• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

21جون کو لاک ڈاؤن کے مکمل خاتمے پر حکومت گومگو کا شکار

لندن (پی اے) کورونا کے حوالے سے پابندیاں ہٹانے سے متعلق وزیراعظم بورس جانسن کے اعلان کردہ روڈ میپ پر عمل کرنے اور 21 جون سے تمام پابندیاں ختم کرنے کے مسئلے پر حکومت گومگو کا شکار ہوگئی ہے۔ برطانیہ میں بہت سے لوگ پابندیوں کے مکمل خاتمے کیلئے 21جون کا بے چینی سے انتظار کررہےہیں لیکن دوسری جانب وزرا کا کہنا ہے کہ 21 جون کو پابندیاں ختم کرنے سے متعلق اعلان پتھر پر لکیر نہیں ہے اور کورونا کے پھیلائو کی شرح اور کورونا کی ایک نئی شکل سامنے آنے سے پیدا شدہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس میں تبدیلی کی جاسکتی ہے، فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جائےگا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پابندیوں کے خاتمے کا فیصلہ 4 بنیادی نکات کی بنیاد پر کیا جائے گا، یہ فیصلہ کرتے وقت دیکھا جائے گا، فی الوقت ہسپتالوں میں زیر علاج کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت برطانیہ کے مختلف ہسپتالوں میں کورونا کے صرف ایک ہزار مریض ہیں، یعنی ایک ہفتہ قبل کے مقابلے میں ان کی تعداد اگرچہ 5 فیصد زیادہ ہے لیکن جنوری کے مقابلے میں ان کی تعداد بہت کم ہے، کیونکہ جنوری میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 40ہزار تھی۔ این ایچ ایس کا یہ بھی کہنا ہے کہ فی الوقت کورونا کے جو مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں، وہ شدید بیمار نہیں، وہ جوان ہیں اور انھیں انتہائی نگہداشت کی ضرورت نہیں ہے اور یہ لوگ جلد ہی صحتیاب ہو کر ہسپتالوں سے گھروں کو واپس چلے جائیں گے، جس کے معنی یہ ہیں کہ کورونا کی یہ لہر پہلے سے مختلف ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق نارتھ ویسٹ انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد برطانیہ کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ گزشتہ ہفتہ قومی شماریات دفتر نے بتایا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران برطانیہ میں کورونا کا شکار ہونے والوں کی تعداد 60 فیصد زیادہ تھی، اگر یہی شرح برقرار رہی یا اس میں مزید اضافہ ہوا تو یہ تصور کیا جائے گا کہ پابندیاں ہٹانے سے اس کی شرح میں مزید اور زیادہ تیزی کے ساتھ اضافہ ہوسکتا ہے لیکن صرف وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کی بنیاد پر پابندیاں ہٹانے یا نہ ہٹانے کافیصلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ حکومت یہ دیکھے گی کہ کورونا سے متاثرہ افراد کس شرح سے ہسپتال پہنچ رہے ہیں اور ان سے این ایچ ایس پر کتنا دبائو بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت یہ بھی دیکھے گی کہ کورونا کا شکار ہونے کے بعد شدید بیمار ہونے کے کتنے امکانات ہیں لیکن کورونا کی پہلی اور دوسری لہر کے مقابلے میں ابھی اس حوالے سے کوئی پیشگوئی کرنا بہت مشکل ہوگا کیونکہ ویکسین لگائے جانے کے بعد لوگوں کے کورونا کی کسی بھی شکل سے متاثر ہونے کے بعد بیمار پڑجانے کے خدشات بہت کم رہ گئے ہیں جبکہ فی الوقت ملک کی کم وبیش 40 فیصد آبادی کو کورونا سے بچائو کے دونوں انجکشن لگائے جاچکے ہیں، جس کی وجہ سے ڈیلٹا وائرس کا شکار ہو کر ہسپتال پہنچنے والوں کی تعداد صرف 5 فیصد رہ گئی ہے۔ پابندیاں ختم کرنے سے قبل یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کتنی تعداد میں لوگوں نے مکمل طور پر ویکسین لگوالی ہے تو اس حوالے سے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 50 فیصد سے زیادہ بالغان کو ویکسین کے 2 انجکشن لگائے جاچکے ہیں، اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کورونا کے مریضوں میں اضافے کی صورت کیا طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے اور اس حوالے سے کارروائی پر کتنی لاگت آئے گی، اس کے ساتھ ہی اس بات کا بھی اندازہ لگاناہوگا کہ مزید چند ہفتے پابندیاں نرم نہ کئے جانے سے کاروبار کا کتنا نقصان ہے، کیونکہ دکاندار اپنی دکانیں دوبارہ کھولنے کیلئے بے چین ہیں، اس طرح کورونا کی پابندیاں مکمل طور پر ہٹانے کا فیصلہ ایک بڑا مسئلہ بن گیا اور ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حکومت اپنے وعدے کے مطابق 21 جون سے تمام پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کرتی ہے یا پابندیوں میں مزید اضافہ کیا جاتا ہےْ۔
یورپ سے سے مزید