وزیراعظم عمران خان نے اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی ٹاپ لیڈرشپ پر غداری کے مقدمات حل کرنے کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان نے نیا مطالبہ کیا۔
اجلاس کے دوران ایم کیو ایم پاکستان نے ٹاپ لیڈرشپ پر غداری کے مقدمات کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے پیش کیا۔
وزیراعظم نے مشیر داخلہ شہزاد اکبر کو معاملہ حل کرنے کی ہدایت دے دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے امین الحق نے کہا کہ ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت پر تقریر کے دوران تالی بجانے پر غداری کے مقدمات درج ہوئے۔
انھوں نے اعتراض اٹھایا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) تو حریف جماعت ہے، ان پر ابھی تک غداری کے مقدمات درج نہیں ہوئے۔
امین الحق کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم حکومت کی حلیف جماعت ہے پھر بھی ہماری قیادت پر غداری کے مقدمات درج ہوئے۔
انھوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت پر 2015 میں 28 غداری کے مقدمات درج ہوئے۔
انھوں نے درخواست کی کہ ایم کیو ایم پاکستان کی اعلیٰ قیادت پر غداری کے مقدمات واپس لیے جائیں۔
امین الحق نے بتایا کہ ان کے ساتھ ساتھ وسیم اختر، کنور نوید اور عامر خان پر بھی غداری کے مقدمات ہیں۔