• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبر پختونخوا میں یہ حقیقت رفتہ رفتہ کھلتی جارہی ہے کہ صوبائی حکومت کے بہت سے معاملات کا مرکز وزیر اعلیٰ ہاؤس کے علاؤہ دیگر مقامات بھی ہیں ،تین سال کا عرصہ مکمل ہونے کو ہے لیکن ابھی تک صوبائی حکومت کی صفوں میں استحکام و اطمینان کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں اوراب تو یہ روایت بنتی جارہی ہے کہ ہرتین چار ماہ کے بعد یا تو کسی وزیر مشیر کو فارغ کیا جائے گا یاپھر کابینہ میں نئے چہرے لائے جائیں گے،اب تک کم وبیش آدھ درجن سے زائد مرتبہ صوبائی کابینہ میں رد و بدل عمل میں لائے جاچکے ہیں اور اس کا آغاز بھی سب سے پہلے ہشام انعام اللّٰہ خان اور ضیا اللّٰہ بنگش کی باری سے ہوا جب دونوں کے محکمے تبدیل کئے گئے،ہشام انعام اللہ سے صحت جیسا اہم اور مضبوط محکمہ لیکر انہیں سماجی بہبود جیسا کم اہم اور چھوٹے بجٹ کا حامل محکمہ دیا گیا۔

اسی طرح ضیا اللّٰہ بنگش سے بھی ابتدائی و ثانوی تعلیم کی اہم ذمہ داری لیکر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے معاملات حوالے کئے گئے تاہم اس وقت بنیادی طور پر یہ تبدیلی دونوں کی مبینہ ناقص کارکردگی کی بدولت عمل میں لائی گئی تھی،اس تبدیلی کے باوجود صوبائی حکومت کی صفوں میں اطمینان نہ آسکا اور وزیرِ اعلیٰ محمود خان کے خلاف محاذ گرم رکھا گیا جس کے نتیجے میں جنوری 2020 میں تین اہم ترین وزراء کو بیک جنبش قلم برطرف کیا گیا جن میں اس وقت کے سینئر وزیر برائے سیاحت عاطف خان ،وزیر صحت شہرام ترکئی اور وزیر مال شکیل خان شامل تھے۔ 

جہاں تک عاطف خان کا تعلق ہے تو ان پر یہ الزام کھل سامنے آچکا تھا کہ وہ خود کو وزیرِ اعلیٰ محمود خان کی جگہ متبادل کے طور پر تیار کرنے میں مصروف تھے تاہم اس وقت وزیر اعلیٰ محمود خان کے دو ٹوک اور بروقت موقف کے باعث نہ صرف بغاوت کو وقت سے پہلے ہی کچل دیاگیا بلکہ مبینہ بغاوت کے تین سرخیل وزراء کو کچھ اس طرح باہر کیا گیا کہ تمام کوششوں کے باوجود اگلے ایک سال تک ان کی واپسی پھر ممکن نہ ہوسکی، اسی دوران کابینہ میں تبدیلی اور ردوبدل کا سلسلہ بھی مسلسل جاری رہا، قبائلی اضلاع کے انتخابات کے بعد وہاں سے تعلق رکھنے والے ارکان کو بھی نمائندگی دی گئی اسی دوران یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ صوبائی حکومت کے معاملات پر گورنر ہاؤس کے سائے گہرے ہوتے جارہے ہیں۔

نجی محفلوں میں تو صوبائی وزراء اور ایم پی ایز نے کھل کر یہ کہنا شروع کردیا کہ معاملات ٹھیک رکھنے کیلئے اب سب کو گورنر ہاؤس کی طرف دیکھنا پڑتا ہے اسکا ایک عملی مظاہرہ اس وقت سامنے آیا جب گورنر شاہ فرمان کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں وزیراعلیٰ محمود خان اور برطرف صوبائی وزیر عاطف خان کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں اور اختلافات کی برف پگھلنے لگی جس کے فوراً بعد عاطف خان اور شکیل خان دوبارہ کابینہ کا حصہ بن گئے، عاطف اور شکیل کی واپسی تو ہوگئی مگر کئی ماہ تک ان کے محکموں کے حوالے سے اختلافات برقرار رہے اور جب محکموں کا اعلان ہوا تو عاطف خان کو ان کی خواہش کے برعکس خوراک اور آئی ٹی کے محکمے دے کر ٹرخایا گیا۔

عاطف خان کی انٹری کے بعد ہی اندرون خانہ کشمکش کا سلسلہ جاری رہا اور وقتاً فوقتاً خبریں آتی رہیں کہ بعض وزرا، مشیر اور معاونین خصوصی سرخ دائرہ میں آچکے ہیں اور پھر اچانک ایک ہی دن دو صوبائی مشیروں اور ایک معاون خصوصی حمایت اللہ خان، غزن جمال اور ضیا اللہ بنگش اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے جبکہ اس سے قبل گزشتہ دعووں کے برعکس وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کے بھائی فیصل امین کو صوبائی وزیر بنادیا گیا تھا اس یوٹرن کے ساتھ ہی اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک بھی متحرک ہوگئے ، اسد قیصر اپنے بھائی اور پرویز خٹک اپنے فرزند کو کابینہ میں شامل کروانے کیلئے بھاگ دوڑ کرنے لگے۔ 

فیصل امین کی کابینہ میں شمولیت سے ظاہر ہے اسد قیصر کے بھائی اور پرویز خٹک کے صاحبزادے کی انٹری کی راہ بھی ہموار معلوم ہونے لگی تھی تاہم نہ صرف یہ دونوں تاحال اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں بلکہ علی امین گنڈاپور تمام تر کوششوں اور خواہش کے باوجود اپنے بھائی کیلئے پسندیدہ محکمہ حاصل کرنے میں بھی ناکام چلے آرہے ہیں اور یوں تین ماہ سے زائد گزرنے کے باوجود فیصل امین وزیر بے محکمہ ہیں، سینیٹ کے انتخابات اور اس کے بعد بجٹ کے معاملات تک صوبائی حکومت نے کسی نہ کسی طور معاملات کو چلائے رکھا تاہم تبدیلی کی لہر کو زیادہ دیر روکا نہ جاسکا اور آخر کار گزشتہ ہفتہ نوبت ہشام انعام اللہ اور قلندر لودھی کی برطرفی تک پہنچ ہی گئی حالانکہ قلندر لودھی کو محض چند ماہ قبل ہی صوبائی وزیر کے عہدہ سے معزول کرکے مشیر تعینات کردیا گیا تھا تاہم وہ اپنے آپ کو مزید بچانے میں ناکام رہے۔ 

اس سے قبل جتنے بھی وزرا مستعفی یا برطرف ہوئے ان میں سےتمام خاموشی کیساتھ ایک طرف ہوکر بیٹھ گئے تھے یہاں تک کہ عاطف خان جیسے طاقتور صوبائی وزیر نے بھی زیادہ ہنگامہ آرائی سے گریز ہی کئے رکھا لیکن پہلی مرتبہ ہشام انعام اللہ نے خاموش رہنے کی بجائے درپردہ اپنے حامیوں کو متحرک کیا ہوا ہے چنانچہ ان کے سینکڑوں حامیوں نے پشاور میں وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج کیلئے لکی مروت سے مارچ شروع کیا تاہم ، ہشام انعام اللہ نے کرم پل کے مقام پر انہیں پشاور آنے سے روکتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کی بجائے ہمارا احتجاج ڈیرہ اسماعیل خان میں علی امین گنڈا پور کے گھر کے سامنے ہوگا ، دوسری جانب ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مزید دو سے تین صوبائی وزرا کی باری آنے والی ہے ، مبصرین کے مطابق ایک طرف گورنر ہاؤس کی طرف سے مداخلت جاری ہے۔ 

دوسری طرف مرکز میں بھی موجود بعض شخصیات ڈورے ہلانے میں مصروف ہیں، یوں وزیر اعلیٰ محمود خان کو ایک بے بس وزیر اعلیٰ ظاہر کیا جارہا ہے اگرصوبائی حکومت نے اس منفی تاثر کے خاتمہ کیلئے کوئی بروقت قدم نہ اٹھایا تو اگلے دو اہم ترین سال بھر پور اکثریت کے باوجود تحریک انصاف مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے، وزیر اعلیٰ محمود خان کو اپنے ارکان اسمبلی اور وزرا کا اعتماد بحال کرنے کیلئے اب میدان میں آنا چاہیے بصورت دیگر گورنر ہاؤس کی طرف دیکھنے کی روش آگے چل کر کوئی بڑی انہونی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید