• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانسدانوں نے کورونا کے گردوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینا شروع کردیا

محققین نے انسانی گردوں کے سیل پر کورونا وائرس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے انکا لیب میں تجزیہ کیا۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل آف امریکن سوسائٹی آف نیفرولوجی کے آئندہ شمارے میں شائع ہوں گے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ایسے بہت سے افراد جنھیں کورونا وائرس کی وبا لاحق ہوئی اور ان کے گردوں کو نقصان بھی پہنچا، لیکن یہ معاملہ اب تک غیر واضح ہے کہ ان کے گردوں کو جو نقصان پہنچا وہ کورونا وائرس  کا براہِ راست نتیجہ تھا یا پھر اسکی دیگر جسمانی وجوہات تھیں یا جسم میں وائرس کے خلاف پیدا شدہ ردعمل سے ایسا ہوا۔

اس معاملے کا پتہ چلانے کے لیے ایک تحقیقی ٹیم جس کی قیادت اسرائیل کی شیبا میڈیکل سینٹر کے بینجمن ڈیکل (ایم ڈی اور پی ایچ ڈی) نے کی اور اس مقصد کے لیے انھوں نے انسانی گردوں کے سیلز لیب ڈشز میں تیار کرکے ان میں کورونا وائرس چھوڑے۔

جس کے نتیجہ میں محققین کو پتہ چلا کہ کورونا وائرس انسانی گردوں میں داخل ہوکر انکو انفیکٹ کرتا ہے اور گردوں کے سیل کی نقل تیار کرتا ہے تاہم اس سے مخصوص انداز میں سیل مرتے نہیں ہیں۔ 

یہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ کورونا مریضوں میں گردوں کو جو نقصان پہنچتا ہے اسکی اہم وجہ کورونا وائرس نہیں ہے، تاہم وائرس اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، لہذا جب وائرس کے ابتدائی اثرات ظاہر ہوتو ہم اسکے امکانات کم کرنے کے لیے اقدامات کریں تو گردون کو نقصان سے بچایا جاسکتا ہے۔

صحت سے مزید