آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اٹلی، بانگ دینے پر مرغے پر 33 ہزار روپے جرمانہ

دنیا بھر کے مختلف علاقوں میں رہنے والے اکثر افراد صبح سویرے مرغے کی بانگ (اذان) دینے کی فطرت سے بخوبی آگاہ ہوں گے اور عموماً کچھ لوگ مرغوں کی بانگ کے ساتھ ہی اپنی صبح کا آغاز کرتے ہیں تاہم ہر کسی کو مرغوں کی بانگ اچھی نہیں لگتی اور کچھ لوگ مرغوں کی اس عادت کو اپنی نیند میں خلل مانتے ہیں اور اس سے نالاں نظر آتے ہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ اٹلی کے ٹاؤن کاسٹیراگا ویڈراڈو میں پیش آیا جہاں ایک 83سالہ انجیلو بولیٹی نامی بزرگ شخص کو علی الصبح مرغے کی مسلسل بانگوں کی وجہ سے 166 یوروجرمانے کا سامنا ہے۔

اطالوی شخص کا کہنا کہ کارلینو نامی مرغا ان کے باغ میں رہتا تھا جو ان کی ملکیت تھا اور اس علاقے میں گزشتہ 10 برس سے تھا، انجیلو بولیٹی نے آخر کار اپنے پڑوسیوں کی شکایات کے بعد مرغے کو اپنے ایک دوست کے حوالے کر دیا تھا۔

بعدازاں انہوں نے کارلینو کو عارضی طور پر اپنے دوست سے اس وقت واپس لیا تھا جب ان کا دوست 20 روز کی چھٹیوں پر گیا تھا لیکن پڑوسیوں کی جانب سے مرغے کی واپسی سے متعلق شکایت کے بعد پولیس افسر نے انجیلو بولیٹی کے گھر پر چھاپہ مارا۔

دراصل مرغے کی آواز صبح ساڑھے 4 بجے کے قریب سنی گئی تھیں اورمرغے کے مالک پر مقامی قانون کی بنیاد پر تقریباً 200 ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیاجس کے مطابق پالتو جانوروں کو پڑوسیوں کے مکانات سے کم از کم 32.8 فٹ دور ہونا چاہیے۔

انجیلو بولیٹی نے بتایا کہ وہ اس قانون سے لاعلم تھے اور وہ جرمانے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ مرغے کی بانگوں سے تنگ آکر لوگوں نے شکایت درج کروائی ہو، اس سے قبل فرانس میں ایک جوڑے نے علی الصبح بانگ دینے والے مرغے کے خلاف عدالت میں کیس کردیا تھا لیکن عدالت نے چند سماعتوں اور وکلاء کے درمیان زبردست بحث کے بعد انسانوں کے بجائے مرغے کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔

دلچسپ و عجیب سے مزید