی آئی اے کی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ ترجمان پی آئی اے کے مطابق یہ اقدام پائلٹس کے مشتبہ لائسنسز پر اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کی کارروائی پر کیا گیا تاہم امریکی اعتراضات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ کے مطابق یہ پابندی پی آئی اے کی ہر قسم کی پروازوں پر لگائی گئی ہے۔ 22؍جون کو پی آئی اے کی لاہور سے کراچی جانے والی پرواز 8303کے حادثے کے بعد 24؍جون کو قومی اسمبلی میں حادثے کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے اس بیان پر کہ 860میں سے 262ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا، دنیا کا ششدر رہ جانا بے جا نہ تھا۔ 26؍جون کو ایسے پائلٹس کو گرائونڈ کر دیا گیا، دنیا اس خبر اور اقدام سے اس بنا پر بے پروائی اختیار نہ کر سکتی تھی کہ ہوا بازی ایک مربوط عالمی صنعت ہے۔ اس کے پائلٹ کڑے مراحل طے کر کے آتے ہیں جن میں تین ہزار گھنٹے پرواز کے علاوہ مختلف النوع کے تحریری امتحان بھی شامل ہوتے ہیں۔ وزیر ہوا بازی اگر محض ایک دن میں طیارے کے حادثے کے عوامل تک پہنچ کر فہرستیں تک تیار کر چکے تھے تو بھی بہتر تھا کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جاتااور معاملات کا زیادہ باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ۔اب دنیا کا اعتماد بحال کرنے کا یہی راستہ دکھائی دیتا ہے کہ ہوا بازی کے عالمی ماہرین کو اپنے ہاں بلا کر معاملات کی تحقیق بھی کروائی جائے اور ممکن ہو تو لائسنس اجرا کو بھی ان کی منظوری سے مشروط کر دیا جائے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998