آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍رجب المرجب 1442ھ25؍فروری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عبدالرحمٰن چغتائی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن کے ’لوگوز‘ عبدالرحمٰن چغتائی کی ہی اخترا ع ہیں جبکہ حکومت ِ پاکستان کے ابتدائی چار ڈاک ٹکٹوں کے ڈیزائن بھی چغتائی کی تخلیقی صلاحیتوںکا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

پاکستان کے عظیم مصور عبدالرحمٰن چغتائی نے 21ستمبر 1897ء کو لاہو ر میں آنکھ کھولی۔ ان کا شجرہ نسب عہدِشاہجہانی کے مشہور معمار احمد معمار سے جاملتاہے، جنہوں نے جامع مسجد دہلی، تاج محل (آگرہ) اور لال قلعہ (دہلی) کے نقشے تیار کیے تھے۔ چغتائی نے 1914ء میں میو اسکول آف آرٹس لاہور سے ڈرائنگ کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کرنے کے بعد استاد میراں بخش سے مصوری کے اسرار ورموز سیکھے اور پھر میو اسکول میں ہی تدریس کے پیشے سے منسلک ہو گئے ۔ 1919ء میں جب انھوںنے ہندوستانی مصوری کی ایک نمائش میں شرکت کی تو ان کے جذبہ شوق کو مہمیز ملی اور پھر اپنے اسکول کے پرنسپل سے مشورہ کرکے انھوں نے اپنے فن پارے کلکتہ کے رسالے ’’ماڈرن ریویو‘‘ میں اشاعت کے لیے بھیجے۔ ان تصاویر نے ہر طرف چغتائی کے فن کی دھوم مچادی۔ 

یوں چغتائی کا پہلا شاہکار 1919ء میں وجود میں آیا اور دنیائے مصوری میں ایک عظیم مصور کی آمد کا اعلان کرگیا، اس کے بعد چغتائی نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ ان کا اسلوب اتنا جداگانہ تھا کہ بعد میں ’’ چغتائی آرٹ ‘‘ مشہور ہوگیا۔ 1928ء میں انھوں نے غالب کے کلام کی مصورانہ تشریح کرتے ہوئےاردو میں اپنی طرز کی پہلی کتاب ’’مرقع چغتائی ‘‘ شائع کی۔ 

اس کتاب کی شاندار پذیرائی کےبعد عبدالرحمٰن چغتائی نے 1935ء میں غالب ہی کے کلام پر اپنی دوسری کتاب ’’ نقشِ چغتائی ‘‘ شائع کی، اس کتاب نے بھی بے انتہا مقبولیت حاصل کی۔ بعد ازاں، چغتائی کی شہرت پھیلی تو ان کے فن پاروں کی نمائشیں ہندوستان اور دیگر ممالک میں بھی ہونے لگیںاور ان کی شہرت کا ڈنکا بجنے لگا۔ ان کے فن پاروں کے مجموعے بھی شائع ہوئے، جن میں’’ چغتائی پینٹنگز‘‘ اور’’ عمل چغتائی‘‘ قابل ذکر ہیں۔ چغتائی نے افسانہ نگاری پر بھی طبع آزمائی کی اور ان کی نگارشات کے دو مجموعے ’’ کاجل ‘‘ اور ’’ لگان‘‘ شائع ہوئے۔

اسلوب اور انفرادیت

چغتائی دوروایتو ں کے امین تھے، ایک طرف ترک، ایرانی اور مغل مصوری تھی تو دوسری جانب ہندوستانی مصوری کی بنیاد پر مبنی بنگالی آرٹ تھا، جس کا سرا دوہزار سال پہلے کے ایلورا اور اجنتا کے غاروں میں بنائی گئی تصاویر سے جا ملتاہے۔ یہ اسکول آف آرٹ اٹھارہویں صدی کے وسط سے لے کر انیسویں صدی کے آغاز تک ہندوستانی مصوری کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھا، جبکہ شوخ رنگوں والی ترکی اور ایرانی مصوری کے اثرات جب منی ایچر میں منتقل ہوئے تو ان کے اثر سے چغتائی بھی نہ بچ سکے۔ اسی لیے ہمیں چغتائی کے اسلوب میں دونوں فن ملے جلے نظر آتے ہیں۔

علامہ اقبالؒ سے ملاقات

ان کی پہلی تصویر کی بھی دراصل ایک کہانی ہے، جو ایک قبر کی تصویر تھی اور اس پر ایک عورت غم سے نڈھال تھی۔ اس کے متعلق خود عبدالرحمٰن چغتائی تکنیک اور خیال کے حوالے سے ابہام کا شکار تھے۔ اس تصویر کے بارے میں چغتائی نے خود لکھا کہ انہیں اپنی کوشش کامیاب لگی ، جب وہ تصویر انھوں نے اپنے دوست کو دکھائی تو وہ انہیں تصویر کے ساتھ علامہ اقبالؒ کے پاس لے گئے۔ جاتے ہوئے عبدالرحمٰن چغتائی کے ذہن کے دریچوںمیں اپنی تصویر دکھانے سے زیادہ ایک عظیم شاعر سے ملنے کا شوق دل کی دھڑکنیں تیزکررہاتھا۔ تعارف کے بعد علامہ اقبالؒ نے تصویر کا نام پوچھا تو چغتائی نے کہا کہ ان کی تصویر کا نام Too Lateہے ۔ یہ سن کر علامہ اقبالؒ نے بے ساختہ شعر پڑھا،

؎ بجھ گیا وہ شعلہ جو مقصود ِ پروانہ تھا

اب کوئی سودائی سوز تمام آیا تو کیا

اس تصویر پر غور کرتے ہوئے علامہ اقبال ؒ نے مشورہ دیاکہ اس قبر پر سے کلمہ ہٹا دیں اور جو عورت کھڑی ہے اسےزیادہ پریشان نظرآنا چاہئے، یعنی ایک ایسی افسردہ عورت قبر کے پہلو میں بیٹھی ہو جو اپنی متاع لٹا چکی ہو۔ باقی رہا قبر کا تعویذتو اس پر قرآن کی فلاں آیت لکھ دو۔پھر اس کے بعد علامہ اقبالؒ نے فرمایا کہ پہلی مرتبہ میرا ایک ایسے نوجوان سے واسطہ پڑا ہے، جو تصویروں کے ذریعہ اسلامی روایات پیش کرنے کا جذبہ رکھتاہے۔

عبدالرحمٰن چغتائی کی عظمت

عبدالرحمٰن چغتائی نے اسلامی، ہندو، بدھ ازم، مغل اور پنجاب کے موضوعات پر فن پارے تخلیق کیے۔ ان کی تصاویر آج بھی دنیا کی ممتاز آرٹ گیلریوں میں ایستادہ ہیں ۔ علامہ اقبالؒ، پکاسو اور ملکہ الزبیتھ دوم جیسی شخصیات بھی ان کے فن کی معترف تھیں۔ 1924ء کی ویمبلے نمائش میں تقریباً25ملین افراد نے عبدالرحمٰن چغتائی کے فن پاروں کو دیکھا اور ان کے فن کی دا د دی۔ 

شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ کی طرح انہیں مصورِ مشرق کہا جاتاہے۔ آپ کو 1960ء میں حکومت پاکستا ن کی جانب سے ہلالِ امتیاز جبکہ 1964ء میں مغربی جرمنی میں طلائی تمغے سے نوازا گیا۔ اپنے عہد کا یہ عظیم مصور 17جنوری 1975ء کو لاہور میں دار ِ فانی سے کوچ کرگیا۔