• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد اِس سال بھی ممکن نہیں

مقامی حکومتوں کی مدت 27 جنوری 2019 کو ختم ہو چکی ہےآئین کے تحت الیکشن کمیشن نے 120 دن کے اندر انتخابات کروانے ہوتے ہیں لیکن دو سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو ممکن نہیں بنا سکی مقررہ مدت میں انتخابات نہ کروانا آئین کی خلاف ورزی ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخو ا میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے صوبہ میں حلقہ بندی کا کام مکمل کر لیا ہے۔ 

صوبائی حکومت نے امسال ستمبر کے آخر یا اکتوبر کے وسط تک مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے پر رضامندی ظاہر کی تھی لگتا ہے کہ اس سال بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ۔ واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے فروری میں صوبے میں 15ستمبر2021کو مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا جس کی صوبائی کابینہ نے توثیق بھی کی تھی ۔ 

لیکن ا سکے باوجود ایک بار پھر صوبائی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں مارچ 2022ء میں بلدیاتی انتخابات کروانے کی تجویز سمجھ سے بالاتر ہے دوسری طرف الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں اگلے سال بلدیاتی انتخابات کی تجویز مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی مارچ 2022 میں الیکشن کے انعقاد کی تجویز ناقابل قبول ہےالیکشن کمیشن میں صوبہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اجلاس ہوا سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوامیں حلقہ بندیوں کا کام مکمل کر لیا ہے۔

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ صوبہ میں کورونا وباء، محرم الحرام کے ایام، لاء اینڈ آرڈر اور شمالی علاقہ جات کے موسمی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے صوبائی حکومت مارچ 2022 میں انتخابات کروانا چاہتی ہے جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا صوبائی حکومت کی تجویز ناقابل قبول ہے، معاملہ صوبائی کابینہ میں پیش کیا جائے اور الیکشن کمیشن کو صوبہ میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے فوری آگاہ کیا جائے تاکہ صوبہ میں الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنا یاجاسکے کولیشن فار انکلسیو پاکستان ( سی آئی پی ) نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والی خواتین نمائندوں روبینہ خان ٗنسیم ایاز ٗ ممبران افراد باہم معذوری احسان اللہ دائودزئی ٗزوار نور ٗایاز اور جاوید جبکہ خواجہ سراء کے نمائندوں کترینہ اور واجد نمکین کا سیاسی عمل میں نمائندگی کے حوالے سے کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں نئے ایکٹ کے تحت خواتین کا کوٹہ 33 فیصد سے کم کرکے صرف 17 فیصد کردیاگیا ہے جو کہ انتہائی کم ہے لہذا خواتین کیلئے یہ کوٹہ 33 فیصد بحال کیا جائے۔

بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ایسے حلقے جہاں پر خواتین ووٹروں کی پولنگ کی شرح کم ہو وہاں پر خواتین ووٹرز میں ووٹ ڈالنے کی اہمیت کے حوالے سے خصوصی آگاہی مہمات چلائی جائیں خواتین کے تمام پولنگ سٹیشنوں اور مشترکہ پولنگ سٹیشنوں کے زنانہ پولنگ بوتھوں پر خواتین انتخابی عملہ تعینات کیا جائے مشترکہ پولنگ سٹیشنوں پرخواتین کیلئے مختص پولنگ بوتھ بنائے جائیں اور ووٹوں کی گنتی علیحدہ کی جائے حاملہ خواتین کیلئے بھی پوسٹل بیلٹ کی سہولت فراہم کی جائے زیادہ فاصلہ کی بجائے پولنگ سٹیشن زیادہ فاصلہ قائم کرنے کی بجائے عارضی پولنگ سٹیشن قائم کئے جائیں۔ 

بلدیاتی سیٹ اپ میں خواجہ سرائوں کیلئے کوٹہ مختص کیا جائےالیکشن کمیشن آف پاکستان اور نادرا مشترکہ طورپر خواجہ سرائوں کے شناختی کارڈ اور ووٹر رجسٹریشن کیلئے خصوصی انتظامات کرے خواجہ سرائوں کی بلدیاتی انتخابات میں بطور امیدوار اور ووٹرز شمولیت یقینی بنانے کیلئے قانونی اقدامات کئے جائیںباہم معذوری افراد سیاسی و انتخابی عمل میں نمائندگی چاہتے ہیں نچلی سطح پر نمائندگی ملنے کی صورت میں باہم معذوری افرادکے مسائل حقیقی معنوں میں حل ہوسکیں گے جس کے لئے افراد باہم معذوری کیلئے بلدیاتی سیٹ اپ میں کوٹہ مختص کرنا چاہیے جس طرح اقلیتوں کا کوٹہ ہے اسی طرح افراد باہم معذوری کیلئے بھی بلدیاتی سیٹ اپ میں کوٹہ مختص کیا جائے۔ 

دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے مطابق حکومت اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کیلئے پر عزم ہے حکومت اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی پر یقین رکھتی ہے تاکہ عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل ہو سکیں۔ 

دوسری طرف عوام سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ کیا 2021 ء میں بلدیاتی انتخابات ہوسکیں گے یا نہیں انکا کہنا ہے کہ حکومت جس طرح بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیا رکر رہی ہے اور مختلف بہانوں سے بلدیاتی انتخابات کروانے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہےاس سے حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے یہاں پر ایک بات واضح کرتے چلیں اگر وزیر اعلی محمود خان حقیقی معنوں میں نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی میں سنجیدہ ہیں اور تحریک انصاف کی منشور کے مطابق بلدیاتی نظام لانا چاہتے ہیں تو انہیں بلدیاتی ایکٹ کو حقیقی معنوں میں عوامی خواہشات کے مطابق بنانا ہوگا تاکہ حقیقی معنوں میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہو اور نچلی سطح پر ہی عوامی مسائل حل ہوسکیں۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید