• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی تمام ڈسکوز کا ڈسٹری بیوشن سسٹم بوسیدہ ہوچکا ہے

ج-م

تمام ڈسکوز میں گزشتہ تین ماہ میں فیٹل اور نان فیٹل حادثات میں جس خوفناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ 90 دنوں میں 38 اور عیدالاضحی سے اب تک 9 لائن مین شہید ہو چکے ہیں جو کہ ایک خوفناک صورت حال کی عکاس ہے. ہماری بجلی کمپنیز کی اتھارٹیز بھی تاحال جانوں کے ضیاع کو غیر سنجیدگی سے لے رہی ہے یہی وجہ ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں آئے روز لائن سٹاف کے فیٹل اور نان فیٹل حادثات کی خبریں سننے پڑھنے اور دیکھنے کو مل ر ہی ہیں جس سے ہر ایمپلائی میں انتہائی تشویش پائی جاتی ہے اور وہ دل مسوس کر رہ جاتا ہے کہ کاش ایسے حادثات پر قابو پانے کے لیے منسٹری پاور ڈویژن اتھارٹی افسران اور یونین مل بیٹھ کر سنجیدہ عملی اقدامات اٹھائیں جو ان حادثات کو روکنے میں معاون ثابت ھوں۔

اس ساری صورتحال پر واپڈا پیغام یونین کے صدر ایس ڈی ثاقب اور ایڈیشنل چئیرمین پیغام یونین مسرور خٹک سے تفصیلی بات چیت ہوئی اوران سے ہم نے لائنوں پر ڈیوٹی کے دوران لائن مینوں کی جانیں جانے اور دیگر ایشوز پر کچھ بات چیت کی۔

پاکستان کی تمام ڈسکوز کا ڈسٹری بیوشن سسٹم بوسیدہ ہوچکا ہے
مسرور خٹک

ایس ڈی ثاقب اور مسرور خٹک کہتے ہیں کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں لائن سٹاف کے فیٹل اور نان فیٹل حادثات کی شرح دنیا کے تمام ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ برسات کے موسم میں اس شرح حادثات میں اضافہ ہوتا چلا آر ہا ہےہم شہید ہونے والے لائن مین کے لیے دو چار دن افسوس کرتے ہیں اور پھر اپنے اپنے کاموں میں مگن ھو جاتے ہیں۔ کوئی شہید کی بیوی اور بچوں سے جا کر پوچھے کہ جن کا سائبان سر سے ہمیشہ کے لیے اٹھ جاتا ہے ان کے دل پر کیا گزرتی ہے۔ کوئی بوڑھے ماں باپ کی د ہلیز پر بیٹھی اس بہن سے جا کر پوچھے کہ جس کے لیے اس کا شہید ہونے والا بھائی ہی سب کچھ تھا اور اسے رخصت کرنا تھا کوئی ان بوڑھے ماں باپ سے ان کے دل کی حالت پوچھے کہ جن کا شہید ہونے والا بیٹا ہی ان کی آس امید کا واحد سہارا تھا۔

انتہائی دکھ کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ہماری حکومت منسٹری اتھارٹی افسران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور ان حادثات کی بڑھتی ھوئی شرح کو روکنے یا کمی لانے کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جاتے ۔

مسرور خٹک نے کہا کہ صرف زبانی جمع خرچ کی حد تک ہی باتیں کی جاتی ہیں۔ہماری ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کا سپلائی سسٹم انتہائی بوسیدہ ہوچکا ہے۔ اسے اپ گریڈ کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے ۔خصوصاً LT سسٹم پر بہت زیادہ ورک کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ان بڑھتے ہوئے حادثات کے اسباب ڈھونڈنے کی کوشش کریں تو ان حادثات کے سب سے بڑی وجہ ایکسپرٹ لائن مین کی کمی ہے۔ 

حکومت اور منسٹری نئی بھرتی کر کے لائن سٹاف کی شارٹیج پوری کرے یہ کام حکومت اور منسٹری کے کرنے والا ہے جو اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی نظر نہیں آتی یوں تو ہر ایک کیڈر میں سٹاف کی شارٹیج ہے لیکن لائن سٹاف کی بھرتی ترجیحی بنیادوں پر کرنے کی فوری ضرورت ہے اگر آپ لائن سٹاف کی بھرتی نہیں کریں گے تو ایکسپرٹ لائن مین کی نئی کھیپ کیسے تیار ہو سکے گی؟

انھوں نے کہا کہ آپ جتنے مرضی سیفٹی سیمینار منعقد کرلیں جتنی مرضی ٹریننگز کا اہتمام کریں حتیٰ کہ دنیا کی کوئی بھی اکیڈمی ایک بھی ایکسپرٹ لائن میں پیدا نہیں کر سکتی لائن مین ہمیشہ اپنے سینئر لائن مین کو کام کرتے دیکھ کرہی سیکھتا ہے اور پرفیکٹ لائن مین بنتا ہے دوسری ا ہم ترین وجہ لائن سٹاف کو عالمی معیار کےآلات اور T&P مہیا کی جائے ۔جن میں فیس شیٹ والاہیلمٹ عالمی معیار کی بیلٹ ربڑ اور چمڑے کے دستانے عالمی معیار کے بوٹ وردی اور دوسرا سازو سامان شامل ہو۔ 

جو ان حادثات کو روکنے میں مدد گار ثابت ہو گا اور ایس او پیز کے مطابق تمام تر حفاظتی اقدامات کے ساتھ لائن مین سے لائن پر کام کروایا جائے وہ خواہ LT لائن ہو یا 11کے وی،تیسری اس دور حاضر کی سب سے بڑی ضرورت بکٹ گاڑیوں کی ہر ایک سب ڈویژن کو فرا ہمی حادثات کی شرح کو نیچے لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔اتھارٹی کہتی ہےکہ ہم شہید لائن مین کے ورثاء کو اس کی شہادت پر 35 لاکھ روپیہ دیتے ہیں اور ا س کے خاندان کے ایک فرد کو بھرتی کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہم ڈینجرس الاؤنس بھی دیتے ہیں۔

مسرور خٹک نے کہا کہ اتھارٹی کی طرف سے یہ مراعات قابل ستائش ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ آپ لائن مین کے شہید ہونے کے بعد یہ جو 35 لاکھ دیتے ہیں اس پیسے کو ان کی زندگی میں اس کی ڈیوٹی میں آسانیاں پیدا کرنے اور اس کی جان کی حفاظت کرنے پر خرچ کریں۔ بکٹ گاڑیاں لے کر دیں عالمی معیار کی مذکورہ چیزیں اور Equipment لے کر دیں ان کے لیے تمام تر سیفٹی اقدامات اور چالو لائن پر کام نہ کروانے کو یقینی بنائیں۔ 

لائن سپرنٹنڈنٹ اور ایس ڈی او کو پابند کریں کہ وہ کسی بھی صورت میں بغیر پرمٹ کے چالو لائن پر کام کرنے کے لیے مجبور نہ کریں بلکہ SOP کے مطابق پرمٹ کو یقینی بنائیں اور پول کو دونوں جانب سے ارتھ کیے بغیر لائن مین کو الیون کے وی پر کام کرنے کی اجازت نہ دیں۔ انجنئیرز جو کہ محض دفتروں میں بیٹھ کرڈیسک جاب کرتے ہیں انھیں فائل ورک سے نکال کر پریکٹیکل جاب پر لایا جائے۔

منسٹری اتھارٹی اور افسران کی تھوڑی سی توجہ لائن سٹاف کے حادثات میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ ان حادثات کی چوتھی ا ہم ترین وجہ یہ بھی ہے کہ جو لائن مین کام کو سمجھتا ہے ہمارے افسران اس بندے سے ہی 16 اور 18 گھنٹے تک کام لے ر ہے ہیں اس بیچار ے کو ریسٹ کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور اوپر سے افسران اس بندے پر کام جلدی کرنے کا بے جا پریشر بھی ڈالتے ہیں۔

کچھ لوگ یونین کی آشیر باد سے ڈیسک جاب پر بیٹھے ہیں اور لائن سٹاف والا کام نہیں سیکھا اور نہ سیکھنا چا ہتے ہیں. ایسے میں افسران بھی اسی بندے پر کام کرنے کے لیے پریشر ڈالتے ہیں جسے کام کرنا آتا ہے اور وہ کام کرنے والا لائن مین ایسے تمام لوگوں کے حصے کا کام بھی کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

پاکستان کی تمام ڈسکوز کا ڈسٹری بیوشن سسٹم بوسیدہ ہوچکا ہے
ایس ڈی ثاقب

ایس ڈی ثاقب اور مسرور خٹک نے مزید کہا کہ ان معاملات میں اگر اتھارٹی اور افسران تھوڑی توجہ فرمائیں تو کافی لوگوں کو نہ صرف کام پر لگایا جا سکتا ہے بلکہ بہت سے لوگوں کو کام سکھایا بھی جا سکتا ہے۔حاصل بحث یہی ہے کہ منسٹری اتھارٹی افسران اور یونین تھوڑی توجہ کریں اور لائن مین کی زندگی سیف کرنے کے لیے اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں تو آئے روز ایسے رونما ہونے والے دلخراش حادثات پر بہت بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

ہماری حکومت منسٹری اتھارٹی یونین افسران لائن سٹاف کو آن بورڈ لے کر جس دن کوئی واضع مربوط حکمت عملی طے کر لیں گے لائن سٹاف کی شرح حادثات میں واضع کمی نظر آئے گی اگر ایسا نہ کیا گیا تو 2023ء تک کام کرنے والے لائن سٹاف کا قحط پڑنے کا اندیشہ ہے۔کیونکہ 2022ء اور 2023ء کو سینیئر لائن سٹاف کی ایک بڑی تعداد کو ان کی ریٹائرمنٹ کا سال بھی کہا جا ر ہا ہے۔ اس صورت حال سے نمٹنے اور اس میں بہتری لانے کے لیے حکومت منسٹری اتھارٹی اور یونین کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہو گا ورنہ چراغ لے کر بھی ایکسپرٹ لائن مین مل نہیں سکے گا.. ڈسٹری بیوشن سسٹم کو چلانے کے لیے صرف لائن مین ہی کردار ادا کرتا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان جانکاہ حادثات کو روکنے اور اس بوسیدہ سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کے لیے کسی ڈسکو کمپنی نے شروعات کیں نہ مربوط حکمت عملی بنانے کے لیے اقدام کیا.. کمپنیز ہر سال اس سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کی مد میں اربوں روپے خرچ کرتیں ہیں لیکن ان اربوں روپوں کا کوئی سراغ لگایا جا سکتا ہے نہ ہی اربوں روپے جمع خرچ سے اس سسٹم میں بظاہر کوئی بہتری نظر آتی ہے . ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور اتھارٹی لائن مینوں کے جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے اس بوسیدہ سسٹم کو اٹھانے کے لیے چیک اینڈ بیلنس کے نظام کے ساتھ جامع حکمت عملی تیار کرے۔  تا کہ بجلی کا ترسیلی نظام جانوں کی حفاظت کے ساتھ رواں دواں رکھا جا سکے۔ 

ہم وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کرتے ہیں ڈسکوز کی بہتری کے لئے ہمارے پاس جامع پلان ہے وہ سنیں عمل کرائیں بجلی بھی سستی ہو گی لائن مین کی جانیں بھی بچ جائیں گی ان تمام مشکل حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے واپڈا ایمپلائز پیغام یونین نے فیلڈ سٹاف کو حادثات سے بچاؤ کے لئے 4 اگست کو پورے ملک میں یوم احتجاج کا اعلان کیا ہے تاکہ حکومت اور بجلی کمپنیز اتھارٹیز کی توجہ محنت کشوں کے مسائل کی طرف مبذول کروائی جا سکے اور لا ئن مینوں کے جانی ضیاع کو روکا جا سکے۔

کامرس سے مزید