آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍ رجب المرجب 1442ھ 26؍فروری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شبلی فراز نے کل تسلیم کیا، آج مؤقف بدل رہے ہیں: جاوید لطیف

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے چیئرمین اور مسلم لیگ نون کے رہنما میاں جاوید لطیف کہتے ہیں کہ شبلی فراز نے گزشتہ روز تسلیم کیا کہ چیئرمین نیب کو بلایا جانا چاہیئے، آج پتہ نہیں کیوں وہ نیا مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنما میاں جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ اسٹینڈنگ کمیٹی میں چیئرمین نیب کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا، فرخ حبیب نے اختلافی نوٹ درج کرایا تو شبلی فراز نے بھی مؤقف تبدیل کر لیا۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک قومی احتساب بیورو کی طرف سے وضاحت سامنے نہیں آئی کہ چیئرمین نیب آنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ ہم چیئرمین نیب کی اسکروٹنی نہیں کرنا چاہ رہے تھے، ہم تو صرف عوام تک معلومات پہنچانے کے لیے آگاہی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مسلم لیگ نون کے رہنما نے کہا کہ جس وقت براڈ شیٹ سے معاہدہ کیا گیا اس وقت شیخ عظمت سعید ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب تھے، کمپنی کی عمر صرف 3 سال تھی جب اتنا بڑا معاہدہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ عظمت سعید نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ سنانے والے جج تھے، وہ شوکت خانم کے بورڈ آف گورنرز کے ممبر بھی ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ عظمت سعید کو کمیٹی کا سربراہ بنانے اور دیگر کو اس کا ممبر بنانے کا جواز نہیں ہے۔


انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کا پیسہ عوامی لیڈروں کی کردار کشی کے لیے استعمال ہو رہا ہے، اس کیس کو ہم ایسے نہیں جانے دیں گے۔

میاں جاوید لطیف کا مزید کہنا ہے کہ نیب کے چیئرمین کو بلانا کمیٹی کے دائرہ اختیار میں ہے، ہم شہزاد اکبر کو بھی کمیٹی میں بلائیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کا 5 سے 7 ارب روپیہ ڈوب گیا لیکن کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے، جمہوریت کے نام پر ایسے لوگ مسلط ہیں جنہیں پارلیمانی کمیٹیوں کے کام کا ہی پتہ نہیں ہے۔

قومی خبریں سے مزید