آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کنگنا رناوت عدالت میں کیوں رو پڑیں؟

ممبئی میں اپنے گھر کی توڑ پھوڑ سے متعلق بلدیاتی ادارے کے خلاف عدالت کا رخ کرنے والی کنگنا رناوت عدالتی ریمارکس پر رو پڑیں۔

ممبئی ہائی کورٹ نے میونسپل کارپوریشن کو باور کروایا ہے کہ وہ درخواست گزار کی پٹیشن کو فوری سنیں گے، جبکہ گھر کو مسمار کرنے سے متعلق ادارے کو جواب جمع کروانے کا بھی حکم دے دیا۔

عدالتی کارروائی سے متعلق سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پیغام جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں ہائی کورٹ کے ریمارکس پر میرے آنسو آگئے۔

کنگنا کا کہنا تھا کہ معزز جج صاحب یہ دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے، ممبئی میں ہونے والی بارشوں کے پیشِ نظر میرا گھر واقعی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

انھوں نے کہا کہ آپ نے میرے مسمار ہوئے گھر کے بارے میں بہت ہمدردی اور تشویش کے ساتھ سوچا جو میرے بہت قابل احترام ہے، اس سے میرے غموں کا مداوا ہوا۔

کنگنا نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ مجھے وہ سب کچھ لوٹانے کا شکریہ جو میں نے کھویا تھا۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ نے کنگنا کے گھر کو مسمار کرنے کے لیے خط پر دستخط کرنے والے میونسپل کارپوریشن کے افسر کو کنگنا کی درخواست پر جواب جمع کروانے کا حکم دیدیا۔

عدالت میں میونسپل کارپوریشن کے دوسرے افسر نے جواب جمع کروانے کے لیے وقت مانگا تو عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کو یہاں مزید وقت چاہیے، لیکن دوسری جگہوں پر آپ بہت تیز ہیں، ممبئی میں بارشوں کے دوران ہم اس گھر کو اس طرح نہیں چھوڑ سکتے۔‘

واضح رہے کہ کنگنا رناوت نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے گھر کو مسمار کرنے کے لیے اقدامت کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

بعدازاں انھوں نے اپنی درخواست میں ترمیم کرتے ہوئے میونسپل کارپوریشن اور اس کے افسران سے گھر کی توڑ پھوڑ کی وجہ سے 2 کروڑ روپے کا نقصان پورا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

اداکارہ نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا کہ ان کے گھر کو ذاتی دشمنی کی آڑ میں مسمار کیا گیا جس کی وجہ شیوسینا کے سربراہ اور وزیراعلیٰ مہاراشٹرا ادھو ٹھاکرے کے خلاف ان کے بیانات تھے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید