• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دانتوں کی حفاظت کے لیے اینمل کو نقصان دہ عوامل سے بچانا ضروری ہے، ماہرین

اینمل یا دانتوں کا سخت بیرونی غلاف دانتوں کو مادی اور کیمیائی نقصانات سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ انسانی جسم کا سب سے سخت ٹشو ہوتا ہے اور یہ ہڈیوں سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے۔ 

اینمل وہ بیرونی تہہ ہوتا ہے جو دانتوں کو خوراک اور مشروبات کے استعمال سے پہنچنے والے نقصانات سے بچاتا ہے، دانتوں کو کٹاؤ سے پہنچنے والے نقصانات کے دیگر عوامل بھی ہوتے ہیں، لیکن متعدد ایسی عادتیں ناداستگی میں دانتوں کے اینمل (بیرونی غلاف) کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ نقصان زدہ اینمل دانتوں کے مختلف ٹشوز کو بھی متاثر کرتے ہیں اور ان میں خرابیاں پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق بعض ایسے عوامل ہیں جو کہ دانتوں کے اس اہم غلاف کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اور اس کے بوسیدہ ہونے کا عمل شروع ہوجاتا ہے، دانت حساس ہوجاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ نرم ٹشوز اپنا غلاف (اینمل)  کھونے کی وجہ سے بیرونی ماحول کو برداشت نہیں کرپاتی ہیں، اس سے بعض اوقات دانتوں کی رنگت تبدیل ہوجاتی ہے اور اس میں فریکچر پڑنا شروع ہوجاتا ہے۔


اس سلسلے میں ماہرین کہتے ہیں کہ ایسی خوراک سے پرہیز کرنا چاہیے جس میں کہ بہت زیادہ سِٹرک ایسڈ یا زیادہ مٹھاس ہو،  یہ دانتوں کے بیرونی غلاف کو نقصان پہچاتے ہیں، سوڈا پینے سے بھی بچنا چاہیے۔

نظام ہضم کی خرابی بھی دانتوں کو نقصان پہچاتی ہے کیونکہ معدہ میں موجود تیزابیت الٹی کی وجہ سے دانتوں میں پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ غیر ارادی طور پر سونے کے دوران دانت پیسنے یا پھر دانت کٹکٹانے سے بھی اینمل کو نقصان پہنچتا ہے۔ 

پینے کے پانی میں موجود زیادہ فلورائیڈ بھی دانتوں کی رنگت اور اس کے بیرونی غلاف کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ منہ کا خشک رہنا بھی نقصان دہ ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ منہ میں موجود تھوک تیزابیت کی سطح کو متوازن رکھتا ہے، لیکن منہ خشک رہے تو تیزابیت کی سطح منہ کے اندر موجود خانوں میں بڑھ جاتی ہے جوکہ بلآخر اینمل کو ہی نقصان پہنچاتی ہے۔ 

تازہ ترین