آپ آف لائن ہیں
بدھ9؍ربیع الثانی 1442ھ25؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مسقط کی دلکش اور حیرت انگیز تعمیرات

مسقط، عمان کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ نیشنل سینٹر برائے شماریات و معلومات عمان (این سی ایس آئی) کے مطابق، مسقط کی مجموعی آبادی تقریباً14 لاکھ ہے۔ میٹروپولیٹن کا رقبہ تقریباً3797 مربع کلومیٹر (1466مربع میل) پر پھیلا ہوا ہےاور اس میں ولایت کےنام سے چھ صوبے شامل ہیں۔ 

یہ شہر پہلی صدی عیسوی سے مشرق اورمغرب میں تجارت کیلئے مشہور بندرگا ہ کے نام سے جانا جاتاہے۔ اس شہر پر دیسی قبائل ساتھ ساتھ غیر ملکی طاقتوں جیسے فارس، پرتگالی سلطنت، آئریان یونین اور سلطنت عثمانیہ نے مختلف ادوار میں حکومت کی ۔ خلیج عمان میں ایک اہم بندرگاہ کی حیثیت سے مسقط نے غیر ملکی تجارت کرنے والے فارسیوں اور بلوچوں کو اپنی جانب راغب کیا۔1970ءمیں عمان کے حکمران بننے والے سلطان قابوس بن سعید نے ایک وسیع سلطنت قائم کی اور ان کا دور مسقط کے لیے سنہرا ترین دور تھا۔

عمانی طرزِ تعمیر کی بات کریں تو وہ اپنے ڈیزائن، اسلوب اور سجاوٹ کے لحاظ سے عرب کی منفرد فن تعمیر میں سے ایک مانی جاتی ہے۔ عمان میں عمارات نہ صرف غیر معمولی عمانی تعمیراتی طرز کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ وہ عمان کی عمدہ ثقافت اور اس کے قدیم ورثے کی بھی عکاس ہیں۔ چنانچہ آج ہم مسقط کی سب سے متاثر کن عمارتوں کا ذکر کریں گے جن کے بارے میں جان کر آپ کے دل میں وہاں جانے کی خواہش مچلنے لگے گی۔

العالم محل

العالم محل حکمراں خاندان سے تعلق رکھنے والی چھ رہائش گاہوں میں سے ایک ہے اور اس کی تاریخ 200سال پر محیط ہے۔ اسے سلطان بن احمد کے دورِ حکمرانی (1792-1802ء) میں تعمیر کیا گیا۔ 1972ء میں اس کی شاہی رہائش گاہ کے طور پر ازسرِنوتعمیر کی گئی۔ سنہرے اور نیلے رنگوں سے مزّین یہ محل ایک خوبصورت اور منفرد فن تعمیرات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں سنگ مرمر کے فرش، عمانی اسٹائل میں بنی لکڑی کی بالکنیاں اور چار دیواری میں گھرے خوبصورت باغات ہیں جو سب عمانی فنِ تعمیرکو سامنے لاتے ہیں۔

رائل اوپیرا ہاؤس

مسقط میں واقع رائل اوپیرا ہاؤس ملک میں میوزیکل آرٹس اور کلچر کا مرکزی مقام ہے۔ اوپیرا ہاؤس2011ء میں قائم کیا گیا تھا، جس میں کنسرٹ تھیٹر اور آڈیٹوریم کے علاوہ منفرد انداز میں تیار کردہ لینڈ اسکیپ گارڈن کے ساتھ ایک ثقافتی مارکیٹ بھی موجود ہے۔ اس مارکیٹ میں ریٹیل دکانیں، پرتعیش ریستوران اور ایک آرٹ سینٹر موجود ہے۔ 

عمارت کے تعمیراتی ڈھانچے سے لے کر اس کا انٹیریئر ڈیزائن جو کہ آرائشی دیواروں، کرسٹل فانوس، سرخ قالینوں، خوبصورت روشنیوں اور لکڑی کی دیواروں پر مشتمل ہے، رائل اوپیرا ہاؤس کو عمان کی حیرت انگیز اور عصری فن تعمیرکی شاندار عمارت کے رُوپ میں پیش کرتا ہے۔

سلطان قابوس گرینڈ مسجد

2001ء میں تعمیر کی جانے والی سلطان قابو س گرینڈ مسجد عمان کی سب سے مشہور مسجد ہے۔ اس کا رقبہ 4620مربع میٹر سے زائد پر محیط ہے۔ مسجد میں ایک مرکزی سنہرا گنبد نمایاں ہے جو 33میٹربلند اور 24میٹر ضخیم ہے۔ مرکزی مینار90میٹر اونچا جبکہ دیگر چار مینار 45.5 میٹربلند ہیں۔ ا س کی خوبصورت محرابیں اور نقاشی والی دیواریں دیکھنےسے تعلق رکھتی ہیں۔ 

اس کا محراب14میٹر بلند ہے، اس طرح یہ عالم اسلام میں سب سے بڑا محراب گردانا جاتاہے۔ اس مسجد میں بیک وقت 20ہزار نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اس مسجد کی تعمیر میںایرانی معماروں نےجانفشانی سے کام کیا۔ اس مسجد میں دنیا کا دوسرا بڑا قالین موجود ہے، جو4263مربع میٹر چوڑائی میں بچھایا گیا ہے۔ 

اس قالین میں ایک ارب 70کروڑ گرہیں لگائی گئی ہیں۔28مختلف رنگوں سے بنا یہ قالین نیشا پور کی600خواتین کے ہنر کا شاہکارہے۔ اس مسجد میں ایک مرکزی کرسٹل فانوس بھی ہے، جو14میٹر لمبا ہے اور غیر معمولی رنگین چھت کی سجاوٹ کو الگ ہی حسن بخشتاہے۔

المیرانی اور الجلالی قلعے

مسقط میں بےشمار قلعے ہیں، جو عمانی سلطانوں کے جاہ وجلال کو سامنے لاتے ہیں۔ پرانے مسقط شہر کی بندرگاہ پر واقع دو مشہور قلعوں، المیرانی اور الجلالی، کی تعمیر پرتگالیوں نے 1580ء میں کی تھی تاکہ بندرگاہ کو عثمانی حملوں سے محفوظ بنایا جائے۔ دونوں قلعوں کو ایک ہی وقت میں تعمیر کیا گیا تھا۔ 1650ء میں یہ عمانی فورسز کے پاس آگئے اور اس کے بعد مختلف ادوار میں ان کی تعمیرِ نو ہوتی رہی۔ 

ان کا غیر معمولی فن تعمیر عمان کے قدیم ورثہ اور بہادری سے بھرپور تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔ میرانی قلعے میں ایک پرائیویٹ میوزیم ہے، جس میں صرف سلطان کے مہانوں کو داخل ہونے کی اجازت ہوتی ہے۔ الجلالی قلعہ، المیرانی قلعے کی نقل ہے، اس لئے انہیں جڑواں قلعے کہا جاتاہے۔ یہ آج بھی فوجی اڈے کا کام دیتاہے ،جس میں داخلے کا راستہ پہاڑی پر بنی سیڑھیاں ہیں۔ اس قلعے کے قریب سونے کے فریم میں جکڑی ایک بڑی کتاب ہے، جہاں اس قلعہ کا دورہ کرنے والے معزز مہمان اپنا نام درج کرتے ہیں۔

شہر کے دروازے

الیکٹرانک گیٹس اور خیرمقدمی علامتوں کو بھول جائیں جو آپ کو دنیا کے بیشتر شہروں کے داخلی راستے پر نظر آتی ہیں۔ عمان کا ہر شہر اپنے عمدہ فن تعمیر کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاحوں کا پرتپاک استقبال کرتا ہے ، جس سے انہیں بخوبی اندازہ ہو جاتاہے کہ وہ ایک افسانوی شہر میں داخل ہوچکے ہیں۔ 

مسقط شہر کے زیادہ تر دروازے قدیم قلعوں کی شکل میں تعمیر کیے گئے ہیں۔ آپ لکڑی کے کاشی کاری والے دروازوں اور سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے اوپر چڑھ کر شہر کا نظارہ کرسکتے ہیں۔ تعمیرات کے یہ شاہکارعمانی ثقافت اور ورثے کی عکاسی کرنے میں اپنی مثال آپ ہیں۔