• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی سائبر سیکورٹی پالیسی منظور، سب سے زیادہ حفاظتی اخراجات عدلیہ پر ہورہے ہیں، وفاقی کابینہ

قومی سائبر سیکورٹی پالیسی منظور


اسلام آباد(ایجنسیاں)وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ عدلیہ پر سکیورٹی کی مد میں سب سے زیادہ اخراجات ہو رہے ہیں‘ وزیراعظم کی ہدایت پر سکیورٹی کے حوالے سے ایک نیا نظام وضع کیا جائیگا‘وفاق‘ پنجاب‘ گلگت بلتستان‘ خیبرپختونخوا اور کشمیر میں تھریٹ کمیٹیاں بنائی جائیں گی جو انفرادی خطرات کا جائزہ لیں گی اور اس کے مطابق سکیورٹی کا بندوبست کیا جائیگا۔

کابینہ نے سرمایہ کاری بورڈ کو کاروباری افراد‘کمپنیوںاور خصوصاً نیا کاروبار شروع کرنے والے افراد کی آسانی کے لیے فرسودہ قوانین کو ختم کرکے نئے قوانین کے اجرا کے عمل کا آغاز کرنے کا اختیار دیا ہے‘وفاقی کابینہ نے تھریٹ اسیسمنٹ کمیٹی کے قیام کی منظوری کے علاوہ ملک کی پہلی نیشنل سائبر سیکورٹی پالیسی اور حکومتی ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2021ءکی منظوری دے دی ہے۔

پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کو جاپان سے پانچ ایمبولینس درآمد کرنے کی اجازت دینے کے علاوہ وفاقی کابینہ نے جمہوریہ چیک کے ساتھ دوہری شہریت رکھنے کی تجویز کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے فیصلہ کیا کہ30نومبر 2021 تک چینی پر سیلز ٹیکس کا نفاذ ایکس مل پرائس پر کیا جائے گا، ہدف کے مقابلے میں کورونا ویکسین لگانے کی شرح کم ہے‘ سرکاری ملازمین کے لئے ویکسین لگوانا لازمی قرار دیا جا رہا ہے، ویکسین نہ لگوانے والوں کی موبائل فون سم بند کرنے کا آپشن موجود ہے۔ 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔فواد چوہدری نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ سکیورٹی کے سب سے کم اخراجات وفاقی کابینہ پر ہو رہے ہیں۔ عدلیہ پر سکیورٹی کی مد میں سب سے زیادہ اخراجات ہو رہے ہیں۔ 

کابینہ کو بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت پولیس کی جانب سے صدر ، وزیرِاعظم، گورنرز، وزراء اعلیٰ ، وفاقی وزراء، وزرائے مملکت ، مشیران اور معاونین خصوصی کی سیکورٹی پر762پولیس اہلکار، 14رینجرز جبکہ 50 ایف سی رہلکار تعینات ہیں جن پر کل70 کروڑ98لاکھ روپے سالانہ اخراجات ہیں۔ 

جج صاحبان کی سیکورٹی پر 377 پولیس اہلکار، 24 رینجرز اور 8ایف سی اہلکار تعینات ہیں جن کے اخراجات28کروڑ73لاکھ 68ہزار روپے سالانہ ہیں ۔ لاہور میں تقریباً 1143 ملین روپے خرچہ ہو رہا ہے۔اس میں کے پی، سندھ اور بلوچستان شامل نہیں ہے۔ 

اسی طرح سرکاری شخصیات کی سکیورٹی پر کل 106 پولیس اہلکار، 4 رینجرز، 47 ایف سی اہلکار تعینات ہیں جن کا خرچہ 10کروڑ 97لاکھ روپے ہے۔ اس طرح یہ کل خرچہ ایک ارب 9کروڑ80لاکھ روپے سالانہ ہے ۔ پنجاب پولیس کی جانب سے وزیرِاعظم، گورنر، وزیر اعلیٰ کو سیکورٹی فراہم کرنے کا سالانہ خرچہ 446.86 ملین روپے ہے۔ 

سابقہ وزرائے اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزراءاور مشیران و معاونین خصوصی کو سیکورٹی فراہم کرنے کی مد میں 105.87ملین روپے، جج صاحبان کو سیکورٹی فراہم کرنے کی مد میں 1143.17 ملین روپے جبکہ سرکاری شخصیات کو سیکورٹی فراہم کرنے کی مد میں 833.616 ملین روپے سالانہ کے اخراجات ہیں۔ اس طرح کل اخراجات 2529.5 ملین روپے سالانہ ہیں۔ 

سکیورٹی کی فراہمی میں خیبرپختونخوا پولیس کے سالانہ اخراجات تقریباً 998.34 ملین روپے ہیں۔ کابینہ نے سرمایہ کاری سے متعلق پاکستان کے بیرونی ممالک سے معاہدوں کے حوالے سے نئے فریم ورک اور حکمت عملی کی منظوری دی۔

اہم خبریں سے مزید