• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

اس سے پہلے کہ ہم آپ کو کاہنہ کاچھا ریلوے اسٹیشن کے بارے میں کچھ بتائیں۔آئیے کوٹ لکھپت ریلوے اسٹیشن کےبارے میں کچھ بات کرلیں۔ اس اسٹیشن کے حالات اب ماضی کے مقابلے میں اس قدر ابتر ہوگئے ہیں کہ بیان سے باہر ہے، اس ریلوے اسٹیشن کا ویٹنگ روم دیکھ کر ہم حیرت میں پڑ گئے۔ پلیٹ فارم پر ٹین کی زنگ آلود تکون چھت کے نیچے مسافر بغیر پنکھوں کے بیٹھے ہوئے تھے۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ریلوے اپنی اربوں کی جائیداد بے دردی سے برباد کررہا ہےجو بیان سے باہر ہے۔ کبھی اس ریلوے اسٹیشن پر سینکڑوں مزدور روزانہ آتے جاتے تھے۔ لاہور اسٹیشن کے بعد یہ سب سے زیادہ مصروف ریلوے اسٹیشن تھا جبکہاب یہاں الّو بول رہے ہیں۔ دو چار ٹرینیں ہی گزرتی ہیں۔

کاہنہ کاچھا ریلوے اسٹیشن کی عمارت 1945ء میں تعمیر کی گئی تھی جو قدیم طرز تعمیر کی حامل ہے۔ اس کے کیبن رومز اگست 1949ء میں تعمیر کئے گئے تھے۔ہم جب کوٹ لکھپت ریلوے اسٹیشن سے کاہنہ کاچھا ریلوے اسٹیشن کے لئے روانہ ہوئے تو اس وقت شام کے سات بج رہےتھے، ہم ریلوے لائن کے ساتھ بڑی دیر تک گاڑی چلاتے رہے، بہت دور جانے کےبعد کیبن روم نظر آیا۔ ہم چار لائنیں کراس کرکے جب اس کبین روم تک پہنچے تو یہ دیکھ کر انتہائی افسوس ہواکہ تمام کھڑکیاں اور دروازے غائب تھے۔کانٹا تبدیل کرنے والا کوئی لیور موجود نہیں تھا، ہم بڑی مشکل سے اس کیبن روم کی پہلی منزل تک پہنچے ، یہ ڈر لگا رہا کہ اس کی لکڑی کی چھت کہیں گر نہ جائے کیونکہ ہر کیبن روم کی پہلے فلور کی اور اوپر والی چھت لکڑی کی ہوتی ہے، لیورز کے کام کرنے کے لئے کچھ ا س طرح کی چھت ڈیزائن کی جاتی ہے کہ تمام لیورز لکڑی کی چھت میں سے باہر آتے ہیں اور کیبن روم کی چاروں طرف کی کھڑکیوں سے کیبن مین کانٹا تبدیل کرتے وقت لائنوں کو خودبھی فزیکلی دیکھتا ہے کہ اگر کانٹا تبدیل کرتے وقت وہاں کوئی چیز درمیان میں ہو تو اس کو خود جا کر باہر پھینک سکے۔ پھر دونوں لائنیں آپس میں درست انداز میں مل جاتی ہیں۔ شام کے سائے ڈھل رہے تھے اور اس کیبن روم میں کوئی نہیں تھا۔ ہوسکتا ہے یہاں رات کو جرائم پیشہ افراد کچھ مشکوک سرگرمیاں کرتے ہوں۔ اس کبین روم کی سامنے کی دیوار پر اس کی تعمیر کی تاریخ اگست 1949درج تھی۔ کئی برس قبل جب ہم نے کاہنہ کاچھا ریلوے اسٹیشن دیکھا تھا تو اس وقت یہاںبڑی رونق تھی۔ ہمیں یاد ہے کہ ہمیں دور سے اس کیبن رومز کی لائٹیں اورپنکھے تک چلتے نظر آ رہےتھے۔ کبھی ان کیبن روم میں صرف 100/60 واٹ کے بلب ہوا کرتے تھے پھر بعد میں ٹیوب لائٹس آگئیں۔ اب ان میںسے بعض کیبن رومز میں مستقل اندھیرا ہے۔کاہنہ کاچھا اسٹیشن کی عمارت بھی بڑی خوبصورت اور انگریزوں کے روایتی طرز تعمیر کی عکاس ہے ۔ مشرف کے دور تک لاہور کے تمام ریلوے اسٹیشنوں کی تاریخی عمارتیں پیلے رنگ کی ہوتی تھیں یعنی ان پر پیلی قلعی اور سفیدقلعی کا بارڈر ہو تا تھا۔ مشرف دور میں کسی وزیر نے پتہ نہیں کس کو نواز نے کے لئے تمام وہ اسٹیشن جن کی عمارتیں پیلے رنگ کی تھیں ان پرسفید قلعی پھیر دی۔ البتہ کراچی کے ڈرگ روڈ کے تاریخی اسٹیشن کی عمارت آج بھی پیلی اور کسی حد تک اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔

پتہ نہیں ریلوے کے افسروں نے ان تاریخی ریلوے اسٹیشنوں کی حفاظت کیوں نہ کی۔ خیر کاہنہ کاچھا (سرکاری طور پر اس کا نام کاہنا کاچھا اس طرح لکھا ہوا ہے ویسے اسے لانگڑ پنڈ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اصل اسٹیشن لانگڑ پنڈ میں ہے۔ کاہنہ کاچھا دو سکھ بھائی تھے جنہوںنےیہ گائوں آباد کیا تھا)ریلوے اسٹیشن پر جب پہنچےتو ہر طرف گوبر کی بدبو پھیلی ہوئی تھی۔ عمارت اندھیرے میں گم تھی، راستے میں کم از کم سو کنال رقبے سے بھی زائد علاقے پر لاہور کی تمام گائے، بھینسوں کاگوبر ریڑھیوں پر لاد کر یہاں پھینکا جاتا ہے۔ پہلے تو ہم نے ریلوے لائنوں کے ساتھ کچھ سفر کیا اور پھر ہمیں عجیب و غریب راستوں سے ریلوے اسٹیشن کی عمارت تک جاناپڑا۔ حیرت اور دکھ کی بات یہ ہے کہ اس تاریخی ریلوے اسٹیشن کی عمارت میںگائے، بھینسیں بغیر کسی روک ٹوک کے پھر رہی تھیں، جگہ جگہ گوبر پڑا ہوا تھا، کوئی لائٹ نہیںتھی۔ حسب روایت ہمارایہاں بھی کچھ عجیب و غریب لوگوں سے واسطہ پڑا۔ یہ تمام لوگ قبضہ مافیا ہیں، پتہ نہیں اب تک کیبن روم کی لوہے کی قیمتی سیڑھی کیسے چوروں سے بچ گئی ہے۔ کوئی یقین کر سکتا ہے کہ 2016ء تک یعنی آج سے صرف پانچ برس قبل تک یہ ریلوے اسٹیشن پوری طرح کام کررہا تھا۔ اس کے تمام سگنل، اس کے کیبن روم کے تمام لیورز، اسٹیشن ماسٹر کے کمرے کے اندر نصب تمام آلات ، مشینری اور ٹیلی فون کا نظام کا م کر رہا تھا۔ ٹرینیں یہاںٹھہرتی تھیں، مسافر اترتے اور چڑھتے تھے۔ ہمیں یاد ہے کہ بچپن میں ہم جب کبھی یہاں آتے تو دودھ فروخت کرنے والوں یعنی گوجروں کی خاصی تعداد کو ٹرین میں سفر کرتے دیکھتے ، ہم جب گزشتہ دنوں جیابگا گئے تو ہم نے وہاں کے اسٹیشن ماسٹر حسن عمران بخاری سے پوچھا کہ جو ٹرین کاہنہ کاچھا سے لاہور اسٹیشن جاتی تھی اس میں گوالے کیوں اتنی تعداد میں ہوتے تھے تو انہوں نے بتایا کہ لاہور کے اردگرد تمام دیہات کےگوالے اپنے دودھ کے برتن اٹھائے ٹرین میں سوار ہوتے تھے اور وہ یہ دودھ لاہور شہر جا کر فروخت کیا کرتے تھے۔ (جاری ہے)

تازہ ترین