• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نواز شریف کیخلاف مجرمانہ سازش کے تحت مقدمہ درج


لاہور میں نواز شریف اور دیگر پارٹی رہنماؤں کیخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات مجرمانہ سازش کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔

مجرمانہ سازش کےتحت مقدمہ 40 سے زائد نامزد رہنماؤں کیخلاف شہری بدر رشید کی جانب سے تھانہ شاہدرہ میں یکم اکتوبر 2020ء کو درج کرایا گیا۔

مقدمے میں نوازشریف کی تقاریر کی تائید کرنیوالوں میں مریم نواز، راجہ ظفر الحق، شاہد خاقان عباسی ، ایاز صادق، خرم دستگیر، اقبال ظفر جھگڑا، احسن اقبال، پرویز رشید ، رانا ثنااللہ، مفتاح اسماعیل ، محمد زبیر، مریم اورنگزیب ، عطااللہ تارڑ، برجیس طاہر ، عظمی بخاری ، شائستہ پرویز ، سائرہ افضل تارڑ اور دانیال عزیز بھی شامل ہیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق نواز شریف نے لندن میں پاکستان کے مقتدر اداروں کو بدنام کرنے کیلئے اشتعال انگیز تقاریر کیں اور دشمن ملک بھارت کی ڈیکلیئر پالیسی کی تائید کی ۔

پولیس ایف آئی آر میں درج کیا گیا کہ نواز شریف کی تقاریر میں تاثر ابھرا کہ پاکستان کا نام ایف اےٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں گرےلسٹ میں ہی رہے گا۔

ایف آئی آر کے مطابق نواز شریف کی تقاریر کا مقصد بھارتی افواج کے کشمیر پر قبضہ کی کارروائیوں اور کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم سے توجہ ہٹانا ہے۔


ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف کی تقاریر کا مقصد اپنے دوست بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بالواسطہ فائدہ پہنچانا ہے، نواز شریف کی تقاریر کا مقصد عالمی برادری میں پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں اور مسلح افواج کو بدنام کرنا ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ مر یم نواز اور مسلم لیگ نون کے دیگر رہنماؤں کا نواز شریف کی تقاریر کی تائید اور حمایت قانون کی گرفت کے زمرے میں آتا ہے۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قوانین کسی سزا یافتہ مجرم کو اپنی ضمانت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیتے، پاکستانی قوانین اجازت نہیں دیتے کہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی عوام کو افواج اور حکومت کیخلاف بغاوت پر اکسایا جائے ۔

قومی خبریں سے مزید