آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان کےجنوبی حصے میں واقع سندھ کا شمارامن و امان کی صورت حال کے حوالے سے ملک کے حساس صوبے میں ہوتا ہے۔یہاں بالائی علاقوں میں تین درجن کے قریب قبائل آباد ہیں، جن میں جدی پشتی دشمنیاں چلی آرہی ہیں۔ان کے درمیان ہونے والے درجنوں قبائلی تصادم میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں بے گناہ افراد کا تناسب زیادہ ہے۔ ان تنازعات کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہوتی، سرداروں کی اناء، اور آپس کی چپقلش ، تکرار کی حدود سے نکل کر گروہی تصادم میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ 

سندھ کی تاریخ کاسب سے ہولناک تنازع جتوئی اور مہر قبائل کے درمیان کچے کی صرف ایک ایکڑ زمین پر شروع ہوا تھا جس میں 300 سے زائد افراد مارے گئےتھے۔صوبے کے بالائی علاقوں کے عوام قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے خوف و ہراس کی فضا میں زندگی گزارتے ہیں ۔ قبائل کے درمیان تصادم کا ایک واقعہ کچھ عرصے قبل قاضی احمد میں کھوسو اور جتوئی قبیلے کے درمیان معمولی بات پر رونما ہوا تھا جس میں زبانی تکرارکے بعد خون خرابے تک نوبت پہنچ گئی ۔جتوئی قبیلے کے افراد نے ایک شخص کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے کھوسہ قبیلے کے گھروں کو جلا دیا تھاجب کہ تصادم کے دوران ایک درجن سے زائدلوگ مارے گئے۔

ضلع شہید بینظیر آباد کی تحصیل دولت پور میں ڈاہری قبیلے کی دو برادریوں کے درمیان چپقلش چل رہی ہے ۔ڈاہری قبیلے کے ایک سردار محمد اسماعیل ڈاہری جب کہ دوسرے سردار خان محمد ڈاہری کے درمیان طاقت کے حصول کی جنگ کی بھٹی میں اب تک کئی افراد بھسم ہوگئےہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ڈاہری قبیلے کے دونوں سرداروں کا تعلق صوبے کی برسراقتدار جماعت سے ہے اور دونوں ہی مختلف ادوار میں نہ صرف اقتدار کا حصہ رہے بلکہ جماعت کی بااثر شخصیات کے قریبی حلقوں میں شامل رہے ہیں ۔ 

حال ہی میںاس چپقلش کی وجہ سے ایک اٹھارہ سالہ نوجوان وجاہت علی ڈاہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ مقتول کے بارے میں بتایا جاتاہے کہ وہ سردار محمد اسماعیل ڈاہری کا بھانجا تھا۔ وجاہت کے قتل کی ایف آئی آر میں نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیاتھا لیکن بعد ازاں ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج نواب شاہ کو دی گئی درخواست میں سردار خان محمد ڈاہری ، ان کے چچاسردار محمد مٹھل ڈاہری کے علاوہ بشیر ڈاہری اور اعجاز ڈاہری کو بھی اس مقدمے میں شامل کرنے کی استدعا کی گئی ۔ 

سردار خان محمد ڈاہری،سردار محمد مٹھل ڈاہری سمیت چاروں افراد نے سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ بینچ سے عبوری ضمانت کے لئے رجوع کیا جہاں عدالت نے سردار خان محمد ڈاہری ان کے چچا سردار محمد مٹھل ڈاہری اور بشیر ڈاہری کی عبوری ضمانت منظور کرلی جبکہ اعجاز ڈاہری کی درخواست ضمانت مسترد ہونے پر عدالت کے احاطے سے دولت پور پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا ۔اس سلسلے میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سردار محمد اسماعیل ڈاہری صوبے کی برسراقتدار جماعت کے سربراہ کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں جب کہ ان کے مخالف، سردار خان محمد ڈاہری اور سردار محمد مٹھل ڈاہری بھی اسی جماعت کے ٹکٹ پرانتخاب جیت کر اقتدار کا حصہ رہے ہیں۔ 

قبیلے کے ان دونوں خاندانوں کے درمیان وقتاً فوقتاً طاقت کے مظاہرے بڑھ کر خوں ریزی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ قبیلے کے ہی نوجوان وجاہت علی ڈاہری کے قتل کے بعد دونوں برادریوں سیاسی مخاصمت انتہائی عروج پر پہنچ گئی ہے ۔دولت پور کے سیاسی و سماجی حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے اس صورت حال کے تناظرمیں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہےکہ دو سرداروں کا آپس کا تنازعہ کہیں علاقے کی دیگر برادریوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر کسی بڑے قبائلی تصادم کا سبب نہ بن جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی ، سماجی و مذہبی اکابرین متحارب فریقین کے درمیان ثالثی کا کردارادا کریں۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید