پاکستان میں متمول خاندانوں کی تعداد 22 سے بڑھ کر 31 ہوگئی
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں متمول خاندانوں کی تعداد 22 سے بڑھ کر 31 ہوگئی

اسلام آباد ( مہتاب حیدر ) پاکستان میں 31 خاندان اسٹاک مارکیٹ پر چھائے ہوئے ہیں ۔اس طرح پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد ایسے با رسوخ اور متمول خاندانوں کی تعداد 22 سے بڑھ کر 31 ہوگئی ہے ۔پاکستان منصوبہ بندی کمیشن کے سابق ڈپٹی چئیرم،یناور وائس چانسلر پی آئی ڈی ای ڈاکٹر ندیم الحق اور امین حسین کی ریسرچ کے مطابق پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر محبوب الحق نے 22 خاندانوں کی نشاندہی کی تھی ۔یہ حقیقت ہے کہ ان خاندانوں کے بے ہنگم نجکاری کی وجہ سے ملک میں کاروبار پر بڑے اثرات ہیں ۔ اس کاروبار میں خواتین کو نمایاں مقام حاصل نہیں ہے ، اس کے علاوہ دائود ، میاں منشا اور ہاشانی جیسے نام بھی اس میں شامل نہیں ہیں ، ان کے بچے ہیں ۔ بارسوخ ڈائریکٹرز میں اکثریت کا تعلق کراچی ، لاہور اور اسلام آباد سے ہے ۔ کراچی اسٹاک ایکس چینج پر دس بڑی کمپنیاں چھائی ہو ئی ہیں اور سرمایہ مارکیٹ کا نصف سے زائد سرمایہ ان کا ہے سالانہ رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹرز یا نمایاں شئیر ہولڈرز ( 73 فیصد ) 68 کھرب کی مارکیٹ میں 49 کھرب 63 ارب روپے کے مالک ہیں ۔ کراچی اسٹاک مارکیٹ میں واحد بڑی شئیر ہولڈر حکومت پاکستان ہے جس کے حصص کا تناسب بارہ فیصد ہے ۔ کراچی اسٹاک ایکس چینج میں رجسٹر کمپنیوں اور انفرادی طور پر افراد کی تعداد 374 ہے ۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بھی نمایاں حصص ہیں ۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ بعض اوقات ریکارڈ تیزی کے باعث نمایاں سرخیوں میں آجاتی ہے، جس نے اسے خطے کی بہترین مارکیٹ میں لا کھڑا کیا ۔ بعض اوقات یہ خدشات کی وجہ سے بیٹھ بھی آجاتی ہے ۔ اسٹڈی سے معلوم ہوا کہ44 منتخب کمپنیوں کا 64 فیصد بڑے کاروباری گروپوں اور خاندانوں کے کنٹرول میں ہے ۔

اہم خبریں سے مزید