• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر :محمد رجاسب مغل۔۔۔بریڈفورڈ
سمجھ نہیں آ رہی کہ آزادکشمیر کی بات کروں یا مقبوضہ کشمیر کی بات کروں۔ آزادکشمیر میں انتخابات مکمل ہو چکے ہیں اب مظفرآباد کی کرسی کے لیے جوڑ توڑ شروع ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے نافذ کئے گئے کالے قانون جس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کیا گیاکو دو سال مکمل ہو چکے ہیں مقبوضہ کشمیر کے کشمیری دو سال سے بھارت کے جبر کے سائے میں قیدی بنے ہوئے ہیں جبکہ آزاد کشمیر میں بھی کشمیری پاکستان کی قیادتوں کے رحم وکرم پر ہے آزاد کشمیر میں ہو یا اوورسیز میں بسنے والے کشمیری یوں ہی ہر کوئی آزادکشمیر کی صورت حال پر ہلکان ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے جو کچھ بویا ہے وہی آج کاٹ رہے ہو آزادکشمیر کی جو صورتحال ہے اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ریاستی تشخص کا جو نعرہ تھا وہ دم توڑ چکا ہے آزادکشمیر الیکشن مہم میں آزادکشمیر قیادت کا کہیں نام ونشان تک نظر نہیں آیا۔ پاکستان کی لیڈر شپ ہی پورے آزادکشمیر پر چھائی رہی حقیقی معنوں میں آزادی کے بیس کیمپ کو اقدار کا ریس کیمپ بنا دیا گیا اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی گئیں جب انتخابات میں پاکستان کی سیاسی جماعتیں کامیاب ہوں تو اختیار بھی تو پاکستان ہی کی قیادت کو ہے کہ وہ مظفرآباد کی کرسی پر کسے بٹھائے ۔الیکشن میں دھاندلی کا کیا رونا پاکستان ہو یا آزادکشمیر کبھی بھی ہارنے والے نتائج تسلیم نہیں کرتے آزادکشمیر کی تاریخ ہی نرالی ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پاکستان میں جس پارٹی کی حکومت ہو وہ پارٹی آزادکشمیر میں کامیاب نہ ہو ہر پارٹی کو پتہ ہے کہ ماضی میں وہ کیسے اقتدار میں آتے رہے ہیں کشمیر کے فیصلے کشمیر کے بجائے کہیں اور ہوں تو کشمیر کی خودمختاری کا سوال تو بنتا ہے آزادکشمیر کے لیڈر خود ہی یہ اختیار پاکستان کی قیادت کو دے دیں تو پھر ان کے منہ سے ریاستی تشخص کی بات کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ تحریک آزادی کشمیر اور شہیدوں کے خون کو لے کر جو ہم دنیا بھر میں واویلا کر رہے ہیں آزاد کشمیر جو آزاد خطہ ہے اس کو مثال کے طور پر پہلے دنیا کے سامنے تو پیش کریں جس جمہوری حق کا ہم اقوام متحدہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کیا آزادکشمیر کے انتخابات کو بطور مثال پیش کر سکتے ہیں کہ آزادکشمیر کے با شعور عوام اپنے ووٹ کی پرچی سے اپنا فیصلہ دے سکتے ہیں۔ افسوس ناک بات ہےکہ پاکستان کی قیادت کا کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوانے کا نیا اعلان کشمیریوں کے ساتھ ایک طرح کا مذاق بلکہ بدترین مذاق ہے کیونکہ حکومت پاکستان کو پتہ ہے کہ نہ تو رائے شماری اور نہ استصواب رائے ہونا ہے اور نہ کشمیریوں کی اکثریت نے پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرنا ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ رائے شماری والی قراردادہندوستان کے کہنے پر پاس ہوئی تھی۔ہندوستان نے کبھی بھی اس پر عملدرآمد کی کوشش نہیں کی بلکہ اقوام متحدہ کے جتنے بھی مشن بنے ان سب کی یہ متفقہ رائے ہے کہ ہندوستان کبھی بھی رائے شماری کے معاملے میں سنجیدہ نہیں تھا اسی لیے شاید اس مسلئے کو حل کرنے کے لئے ادھر تم ادھر ہم کا معاملہ کرنے کی پالیسیاں بنائی جارہی ہیں ۔کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ آزادکشمیر کے پاکستان میں شامل ہو جانے کے بعد مکمل ہو جائے گا کیوں کہ یہ نعرہ لگانے والوں کی ڈوریں پاکستان کی قیادتوں کے ہاتھوں میں ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام اور شہیدوں کے خون کا کون جواب دے گا جو گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ سے پاکستان کی طرف دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔ جب بھی وہاں کوئی شہید ہوتا ہے تو وہ پاکستانی پرچم میں دفن کرتے ہیں یہ ان کی پاکستان سے محبت اور عقیدت ہے 90کی دہائی کے آغاز سے لے کر 2020کے اختتام تک بھارتی سفاک درندے فوجیوں نے ایک لاکھ 1192کشمیروں کو شہید کیا ۔17ہزار 900خواتین کی بے حرمتی کی گئی ایک لاکھ 20ہزار آٹھ سو بچے یتیم ہوئے 2لاکھ سے زائد املاک تباہ ہوئیں اور اسرائیل و دیگر یورپی ممالک سے درآمد شدہ پلیٹ گنوں سے ہزاروں بچے بوڑھے اور جوان کشمیری اندھے ہوگئے لیکن پھر بھی کشمیریوں کے جذبہ حریت کو ختم نہیں کیا جاسکا۔ آج بھی ہر روز مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور کشمیریوں کے قتل و غارت کی نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے یاسین ملک اور آسیہ اندرابی برسوں سے جیل میں پڑے ہیں انسانی حقوق کی اس سے بڑی خلاف ورزی کیا ہوگی۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں، سفارت کاروں یا حکومت کچھ نہیں کر سکی صدی کے آغاز سے لے کر آج تک دی گئی لاکھوں قربانیاں رائیگاں ہونے کا خدشہ ہے کیوں کہ موجودہ ہندوتواکے فلسفے پر عمل پیرا مودی سرکار جب سے بھارت پر مسلط ہوئی ہے اس نے سابقہ تمام حکومتوں کے ظلم و جبرکے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔بھارت نے5اگست 2019 کو آئین کے آرٹیکل نمبر 370اور 35۔اے کو غیر موثر کرکے کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کا آغاز کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر نہ ختم ہونے والا لاک ڈائون نافذ کردیا اور آج مقبوضہ وادی کے کشمیر ی 9لاکھ سے زائد موجود بھارتی سامراج کی فوج کے سنگینوں کے سائے میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔مقبوضہ جموں کشمیر اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہےجہاں پر معصوم و مجبورو مقید کشمیری ہر رو ز ظلم وجبر کے تاز یانے برداشت کررہے ہیں ۔مودی سامراج نے تمام کشمیری قیادت کو بھی مختلف جیلوں میں مقید کرکے ظالم عفریت کے پنجوں میں جکڑ رکھا ہے۔80لاکھ سے زائد معصوم و بے بس کشمیری گھروں میں جبری قید میں ہیں مقبوضہ کشمیر میں اس کالے قانون کو دو سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اب اللہ خیر کرے آزاد کشمیر میں انتخابات مکمل ہو جانے کے بعد آزاد خطے کے ساتھ کیا حشر ہو گا کیا نئی تاریخ رقم ہو گی نئے پاکستان کے بعد اب کون سا نیا کشمیر وجود میں آئے گا ۔
یورپ سے سے مزید