• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوانوں کی معاشرتی علوم سے دوری کیوں؟

سید عون عباس

ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی میں نوجوانوں کا کردار ہر اول دستے کا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی نوجوان علمی میدان میں کسی سے پیچھے نہیں۔ اس تحریر کے ذریعے میں ہمارے معاشرے میں سوشل سائنسز (معاشرتی علوم ) کی اہمیت اور اس سے منسلک نوجوانوں کا مستقبل بہت اہم ہے۔ سماجی علوم کا تعلق دراصل معاشرے کے سماجی رویوں اور ثقافتی پہلوؤں سے ہے۔ 

دنیا کے مختلف ممالک کی تاریخ ، قومی اور بین الاقوامی پسِ منظر میں سیاسی تعلقات، ملکی اور سماجی معیشت اور انسانی رویوں کے بارے میں سیکھنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ اگرچہ سائنس و ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی بہت اہمیت کے حامل موضوعات ہیں اور ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ میٹرک یا انٹر کے بعد ان ہی میں سے کسی فیلڈ کا چناؤ کرے، تاہم اگر غور کیا جائے تو معاشرتی علوم کی اہمیت و افادیت اس قدر ہے کہ فرسٹ ورلڈ کے ممالک اس کی تعلیم و تدریس پر بھاری سرمایہ خر چ کرتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں تین طرح کے طالبعلم ہیں۔ پہلے وہ جو ہر صورت ڈاکٹر، انجئنیر یا پائلٹ بننا چاہتے ہیں۔ دوسرے وہ جو بزنس کرنے کی خاطر بی -کام یا ایم بی اے کی فیلڈ کو چنتے ہیں اور تیسرے وہ جو آخری وقت تک کنفیوژ رہتے ہیں۔ 

ایک اور بات جو اکثر دیکھی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جو طلبا سائنسی مضامین کا انتخاب نہیں کرتے اُن کو یہ باور کرا دیا جاتا ہے کہ اگر وہ آرٹس کے مضامین لیں گے تو انہیں کہیں نوکری نہیں ملے گی، بلکہ اس کی کوئی وقعت ہی نہیں ہے۔ نتیجتاً ہر طالب علم سائنس اور کامرس کے پیچھے بھاگتا نظر آتا ہے۔دوسری صورت میں وہ سائنس کا انتخاب کر تولیتا ہے، لیکن عدم دلچسپی کے نتیجے میں ناکامی کا شکار ہوجاتا ہے۔

تاہم جو نوجوان اپنے شوق سے سوشل سائنسز کی جانب آتے ہیں وہ ایک جانب خود بھی کامیاب ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ معاشرے کی ترقی میں بھی اپنا موثر کردار ادا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ دراصل ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ بغیر سمندر میں اترے گہرائی کا اندازہ کر لیتے ہیں۔ کسی بھی علوم کی افادیت اور اہمیت کو پرکھا نہیں جاتا بلکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی سوشل سائنسز کا نام لیا جاتا ہے تو یہ تصور ابھرتا ہے کہ سماجی ورکر یاکسی پروفیسر کی بات ہورہی ہے۔ یہ فکری مغالطہ ان لوگوں نے پیدا کیا ہے جو دنیا کو متحرک نہیں دیکھنا چاہتے۔

ہمارے نوجوانون کے اذہان میں یہ بات سماگئی ہے کہ اگر وہ معاشرتی علوم کی تعلیم حاصل کریں گے تو ان کا مستقبل خطرے میں پڑسکتا ہے، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ انگریزی، اردو، فارسی یا عربی میں ماسٹرز اور ایم فل یا پی ایچ ڈی کرنے والے صرف ٹیچر ہی نہیں بنتے بلکہ مختلف سفارتخانوں میں مترجم کے طور پر بھی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ماہر نفسیات اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد نہ صرف جامعات میں اِس مضمون کے ٹیچر بلکہ مختلف اسپتالوں میں اپنی سروسز فراہم کر تے ہیں۔

ایک ماہر ِ عمرانیات (Sociologist) بھی معاشرے کی ترقی میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے ۔ یہ افراد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جرم ، جرائم اور مجرم کی نفسیات سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں ،اسی ضرورت کو سمجھتے ہوئے آکسفورڈ سے لے کر لندن اسکول آف اکنامکس تک دنیا کی ہر بڑی جامعات میں معاشرتی علوم کو خاص مقام حاصل ہے ۔ ہمارے وہ نوجوان جو ر سوشل سائینسز سے دور رہتے ہیں ، وہ غلطی پر ہیں کیوں کے جب تک وہ ان موضوعات کو پڑھیں گے نہیں، ان کا عملی تجربہ نہیں کریں گے توکس طرح اس کی اہمیت و افادیت کو سمجھ پائیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائمری سطح اور پھر مڈل تک ایسے اساتذہ کے لیکچرز رکھے جائیں جوطلبا کو ان کی درست سمت کا تعین کرنے میں مدد فراہم کر سکیں۔

والدین کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ بچوں کا مستقبل صرف خالص سائنسی علوم میں نہیں بلکہ معاشرتی علوم بھی ہیں۔ سماجی علوم کا بھر پور مطالعہ کیا جائے اور اس پر کھلے ذہن سے بحث مباحثہ کیا جائے تو اس سے عوام کے شعور اور آگہی کی حوصلہ افزائی ہو گی، اس کے علاوہ سماجی علوم مساوات، آزادی، رواداری اور سماجی انصاف کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ 

تعلیمی اداروں میں ان کی اہمیت کواُ جاگر کیا جائے، تاکہ سماجی علوم میں بھی اعلیٰ تعلیم کا تناسب بڑھ سکے اور اس سے جڑے قدیم و جدید نظریات، مسائل اور مباحث کو ان کی نئی جہتوں کے تناظر میں نہ صرف پر کھا جائےبلکہ ان تما م چیلنجز کو بھی زیر غور لایا جائے جس کی بنیاد پر درسگاہوں اور جامعات کے تعلیمی نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔