• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جاپانی نژاد برطانوی ادیب ’’کازواو اِشیگورو‘‘

دنیا میں کئی ادیب ایسے بھی ہیں، جو بیک وقت ایک سے زیادہ ثقافتوں پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ فکشن کی زبان میں، جہاں کردار اور کہانیاں لکھنے کے لیے پس منظر کا جاننا بہت ضروری ہوتا ہے،وہاں ایسا فکشن تخلیق کرناجان جوکھوں میں ڈالنا ہے، مگر جاپانی نژاد برطانوی ادیب’’کازواو اِشیگورو‘‘ نے یہ کر دکھایا۔ وہ اپنے ناولوں، افسانوں اور کہانیوں کے ذریعے پوری دنیا میں پہنچ چکے ہیں۔ 

پاکستان میں بھی ان کی کچھ منتخب کہانیوں کے تراجم اردو زبان میں ہوئے ہیں۔ دنیائے ادب کے دو بڑے اعزازات’’بکر پرائز‘‘اور’’نوبیل پرائز‘‘ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اس عہد میں ان کی شہرت اپنی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ وہ ایک طرف مغرب کی معاشرتی نفسیات سمجھتے ہیں تو دوسری طرف اپنی آبائی ثقافت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں اور ان دونوں کے امتزاج سے اپنے فکشن میں ندرت پیدا کرتے ہیں۔

8 نومبر 1954 کو’’کازواو اِشیگورو‘‘ جاپان کے شہر’’ناگاساکی‘‘ میں پیدا ہوئے۔ ان کی عمر صرف 5 سال تھی، جب ان کے والدین نے ہجرت کی اور یہ جاپان سے برطانیہ آبسے۔ اس دوران یہ صرف ایک مرتبہ 70 کی دہائی میں جاپان گئے۔ ان کے ذہن میں جاپان سے متعلق ذاتی زندگی کی یادیں بہت دھندلی ہیں، یہی وجہ ہے، تمام عمر ایک تصوراتی جاپان سے جڑے رہے، کیونکہ جاپان، ان کاآبائی وطن تھااور لندن میں رہتے ہوئے بھی، انہوں نے ایک ایسے گھر میں تربیت حاصل کی، جہاں مکمل طور پر جاپانی تہذیب و تمدن کا دور دورہ تھا، جاپانی زبان بولی جاتی تھی اور جاپانی ثقافت کے اصولوں کی پابندی کی تربیت دی جاتی تھی، اسی لیے وہ اپنے پہلے دو ناولوں میں اسی داستانی و تصوراتی جاپان کو بیان کرتے ہیں، جن کو محسوس کرکے انہوں نے اپنی کہانیوں میں ڈھالا۔

’’کازواو اِشیگورو‘‘نے ابتدائی تعلیم جاپان میں حاصل کی، لندن میں سکونت پذیر ہونے کے بعد، اسکول، کالج اور مختلف جامعات میں اعلیٰ تعلیم پائی، جن میں یونیورسٹی آف کینٹ اور یونیورسٹی آف ایسٹ اینجلیا بھی شامل ہیں۔ 1980 میں اپنا تعلیمی سفر مکمل کیا، بالخصوص انگریزی زبان اور فلسفے کے مضامین پڑھے اور کریٹیورائٹنگ میں ماسٹرز کیا۔ اپنے ماسٹرز کے تھیسیز ہی کو بہتر کرکے ناول کی شکل دی، یوں ’’آپیل ویو آف ہلز‘‘ کے عنوان سے 1982 میںشائع ہوا۔یہ ان کا پہلا ناول تھا جس کی اشاعت ممکن ہوئی۔ 1989 میں تیسرا ناول ’’دی ریمنز آف دی ڈے‘‘ شایع ہوا، جس کو 1989 میں بکرپرائز بھی ملا۔ اس میں بھی ایک مرکزی کردار کے ذریعے ماضی کی زندگی، مشاہدے اور تجربات کو بیان کیا گیا۔ 

وہ اب تک یہ 8 کتابیں اور 7اسکرین پلے بھی لکھ چکے ہیں۔ ان کی کتابوں کے تراجم، دنیا کی تقریباً 40زبانوں میں ہو چکے ہیں، جن میں فرانسیسی، ہسپانوی، سویڈش، جرمن، جاپانی ،اردو اور دیگر زبانیں شامل ہیں۔ انگریزی ادبی منظرنامے پر رہنے کے باوجود، یہ ایسے مصنف ثابت ہوئے، جنہوں نے اپنے طورسے دنیا کو دیکھا اور اپنے محسوسات کو بیان کیا۔ ان کے تخلیق کیے ہوئے ادب میں جاپانی ثقافت کی جھلک بھی نمایاں ہوتی ہے، پھر ان کے ناولوں کا پلاٹ تاریخ کے واقعات پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک ایسا ناول نگار ہے، جو تاریخ کی راہدریوں میں چلتا پھرتا دکھائی دیتا ہے۔ کہیں کہیں ان کی ذاتی زندگی بھی اس ادب میں چھلکتی ہے۔ 

ان کے ادب پر جاپانی ادب کا اثر کم ہے، البتہ یہ فیودر دوستووسکی اور مارسل پروست سے متاثر رہے ہیں۔ سویڈش اکادمی کی مستقل سیکرٹری ’’سارہ ڈینیس‘‘نے، ان کے تخلیقی انداز کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ’’یہ جین آسٹن اور فرانز کافکا کا امتزاج بھی ہیں۔‘‘ ویسے بھی انگریزی ادبی حلقوں میں ان کا موازنہ سلمان رشدی، ہنری جیمز اور جین آسٹن سے کیا جاتا ہے، مگریہ اس طرح کی موازنے کو تسلیم نہیں کرتے، البتہ خود ایسے اور کئی بڑے کلاسیکی ناموں سے متاثر ضرور رہے ہیں ۔

عمدہ ناول نگار ہونے کے ساتھ ساتھ’’کازواو اِشیگورو‘‘ ایک اچھے گیت نگار بھی ہیں، انہوں نے شارٹ فکشن بھی لکھا اور اسکرین پلے بھی لکھتے ہیں، مگر ان کی بنیادی شہرت ناول نگار کے طور پر ہی ہے۔ ان کے دو ناولوں پر فلمیں بھی بنائی گئیں، پہلی فلم 1993 میں ان کے ناول ’’دی ریمنز آف دی ڈے‘‘پر بنائی گئی، جس میں ’’انتھونی ہاپکنس‘‘ اور’’ایما تھامپسن‘‘سمیت کئی عظیم فنکاروں نے کام کیا، یہ فلم آسکر ایوارڈ کے لیے 8شعبوں میں نامزد ہوئی، لیکن کوئی انعام نہ حاصل کرسکی، البتہ برطانیہ کا معروف معروف شوبز ایوارڈبافٹا اپنے نام ضرور کیا۔ 2010 میں ان کے دوسرے ناول’’نیور لیٹ می گو‘‘ پر فلم بھی بنائی گئی، جس میںکیری موگیلن اور کیرا نائٹلی جیسی اداکارہ نے کام کیا، اس فلم نے متعدد ایوارڈز بھی اپنے نام کیے۔ 

’’کازواو اِشیگورو‘‘ قارئین جن کو جاپانی ادب کے ساتھ ساتھ مغرب بالخصوص یورپی ادب اور سماجیات میں دلچسپی ہے،وہ ان کے ناول پڑھیں، ان کے ذوق کی تسکین ہوگی۔ ان کے ناولوں پر بنی ہوئی دونوں فلمیں اور خاص طور پر ’’دی ریمنزآف دی ڈے‘‘پر بننے والی فلم بھی دیکھے جانے کے قابل ہے۔ یہ فلم دوسری جنگ عظیم کے بارے میں متجسس شائقین کے لیے ہے، جو جنگی ماحول سے جڑے ہوئے منظرنامے اور محسوسات پر بنائی گئی ہے۔

تازہ ترین