آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ربیع الثانی 1442ھ26؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

انجمن یا کمیٹی کو اللہ تعالیٰ کے احکام کو بدلنے کا اختیار نہیں ہے

تفہیم المسائل

سوال: میری ایک دھاگا بنانے والی فیکٹری ہے ، جس میں چوتھائی حصہ میرے بیٹے کا ہے۔ فیملی ممبران میں میری ایک بیوی ، ایک بیٹا اور چھ بیٹیاں ہیں ۔خاندان کے معزز ثالثین کا فیصلہ ہے کہ میرے بعد پوری فیکٹری کا مالک میرا بیٹا بلال ہوگا ،کیا یہ فیصلہ شرعاً درست ہے ؟ (محمد اسلم ،لاہور)

جواب: شریعتِ مُطہرہ کی روشنی میں کسی شخص کا مال اُس کے مرنے کے بعد ترکہ بنتا ہے ،نہ کسی کی زندگی میں کوئی ترکے کا مطالبہ کرسکتا ہے اور نہ کسی شخص کی زندگی میں اُس کے ورثاء کا قطعی اور حتمی تعین کیا جاسکتا ہے ۔ ابھی ماشاء اللہ آپ حیات ہیں ،آپ کی وفات کے وقت جو شرعی وارث موجود ہوں گے ،وہ اسلامی احکامِ وراثت کے مطابق ترکے میں سے اپنا حصہ پانے کے حق دار ہوں گے ۔اللہ خوب جانتا ہے کہ کس کی موت پہلے واقع ہوگی اور کس کی بعد میں ،کون وارث بنے گا اور کون مُورِث (جس کی وراثت دوسروں کو ملے گی)؟

آپ کے بقول فیکٹری میں آپ کے بیٹے کی شراکت چوتھائی حصے میں ہے ، فیکٹری سے اپنا یہ چوتھائی حصہ وہ آپ کی زندگی میں بھی الگ کرسکتا ہے اور اگر شراکت آپ کی وفات تک جاری رہتی ہے ،تو ترکے کی تقسیم سے پہلے چوتھائی حصہ منہا کیاجائے اور بقیہ تین چوتھائی آپ کا ترکہ قرار پائے گا اور آپ کی وفات کے وقت جو ورثاء حیات ہوں گے ، اسلامی قانونِ وراثت کے مطابق وہ اپنا اپنا حصہ پائیں گے ۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ورثاء کے حصوں کا تعین فرمادیا ہے ، اولاد ہونے کی صورت میں بیوی کو کل ترکے کا آٹھواں حصہ ملتا ہے :ترجمہ:’’ پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو بیویوں کے لیے آٹھواں حصہ ہے ،اس مال سے جو تم نے چھوڑا ،(سورۃ النساء:12)‘‘۔اس کے بعد بقیہ ترکہ بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان ’’ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَیَیْنِ‘‘ (ترجمہ:ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے(النساء:11)کے تحت تقسیم ہوگا۔آپ کے سوال میں ثالثوں یا برادری کے جس فیصلے کا ذکر ہے کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی فیکٹری کا مالک آپ کا بیٹا ہوگا ،یہ شریعت اور قانون دونوں کے خلاف ہے اور اس میں دوسرے ورثاء کی حق تلفی ہے ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے خلاف ہے ،لہٰذاثالثوںکا فیصلہ کالعدم قرار پائے گا ، رسول اﷲ ﷺ کا ارشادہے : ترجمہ:’’بے شک ،اللہ تعالیٰ نے (ترکے میں سے ) ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے،تو (اب)وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں ہے،(سنن ابی داؤد:2862)‘‘۔

برادری یا کمیونٹی کی کسی کمیٹی یا انجمن کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اللہ اور رسول ﷺ کے صریح احکام اور شریعت کے قانون کو تبدیل کرکے اپنا فیصلہ صادرکریں ،اسی طرح انہیں ملکی قانون کوبھی ردّ کرنے کا اختیار نہیں ہے ،حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسی انجمنوں یا برادریوں کی کمیٹیوں کے خلاف کارروائی کرے جوکہ شریعت اورملکی قوانین کے خلاف فیصلے صادر کررہی ہیں ،یہ تو ریاست کے اندر ریاست کے ہم معنیٰ ہے۔