• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کے حالیہ انتخابات میں ابراہیم رئیسی صدر منتخب ہو گئے۔ انہوں نے چار مقابل امیدواروں کو شکست دے کر نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ابراہیم رئیسی فی الوقت ایران کی اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز تھے۔

ابراہیم رئیسی کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک سے بدعنوانی، اقربا پروری اور رشوت ستانی کوجڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ ایرانی جوہری معاہدہ اپنی شرائط پر طے کرنے کی کوشش کریں گے۔ سب سے پہلے ملک کی گرتی ہوئی معیشت کو بہتر سے بہتر بنانے کی جدوجہد کریں گے۔ افراط ِزر اور مہنگائی میں کمی کریں گے۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں اور دنیا کے اہم ممالک سے تعلقات مزید بہتر بنائیں گے۔

یورپی ممالک کوخدشہ ہے کہ ابراہیم رئیسی کے انتخابات میں کامیاب ہو جانے سے ایران کے سخت گیر مذہبیدھڑے زیادہ متحرک ہوجائیں گے۔منتخب صدر کے حوالے سے ایرانی اور مغربی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابات میں عوام نے پچھلے انتخابات کی طرح گرمجوشی سے حصہ نہیں لیا ہے۔ ٹرن آئوٹ سینتیس سے چالیس فیصد تک رہا۔ بعض ملکی ذرائع کا کہنا ہے کہ عوام نے حالیہ انتخابات کو سیاسی سرکس سے تعبیر کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہر انتخابی مہم میں بلندوبانگ دعوے، نعرے اور پرجوش تقریریں ہی عوام کے حصے میں آئیں۔ مگرحالات بالکل نہیں تبدیل ہوئے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ایرانی ووٹرز کی نمایاں تعداد گھر میں رہی۔ 

حالانکہ انتخابات کے دن صبح سات بجے ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پہلا ووٹ دیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں پولنگ اسٹیشن آکر اپنا قومی فریضہ ادا کریں۔ اس معاملہ میں انتخابات سے چند روز قبل ابراہیم رئیسی پر حزب اختلاف کی جانب سے بعض سنگین الزامات بھی عائد کئے جاتے رہے تھے۔ مثلاً کہ وہ مشہد کے مذہبی مدرسے چھ درجے پڑھے ہوئے ہیں مگر ان کا دعویٰ ہے کہ وہ پی ایچ ڈی ہیں۔ 

ابراہیم رئیسی پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے حضرت امام رضا کے روضہ پر بطور سربراہ اپنی خدمات سرانجام دیتے ہوئے خطیر رقومات کی خوردبرد کی ہے۔ان پریہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے عدلیہ کی ملازمت کے دوران بیشتر سیاسی مخالفین کو موت کی سزا دی۔ وغیرہ وغیرہ، مگر ابراہیم رئیسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات من گھڑت ہیں اور ہمارے رہنما نے ہمیشہ ان کو مسترد کیا ہے اور سیاسی مخالفین کسی بھی الزام کا ثبوت سامنے نہیں لا سکے ہیں۔

اب صدر ابراہیم رئیسی ایرانی پاور سرکل میں ایک اہم عہدے پر فائز ہیں۔ آگے دیکھتے ہیں کیا صورتحال سامنے آتی ہے۔ ابراہیم رئیسی کے علاوہ صدارتی امیدوار عبدالنصر حمایتی، محسن رضائی اور امیر حسین ہاشمی بھی پوری تیاریوں کے ساتھ میدان میں تھے۔ لیکن کسی امیدوار نے مغربی ایجنڈے مثلاً جمہوری اقدار، انسانی حقوق اور اظہار رائے پر لب کشائی نہیں کی۔ مغربی میڈیا اس پر بات کرتا رہا مگر ایران میںکسی نے اس پر کان نہیں دھرا۔ ایرانی مذہبی اور سیاسی رہنمائوں کا کہنا ہے کہ ایران امریکی جوہری معاہدہ اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا فیصلہ آخری ہوگا۔

ایران میں حالیہ صدارتی انتخابات سے قبل امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے موقع پر دوہری شہریت رکھنے کا مسئلہ خاصا زیر بحث رہا۔ ایران میں دوہری شہریت کو قبول نہیں کیا جاتا، پھر بھی کچھ امیدوار اس پھیرے میں آگئے اور نااہل قرار پائے۔ ان کی دوسری شہریت بھی جاتی رہی۔ اس کے علاوہ اکثر صدارتی امیدواروں سے ایران میں آباد مختلف مسالک اور مذاہب کے باشندوں کے نمائندوں نے حالیہ الیکشن میں اقلیتوں کے مسئلے کو ایجنڈے میں جگہ دلانے کی کوششیں کی مگر تمام کوششیں بے سحر رہیں۔ کیونکہ ایران کی مجموعی آبادی آٹھ کروڑ بتیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ 

ان میں شیعہ مسلک کو ماننے والوں کی تعداد اکیانوے فیصد ہے جبکہ آٹھ فیصد سنی مسلک کو ماننے والے ہیں، باقی ایک فیصد میں عیسائی و دیگر مذاہب کے باشندے ہیں۔ حقیقت میں ایران میں اقلیتوں کا مسئلہ بہت سا لوںسے چلا آرہا ہے۔ زیادہ سنی آبادی ایرانی بلوچستان کی سرحد پر آباد ہے اور ایرانی بلوچ کہلاتے ہیں۔

حالیہ صدارتی انتخابات میں یہ بات زیادہ ابھر کر سامنے آئی ہے کہ ایرانی خواتین، طلبہ، محنت کش طبقہ کی واضح اکثریت تبدیلی کی خواہاں ہے اور اس بار انہوں نے احتجاجاً گھروں سے نہ نکل کر اپنا مؤقف دہرایا۔ دوسرے لفظوں میں ان طبقات نے جاری ماحول سے بیزاری اور اپنی ناپسندیدگی ریکارڈ کرائی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ رضا شاہ پہلوی کے دور کا ایران آج کے ایران سے بہت مختلف تھا، بلکہ تہران کو اس دور میں جنوب مغربی ایشیا کا پیرس کہا جاتا تھا۔ تہران یونیورسٹی کا معیار اور ماحول بیروت میں واقع امریکن یونیورسٹی سے کسی طرح کم نہ تھا۔ خانہ فرہنگ کا ادارہ بیشتر ممالک میں طلبہ اور نوجوانوں کو مفت فارسی سکھانے پر مامور تھا۔ یورپ، امریکہ اور دیگر علاقوں کے سیاح ایشیائی ملکوں کی سیاحت کیلئے آتے تھے تو ان کاپہلا باقاعدہ سیاحتی پڑائو تہران میں ہوتا تھا وہاں سے وہ براستہ ہرات، قندھار، کابل میں داخل ہوتے تھے اور پھروہاں سے وہ پشاور پہنچتے۔

شمالی علاقوں کی سیاحت کے بعد کچھ لوٹ جاتے کچھ بھارت کا رُخ کرتے تھے۔ سیاحت سے ترکی، ایران، افغانستان اور پاکستان کو معاشی اور سماجی فائدہ تھا۔ ایک طرح کھلا اور خوشگوار پرامن ماحول تھا۔ ہر چند کہ رضا شاہ پہلوی کا دور سیاسی، معاشی اور انسانی حقوق اور اظہار آزادی کے حوالے سے کوئی مثالی دور نہ تھا۔ ایران میں اس وقت بڑے جاگیرداروں اور بے زمین کسانوں، مزدوروں کی کم اجرت، شہری سہولتوں میں اضافہ جیسے مسائل پر احتجاجی تحریکیں جاری تھیں۔ 

شاہ ایران کو عوامی اضطراب اور بے چینی کا ادراک تھا مگر ایران کے امراء کا تعلق کسی نہ کسی طور پر شاہی خاندان سے تھا۔ بے زمین کسانوں کا مسئلہ بڑا مسئلہ تھا جو سردخانے کی نذر ہو رہا تھا۔ ایسے میں انقلاب ایران اور پاسداران کی تحریک نے وعدہ کیا تھا کہ انقلاب کی کامیابی کے بعد بے زمین کسانوں کو زمینیں الاٹ کی جائیں گی، مگر سچ یہ ہے کہ یہ مسئلہ تاحال سردخانے کی ہی نذر ہے۔

حالیہ صدارتی انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے دوران ایرانی محنت کش عوام نے بھی احتجاجی، تحریکیں شروع کی تھیں ،مگر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتخابات سے قبل پرامن غیر مسلح احتجاج کو کچلنے کے لئے بہت سے افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔ درحقیقت مسئلہ یہ ہے کہ چالیس برس بعد بھی عوام کی امیدیں پوری نہ ہوں تو ان میں بے چینی، احساس محرومی اور مایوسی ضرور فروغ پائے گی۔ 

ایران کے رہبر اول امام خمینی کے اسلامی نظریات کے مطابق وہ پانچ نکاتی پروگرام پر زور دیتے تھے۔ پہلا انقلاب کی کامیابی، دوسرا کامیاب انقلاب کے بعداسلامی حکومت کی تشکیل، تیسرا اسلامی حکومت تمام ریاستی اداروں کو اسلامی انقلاب کے پروگرام ہمکنار کرے چوتھا ادارے پورے معاشرے کو اسلامی طرز معاشرت کے قلب میں ڈھالے اور پانچواں ایران کو اسلامی معاشرہ کے بعد اس ماڈل کو دنیاکے دیگر اسلامی معاشروں میں متعارف کرائے۔

اس ضمن میں امام خمینی طاقت کے توازن کو پانچ درجوں میں تقسیم کیا۔ سپریم لیڈر، رہبر اول، صدر، پارلیمان، نگہبان شوریٰ، مجلس شوریٰ اس میں چالیس سے زائد مذہبی رہنما اراکین ہیں اور یہی مجلس انتخابات کے لئے امیدواروں کی جانچ پڑتال کرتی ہے۔ اس طرح امام خمینی نے جدید طرز حکومت کو جمہوریت کے ساتھ ملا کر ایک منفرد طرز حکومت کا تصور دیا جو فی الفور ایران میں آزمایا جا رہا ہے، جہاں تک اسلامی نقلابی معاشرہ کا دیگر اسلامی ممالک میں متعارف کرانے کا سوال ہے یہ ٹاسک قدرے پیچیدہ ہے۔ 

بیشتر اسلامی ممالک دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا معاشرہ اسلامی تعلیمات کے مطابق استوار اور ہر ایک انداز مکمل نہ سہی البتہ قدرے جدا جدا ہے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ اسلامی تعلیمات میں مساوات، عدل و انصاف اخوت ،بھائی چارہ اور معاشرہ سے ناانصافی دور کرنا ہے۔مگر بیشتر اسلامی ممالک میں اسلامی تعلیمات کے برعکس عمل جاری ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر اسلامی ملک میں نیکی پر عمل کرنے اور بڑی حد تک اسلامی احکامات کی پابندی کرنے والوں کی بھی کمی نہیں اسی وجہ سے معاشرے اس طوفانی دور میں بھی پوری استقامت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔

بلاشبہ امام خمینی رہبر اول کا وژن بہت واضح تھا وہ زمانے اور وقت کے بدلتے تیور کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے نظریات پرکام کر رہے تھے، تاہم ایک افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بعض مسلم ملکوں کے رہنمائوں نے محض اپنی حکمرانی کو طول دینے اور عوام کی توجہ بانٹنے کیلئے اسلامی نظام، اسلامی جمہوریہ اور اسلامی مملکت کی خوشنما اصطلاحیں استعمال کی ہیں، مگر اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے سنجیدہ اور ثمرآور کوششیں نہیں کیں۔ ہمارے بیشتر رہنما خواب غفلت میں غلطاں ہیں یا پھر ان کا وژن اتنا وسیع نہیں کہ مستقبل کے معرکوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی معاشروں کا تحفظ کر سکیں۔ 

مثلاً مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تیزی سے فروغ پا رہی ہے اس کے دنیا کے تمام معاشروں پر مثبت یا منفی جو بھی اثرات نمایاں ہوں اس کا تدارک کیسے کیا جائے گا۔ بیشتر رہنما یہ کہہ کر جان چھڑالیں گے یہ مغرب کا پروپیگنڈہ ہے۔ مغربی ماہرین ایسے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں اس لئے اس پر زیادہ دماغ نہ کھپائیں۔ چلئے مسئلہ حل ہوگیا۔اب جبکہ ایران چالیس برسوں سے متواتر انتخابات بھی کروا رہا ہے اور اب صدر ابراہیم رئیسی ایران کے آٹھویں منتخب صدر ہو چکے ہیں تو سب کو مثبت نتائج کی امید رکھنی چاہئے، کیونکہ امام خمینی نے ایران میں اسلامی انقلاب کا جو پودا لگایا اور ایک منفرد سیاسی و مذہبی تجربہ کیا ہے اس کو ثمرآور ہونے میں وقت لگ سکتا ہے،کیونکہ قوموں کی زندی میں چالیس برس کوئی وقت نہیں ہے۔ اس لئے ایک بڑے کام میں مزید وقت لگتا ہے تو کوئی حیرت نہیں ہے۔

اس تمام بحث سے قطع نظر اہم ترین سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اکیسویں صدی کے اولین تقاضے کیا ہیں؟

تعلیم جدید سائنسی تعلیم، تحقیق، سائنسی سوچ کو اپنانا، منطق فلسفہ اور مکالمہ کی روایات کو زندہ کرنا، ترقی مزید ترقی کی جدوجہد کرنا، مغربی تعلیمی اداروں، جامعات اور تحقیقی مراکز میں شب و روز جو کام کیا جا رہا ہے۔ اور روز روز ایک نئی دریافت ایک نئی ایجاد سامنے آرہی ہے تو وہ کسی جادوئی نسخے سے نہیں آرہی ہیں، بلکہ علمی سائنسی تحقیق اور جستجو سے یہ معجزے رونما ہو رہے ہیں، جبکہ آج کے دور میں بعض اسلامی ممالک نے اپنے تعلیمی اور اعلیٰ تعلیمی نصاب سے طبیعات، ریاضیات، فلسفہ اور منطق کے مضامین کو الگ کر رکھا ہے۔ 

سوال کرنے کو ممنوع قرار دے رکھا ہے۔ گزشتہ تیس چالیس برسوں میں کئی پاکستانی اساتذہ کو سائنس کی افادیت اور انسانی ترقی کےبارےمیں گفتگو کرنے پر انہیں ان کی ملازمتوں سے الگ کر کے وطن بھجوا دیاگیا۔ ستم ظریفی یہ کہ مغرب ان عرب مسلمان سائنسدانوں، ماہرین اور مصنفین کا احسان مانتا ہے کہ اگر مسلمانوں نے ہزار برس قبل اہل یونان اور اہل روم کے علمی خزانوں کو عربی میں تراجم کرکے دنیا کے سامنے پیش نہ کیا ہوتا تو آج ہم بھی جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے۔ 

سولہویں، سترہویں صدی کے نشاۃ ثانیہ کے دور نے دنیا تبدیل کردی اور اس میں مسلمانوں کا اہم کردار رہا مگر ہم اپنی رجعت پرستانہ فکر اور ہٹ دھرمی سے اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچانے کے درپر ہیں۔ اب سے کچھ عرصہ قبل تک بیشتر افراد طبی شعبے میں ہونے والی ترقی کو قطعی تسلیم نہیں کرتے تھے اور ان کاموں کو قدرت کے نظام میں مداخلت تصور کرتے تھے،مگر آج ہر جگہ انسانی اعضاء کی پیوند کاری اور بڑی بڑی سرجریز عام ہو چکی ہیں۔

اکیسویں صدی کی شاندار سوغات سوشل میڈیا ہے،سب ہی اس کے اسیر ہیں،یہاں تک کہ ایران کے حالیہ صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران وہاں کے نوجوانوں کو موقع ملا کہ اپنے دلوں کا غبار ہلکا کریں ،کیونکہ ایران میں ذرائع ابلاغ پر حکومت کی گرفت بہت مضبوط ہے، سوشل میڈیا بھی مکمل آزاد نہیں ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ایران کے سپریم کمانڈر، صدارتی امیدوار، اعلیٰ سرکاری عہدیداران نے مہم کو کامیاب بنانے کے لئے جب سوشل میڈیا کو بھی استعمال کرنا شروع کیا تب نوجوان بھی اس جانب مائل ہو گئے سرکاری اہلکار اس صورت حال سے پریشان ہوتے رہے مگر سوشل میڈیا پر ان کا بس نہ چلتا تھا تب انٹرنیٹ کی سہولت کو محدود کرنے کی مہم شروع کی گئی۔مگر سوشل میڈیا وہ ہوا ہے جس کو کوئی حکمران قید نہیں کر سکتا۔ 

اس کے پرنہیں کاٹ سکتا اس کو بیڑیاں نہیں پہنا سکتا۔ بیشتر مطلق العنان حکومتیں اس صورتحال پر حواس باختہ ہیں۔ روس جیسے ملک نے سوشل میڈیا کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، تاہم ایران میں بھی سوشل میڈیا نوجوانوں میں مقبول ہے۔ ایرانی انتخابات اور اسرائیل میں حال ہی میں نئے وزیراعظم جینیٹ کا برسراقتدار آنا ایک پیچیدہ مسئلہ بن سکتا ہے، کیونکہ ہر دو جانب سخت گیر اور ایک دوسرے کے شدید مخالف رہنما آمنے سامنے آگئے ہیں، اس حوالے سے بیشتر حلقوں کو تشویش ہے۔