آپ آف لائن ہیں
منگل9؍ربیع الاوّل 1442ھ 27؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لبنان کے نئے وزیر اعظم مصطفیٰ ادیب بھی ایک ماہ کے اندرہی مستعفی

بیروت (این این آئی)لبنان کے وزیر اعظم مصطفیٰ ادیب نے وزارت خزانہ کے امیدوار سمیت غیر جماعتی کابینہ کے قیام میں مشکلات پر اقتدار سنبھالنے کے ایک ماہ کے اندر ہی وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔ ٹی وی پر اپنے خطاب میں مصطفیٰ ادیب نے کہا کہ وہ صدر مشعل عون کی جانب سے دیے گئے حکومت کے قیام کے احکامات سے مستعفی ہوتے ہیں۔بیروت میں پورٹ پر دھماکے میں لگ بھگ 200 افراد کی ہلاکت کے بعد حسن دیب کی سابقہ حکومت نے استعفیٰ دے دیا تھا اور جرمنی کے لیے لبنان کے سابق سفیر مصطفیٰ ادیب کو 31 اگست کو حکومت کے قیام کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔البتہ دو اہم جماعتوں حزب اللہ اور ان کے اتحادی امل موومنٹ کی جانب سے شیعہ وزرا کو کابینہ میں شامل کرنے کے مطالبات کے سبب وزیر اعظم کو حکومت کے قیام میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔مصطفیٰ ادیب سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں جس کی وجہ سے اہل تشیع جماعتوں اور رہنماؤں کو خدشہ تھا کہ انہیں بالکل نظر انداز کردیا جائے گا اور انہوں نے اپنے وزرا کی تقرری کا مطالبہ کیا تھا، جہاں ان میں سے کچھ سیاستدان مخصوص دھڑوں کے لیے کٹھ پتلی کی حیثیت رکھتے ہیں۔مصطفیٰ ادیب نے ایک ایسے موقع پر استعفیٰ دیا ہے جب چند دن قبل ہی ملک کے صدر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر لبنان میں نئی حکومت جلد قائم نہ ہوئی تو یہ جہنم بن جائے

گا۔یہ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کے لیے بھی بڑا دھچکا ہے جو لبنان میں سیاسی استحکام کے قیام کے لیے کوشاں تھے کیونکہ 1975 سے 1990 تک جاری خانہ جنگی کے بعد حالیہ عرصے میں لبنان کو تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔

یورپ سے سے مزید