اوورسیزکےمسائل میں اضافہ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: محمد سعید مغل ایم بی ای، برمنگھم
قیام پاکستان سے لے کر آج تک حکمرانوں نے ہمیشہ اپنے مفاد اور اقدار کی خاطر عوام کا استحصال کیا جس سے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل میں بتدریجاضافہ ہوا ہے۔ ان کے مسائل حل کرنے کے لئے کوئی توجہ نہیں دی۔ حالیہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے حکومت برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا ہے جولوگ چھٹیوں کے دوران اپنے بچوں کے ہمراہ اپنے عزیز رشتہ داروں سے ملاقات کرنے پاکستان گئے ہوئے تھے ان کو سخت اذیت میں مبتلا کر دیا۔ واپسی پرکرایوں میں سو گنا اضافہ پر لندن کے مہنگے ہوٹلوں میں دس دن قرنطین میں رہنا لازمی قرار ہے۔مگر ہمارے وزیراعظم اور ان کے معاون خصوصی اور وزراء کرام میں سے کسی نے برطانوی حکومت کے اس اقدام پر کوئینوٹس نہیں لیا جس سے پاکستانی کمیونٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں جنہوں نے اپنی سیاسی جماعت کی برانچیں برطانیہ میں بنائی ہوئی ہیں انہوں نے بھی برطانوی حکومت کے اس اقدام کا کوئی نوٹس نہیں لیا ۔ بیرون ملک میں آباد تارکین وطن پاکستان میں ہمیشہ مشکل وقت مثلا زلزلہ، سیلاب یا بحالی جمہوریت کے لئے بھر پور تعاون کیا ہے، پاکستان میں نئے ڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈز جمع کئے مگران کے مسائل حل کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ آخر اوورسیز پاکستانیوں کا کیا قصور ہے۔ مختلف ادوار میں اقتدار کی خاطر سبز باغ دکھائے جاتے ہیں، جب کہ مسائل حل کرنے کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں کئے جاتے۔ اسسے نوجوان نسل کافی تذبذب کا شکار ہے۔ ہمیں یہاں مقامی سیاسی جماعتوں میں حصہ لینا چاہیے جو ہمارے مسائل کے لئے نہ صرف برطانوی حکومت سے بلکہ حکومت پاکستان سے بھی بات کر سکے ۔ جیسا کہ ریڈلسٹ والا معاملہ جو صرف پاکستان کے لئے بلکہ کمیونٹی کے لئے بھی تکلیف دہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں روشن خیال تعلیم یافت مذہبی اسکالر جید علماء اکرام ذہبی ہم آہنگی کوفروغ دیں۔ لوگوں کو دین اسلام کی روح کے مطابق تعلیم سے روشناس کرائیں۔ ملک میں مساجد، دینی مدرسے موجود ہیں ان میں زیرتعلیم طلباء وطالبات کی اعلی تعلیم و تربیت کے لئے ماہراساتذہ اکرام مقرر کریں۔ پاکستان دنیا اسلام کا وہ ملک ہے جہاں ا علیٰ تعلیم یافتہ علماء اکرام، مذہبی سکالر ڈاکٹرز موجود ہیں جو دین اسلام کی اصل کے روح کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ یہی اصل میں تبدیلی ہے جو ایک روشن پاکستان میں دین اسلام کی زندہ مثال ہے۔
یورپ سے سے مزید