آپ آف لائن ہیں
ہفتہ2؍جمادی الثانی 1442ھ 16؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

امریکا میں سیاسی بحران مزید شدت اختیار کرگیا

نیویارک(عظیم ایم میاں) امریکا میں نہ صرف سیاسی بحران مزید گہرا ہوتا جارہا ہے بلکہ فوج کو غیر جانبدار رکھنے اورداخلی امن و امان میں نیشنل گارڈز کے علاوہ فوج کی مدد حاصل کرنے کے امکانات کے بارے میں بھی بحث چھڑ گئی ہے۔امریکی صدر ٹرمپ مواخذے کی تحریک کے باوجود اپنے صدارتی طیارہ ایئر فورس میں سوار ہوکر اپنی صدارتی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ریاست ٹیکساس کیلئے روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ میکسیکو اور امریکا کی سرحد پر تعمیر کی جانے والی دیوار کا معائنہ کریں گے۔روانگی سے قبل ٹوئیٹر اور فیس بک کی جانب سے مستقل پابندی کی زد میں آئے ہوئے صدرٹرمپ نے ریمارکس دیتے ہوئے نہ صرف 6 جنوری کی اپنی اشتعال انگیز تقریر کو درست قرار دیا بلکہ امریکی کانگریس کی عمارات پر قبضہ، توڑ پھوڑ اورلوٹ مار کو عوام کا غصہ قرار دیکر بالواسطہ اس کی حمایت بھی کی۔انہوں نے کہا کہ 6 جنوری کو میری تقریر درست تھی ، 25 ویں ترمیم کے استعمال سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ اور سابق فوجی خاتون سینیٹر ڈک ورتھ نے امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی یونیفارم میں ملبوس ہرفوجی کو سیاسی جانبداری سے بالاتر ہو کر ذمہ داریاں ادا کرنا ہیں اور 6جنوری کے واشنگٹن کے ہنگاموں اور امریکی کانگریس

کی عمارتوں پر قبضہ کے دوران بعض یونیفارم پہنے سیکورٹی حکام نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہنگامہ کرنے والے ہجوم سے نرمی سے کام لینے کے اقدام کی مذمت کی۔سینیٹر ڈک ورتھ نے کہاکہ صدر ٹرمپ نے فوج میں بھی سیاسی جانبداری کے جذبات ابھارنے کی کوشش کی ہے۔جس کا تدارک ضروری ہے۔ اُدھر ایف بی آئی نے بھی 24 جنوری تک واشنگٹن میں پولیس، سیکورٹی، نیشنل گارڈز اور دیگر سیکورٹی ڈیوٹی ادا کرنے کے متعین کئے جانے والے تمام افراد کے بیک گرائونڈ چیک کرنے کا کام شروع کردیا ہے تاکہ 20 جنوری کو صدربائیڈن کی حلف برداری کو پرامن بنایا جاسکے۔ اوربدامنی پھیلانے والوں کے ساتھ سیاسی جانبداری نہ کی جاسکے۔اُدھر ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے خلاف پیش کردہ تحریک مواخذے اورنائب صدر پنس کو اگلے24 گھنٹے میں صدارت سے ہٹا کر آئین ترمیم 25 تحت خود قائم مقام صدر بننے کے ڈیموکریٹ نوٹس نے ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت اور صدرٹرمپ کے حامی ری پبلکن قائدین کے درمیان اختلافات کو مزید شدید کردیاہے۔