• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سارے صدور ممنون ہوتے ہیں نہ رفیق تارڑ، نہ کوئی یہ فضل الٰہی یا سردار یعقوب ہونا ہی عَظّمَ کے زمرے میں آتا ہے۔ واجب التعظیم ہونے کی سدا بہاری، سیاسی برزیدگی کی بقا اور بصیرت برائے ریاستی امور کیلئے چِلَّہ کاٹنا پڑتا ہے، گویا عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی / یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے! اور مکتبِ عشق کا واقعی یہ دستور ہے کہ اس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے۔

مظفرآباد کے ایک سبزہ زار پر جب جامعہ کشمیر کے زیرِ اہتمام ایک دلکش الوداعی تقریب کا منظر جگمگا رہا تھا اور جانِ محفل صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان تھے، کشمیر کی پانچوں جامعات کے شیوخ بھی وہاں جلوہ افروز تھے اور مظفرآباد ویلی کے چاروں نو منتخب ایم ایل ایز بھی۔ راقم نے اس موقع پر دو باتیں عرض کیں: (1) ’’اسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا‘‘۔ اس بات کا تعلق صداقت عامہ سے تھا۔ (2) دوسری بات خالصتاً سیاسی تھی جو ایم ایل ایز اور وائس چانسلرز کی نذر کی تھی تاہم اس میں منیر نیازی کا سہارا لیا کہ: یہ ناآباد وقتوں میں، دل ناشاد میں ہوگی۔ محبت اب نہیں ہوگی، یہ کچھ دن بعد میں ہوگی۔ گزر جائیں گے جب یہ دن، یہ ان کی یاد میں ہوگی!

یہ بات اس وقت قابلِ ذکر ہے جو بعد میں کبھی کی گئی تو شاید اتنی سود مند اور نتیجہ خیز نہ ہو سکے، اس میں اہلِ علم اور جدید سیاست کے شہ سواروں کیلئے نشانی ہے، میزبان ڈاکٹر کلیم عباسی (شیخ جامعہ کشمیر) اور دیگر چاروں شیوخ کی لہجگی اور ادائیگی لفظ بتا رہی تھی کہ وہ مطمئن ہیں، جس سے بچھڑ رہے ہیں وہ۔ مسعود خان کا تبسم اپنی جگہ اظہارِ تشکر کی تصویر لگا۔ بلاشبہ مسعود خان کشمیر ہی نہیں کشمیریت سے بھی آشنا ہیں، چین میں سفارت کاری سے جنیوا و سوئٹزر لینڈ اور واشنگٹن و نیویارک کی ڈپلومیسی میں وہ ایک شاہکار کردار رہے۔ یو این جنرل اسمبلی ہو یا یونیسف، تاریخ ان کو معتبر گردانتی ہے، معاملہ وزارتِ خارجہ کے ترجمان رہنے کا ہو یا بائیولوجیکل اور سائیکالوجیکل وارز کی نزاکتوں کا، وہ صاحبِ بصیرت دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ذات اور ذاتی سیاست کو بطور صدر قریب تک نہ پھٹکنے دیا کیونکہ انہیں ادراک تھا کہ وہ سربراہ ریاست ہیں گویا ریاست ان کا سبجیکٹ اور آوبجیکٹ رہا مگر نومنتخب صدر بیرسٹر سلطان محمود کا معاملہ بطورِ صدر یقیناً اس کے برعکس ہوگا کیونکہ وہ تو سربراہ حکومت بننا چاہتے تھے مگر سردار تنویر الیاس کی نئی نویلی معاشی سیاست نے منزل کے راستے میں دیوار چن دی مگر ان کی لیڈری اس منصبِ صدارت کو بھی چار چاند لگا سکتی ہے دیکھنا یہ ہے مستقبل میں کون سا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

جہاں تک مسعود خان کا معاملہ ہے، وہ ملک بھر کے چانسلروں کی نسبت اپنی بساط میں یونیورسٹوں کے انٹر پرنیور شپ، کنسورشیم، کمیونٹی سنٹرز اور انڈسٹریل روابط پر زور دیتے اور نوجوانوں کے پاکستان میں 64فیصد ہونے کو مبارک سمجھتے گویا وہ امرجنگ گلوبل ٹرینڈز کی فلاسفی کو سمجھنے والے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس سے استفادہ کرنا ملک و قوم کیلئے فائدہ مند ہوگا چین اور چائنیز کا ادراک یہ کہتا ہے کہ یہ سی پیک میں بہترین سفارتی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے قلم کے صریر خامہ اور عزم کی پختگی سے ایک طاقتور اور پراثر عالمی بازگشت بنے جو کشمیر اور کشمیریت کی گلوبل وکالت ہو۔ وہ ایک مؤثر تھنک ٹینک تو ہیں ہی! دیکھنا یہ ہے کہ کشمیر ہائر ایجوکیشن کیسے استفادہ کرتی ہے۔ چاہئے تو یہ کہ نئے چانسلر بیرسٹر صاحب مسعود خان سے ملتے ملاتے رہیں جس سے کشمیر کے مقدمہ اور ہائر ایجوکیشن میں عالمی سطح کے اہداف کا حصول یقینی ہو سکتا ہے، کم از کم مسعود خان بیرسٹر کیلئے کوئی سیاسی خطرہ نہیں بلکہ وہ قومی و بین الاقوامی کشمیری مفاد ہی ثابت ہوں گے، بیرسٹر سلطان محمود 80کی دہائی سے کشمیری سیاست میں سرگرم عمل ہیں اور اب وہ مجموعی طور پر آزاد جموں و کشمیر کے 27ویں صدر ہیں، 1985میں پہلی مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اب تک وہ 8مرتبہ انتخابی فاتح رہے اور صرف دو دفعہ اپنی نشست ہارے تاہم ایک مرتبہ وزیراعظم اور ایک مرتبہ قائدِ حزبِ اختلاف رہنا اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ زیرک بھی ہیں اور ہردلعزیز بھی سو ریاست کی صدارت کو نئی بین الاقوامی جہتوں اور چانسلر شپ کو گلوبل ٹرینڈز سے ہم رکاب رکھنا ان کیلئے زیادہ مشکل نہیں مگر محنت طلب ضرور ہے!

رہی بات مسعود خان کی تو انہیں اب ذاتی و قومی سطح پر کشمیریت کا بیڑا اٹھانا ہی پڑے گا، اس کا تقاضا قومی ہی نہیں ان کی اپنی صلاحیتوں کا بھی ہوگا، قصہ مختصر بھارتی آئین سے 370اور 35(اے) جیسی دفعات کو سبوتاژ کرنے پر ایک کھلم کھلا موقف اور ایجنڈا ذاتی و قومی تناظر میں لے کر آگے چلنا ہوگا چونکہ وہ ایک انمول کشمیری سرمایہ اور عظیم قومی اثاثہ ہیں چنانچہ اس طرح کا اور کوئی قد کاٹھ نظر نہیں آتا، اس کا ادراک یقیناً وزیراعظم پاکستان، وزیر خارجہ پاکستان اور نومنتخب کشمیری قیادت کو بھی ہے، پس دیر کی گنجائش نہیں، جتنی جلدی ممکن ہو انہیں کشمیری وکالت اور پاک خارجہ پالیسی کی ذمہ داریوں سے ہم کنار ہونا چاہئے۔ افغانستان کی حالیہ صورت حال بھی ایک اچھی پاک خارجہ ٹیم کی متقاضی ہے۔

جاتے جاتے، یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر کی تقریب میں مسعود خان کی دو باتوں کا تذکرہ ضروری ہے، ایک تو انہوں نے میرے دل کی بات کی، وہی بات جو راقم بھی زباں پر لایا، جب ایسی ہی ایک تقریب میں سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اور ڈاکٹر کلیم عباسی موجود تھے اور عرض کی کہ پاکستان میں سب سے زیادہ تعلیمی شرح رکھنے والا یہ خطہ گر ایک نوبل پرائز کا حامل شخص پیدا کردے تو اس کی پاورفل آواز اور اپیل اقوام متحدہ نظرانداز نہیں کر سکے گا۔ مسعود خان بھی کسی نوبل انعام یافتہ کے خواہاں ہیں جو چانسلرز اور یونیورسٹیاں ہی دیا کرتی ہیں، یقیناً یہ پیغام اور خواہش نئی سرکار کے کانوں تک بھی گئی ہوگی جو یونیورسٹیوں کو میرٹ، فنڈز اور احترام سے تقویت بخشے گی۔ دوسری بات ایک بڑا پیغام تھا جو کمیونٹی، نوجوانوں، سیاستدانوں اور اساتذہ کو سمجھنا ہوگا کہ آخر کب تک سرکار ہی بڑی ’’انڈسٹری‘‘ اور بڑی ایمپلائر بنی رہے، ضروری ہے کہ انٹرپرنیورر پیدا ہوں جو روزگار کے متلاشی نہیں فراہمی روزگار والے ہوں تبھی جاکر کشمیر اور کشمیری قد کاٹھ کا قومی و بین الاقوامی رعب ہوگا، قیادت اور نوجوان کے رعب اور حریت کیلئے اموشنل اور اکانومی بلیک میلنگ کا بالائے طاق ہونا ضروری ہے، جاناں!

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین