• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ، خیبر پختونخوا بھی پنجاب کی ڈگر پر


خیبرپختونخوا میں گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران افسران کے بڑے پیمانے پر تبادلے ہوئے۔ تین چیف سیکریٹریز کو تعینات اور تین آئی جیز سمیت متعدد سیکریٹریز کو تبدیل کیا گیا۔

دو چیف سیکریٹریز آٹھ ماہ سے بھی کم عرصہ اپنے عہدوں پر فائز رہے۔

محکمہ محنت، تعلیم اور اطلاعات کے چار چار سیکریٹریز کو بھی تبدیل کیا گیا، جبکہ صوبے میں گریڈ 18، 19 اور 20 کی درجنوں اسامیاں خالی پڑی ہیں۔

خیبرپختونخوا میں گزشتہ ڈھائی سال کے دوران بڑے پیمانے پر افسران کے تبادلے کیے گئے۔ سینئر بیوروکریٹ نوید کامران بلوچ جولائی 2018 میں چیف سیکریٹری تعینات ہوئے تاہم 7 ماہ بعد ہی جنوری 2019 میں انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ محمد سلیم کو چیف سیکریٹری لگایا گیا لیکن وہ اپنی مدت ملازمت پوری ہونے پر 8 ماہ بعد ریٹائر ہوگئے۔

موجودہ چیف سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیاز اکتوبر 2019 سے عہدے پر فائز ہیں۔  پی ٹی آئی کے دور حکومت میں تین آئی جیز کا بھی تبادلہ ہوا، 14 جون 2018 کو آئی جی کے پی تعینات ہونے والے محمد طاہر خان کو تین ماہ بعد ستمبر میں عہدے سے ہٹا دیا گیا اور صلاح الدین محسود کو 11 ستمبر 2018 کو دوبارہ صوبے کا آئی جی تعینات کردیا گیا۔ لیکن وہ بھی صرف پانچ ماہ ہی عہدے پر فائز رہ سکے اور فروری 2019 میں انھیں بھی فارغ کر دیا گیا۔

اس کے بعد ڈاکٹر محمد نعیم خان نے 11 فروری 2019 کو آئی جی کے عہدے کا چارج سنبھالا لیکن انھیں بھی جنوری 2020 میں تبدیل کر دیا گیا۔

موجودہ آئی جی پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناء اللّٰہ عباسی گزشتہ سال جنوری سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

محکمہ لیبر میں چار سیکریٹریز تبدیل ہوئے، جو چھ ماہ سے بھی کم عرصہ تعینات رہے۔

اسی طرح محکمہ تعلیم کے چار سیکریٹریز کے تبادلے بھی کیے گئے۔

قومی خبریں سے مزید