• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں ’انسانی اسمگلنگ کے خلاف‘ عالمی دن منایا گیا

برسلز(نمائندہ جنگ) دنیا بھر میں گذشتہ روزʼ افراد کی اسمگلنگ کے خلاف ʼ عالمی دن منایا گیا، اقوام متحدہ کے زیر اہتمام منائے جانے والے اس دن کا مقصد مختلف وجوہات کی بنا پر انسانی اسمگلرز کے بنائے ہوئے چنگل میں پھنس جانے والے افراد کی صورتحال کو اجاگر کرنا ہے، اقوام متحدہ کے آفس برائے منشیات و جرائم UNODC کے مطابق افراد کی اسمگلنگ ایک سنگین جرم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، ادارے کے مطابق ہر سال ہزاروں مرد ،عورتیں اور بچے زبردستی ، ڈیسپریشن یا بہتر زندگی کے خواب کی تلاش میں اپنے ہی ملک کے اور پھر بین الاقوامی انسانی سمگلرز کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جس کے باعث دنیا کا ہر ملک ہی اس سے متاثر ہے۔ چاہے وہ آبائی ملک ہو، راہداری یا پھر متاثرین کی اصل منزل۔ یو این او ڈی سی کے مطابق صرف 2018 میں 50 ہزار انسانی اسمگلنگ کے متاثرہ افراد کی نشاندہی کرکے ان کی معلومات دنیا کے 148 ممالک کو فراہم کی گئیں۔ اس میں سے 50 فیصد کو جنسی استحصال اور 38 فیصد کو جبری مشقت کیلئے استعمال کیا جا رہا جانا تھا۔ ادارے کے مطابق سمگلرز کی جانب سے خواتین اس مہم کا بڑا شکار ہوتی ہیں ۔ جس میں تعداد کے لحاظ سے خواتین 46 فیصد اور لڑکیاں 19 فیصد ہیں۔ اسی طرح ادارے کے مطابق ان نشاندہی ہونے والے متاثرین میں ہر تیسرا متاثرکوئی بچہ ہے۔ گذشتہ 15 سال میں انسانی سمگلرز کے ہتھے چڑھنے والے ان متاثرین میں بچوں کی تعداد میں تین گنا جب کہ لڑکوں کی تعداد میں 5 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دوسری جانب گذشتہ روز برسلز میں یو این او ڈی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر غادا والے اور یورپین کمشنر برائے ہوم افئیرز یلوا جانسن کی جانب سے اس دن کے حوالے سے جاری کردہ اعلامیے میں افراد کی سمگلنگ کے خلاف مشترکہ کوششوں کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
یورپ سے سے مزید