• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

عوامی مسائل کے حل کیلئے سب کی نظریں بلدیاتی انتخابات پر مرکوز

افغانستان میں طالبان کی فتح اور وہاں تیزی کیساتھ بدلتے حالات نے یقیناً پاکستان میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے کیونکہ افغانستان کے حالات کا پاکستان پر گہرا اثر پڑتا ہے بلکہ صوبہ خیبر پختونخوا تو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، افغانستان میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے بعد سے جب افغان طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے لگا تھا تو جس طرح مئی میں امریکی انخلا کے بعد طالبان نے تیز رفتار پیش قدمی شروع کردی تھی اسی وقت سے پاکستان کی طرف سے آنیوالی صورت کے حوالے سے اعلیٰ سطحی مشاورتی عمل بھی شروع ہوچکا تھا۔ 

ان ہی دنوں افغان مہاجرین کی ممکنہ آمد سے متعلق حکمت عملی بھی مرتب کی جارہی تھی اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اگر افغان مہاجرین ہجرت کرتے ہیں تو اس مرتبہ انہیں پورے ملک میں پھیلنے کی بجائے سرحدی مقامات پر کیمپوں میں ہی رکھا جائیگا ،اس مقصد کیلئے بعض مقامات کا انتخاب بھی ہوچکا تھا ، اب جبکہ افغان طالبان کابل پر قابض ہوچکے ہیں اور وہاں حالیہ بم دھماکوں میں سینکڑوں شہری مارے جاچکے ہیں جس کے باعث خیبر پختونخوا میں بے یقینی کی ایک لہر چل رہی ہے چنانچہ اسی حوالے سے صوبائی حکومت نے سکیورٹی کے انتظامات سخت کرنے کیساتھ نمائندہ مکاتب فکر کیساتھ مشاورتی نشستوں کا انعقادبھی شروع کیا ہوا ہے۔

افغانستان کے حالات کی بدولت یہ خدشات اب بڑھ چکے ہیں کہ صوبہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد موخر ہوگا، اس سے قبل عدالت عظمیٰ کے حکم پر صوبہ میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا اور اس کیلئے ستمبر کے آواخر اور اکتوبر کے اوائل میں تاریخ کا اعلان کیا جانا تھا تاہم ایک طرف افغانستان کی صورت حال اور افغان مہاجرین کی آمد کے پیش نظر بلدیاتی انتخابات شکوک و شبہات کی زد میں آچکے تھے بلکہ اس سلسلے میں کورونا وبا کی چوتھی لہر بھی اب خطرہ کی گھنٹی بجاتی دکھائی دے رہی ہے، ظاہر ہے کہ جو ایس او پیز جاری کئے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے کورونا کی شدت میں کمی تک الیکشن کے انعقاد کے امکانات دکھائے نہیں دے رہے ہیں۔

تاہم اب ایک اور ایشو اٹھایا جارہا ہے کہ قبائلی اضلاع میں بلدیاتی حلقہ بندیاں ابھی تک نہیں ہوئی ہیں یوں افغانستان کی صورتحال، کورونا کی چوتھی لہر اور حلقہ بندیوں کی عدم تکمیل نے صوبہ میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات معدوم تر کردئیے ہیں جس سے یقینی طور پر عوام میں مایوسی بھی پھیل رہی ہے کیونکہ صوبہ میں بلدیاتی اداروں کے خاتمہ کے دو سال بعد اب عوامی مسائل کے حل کیلئے سب کی نگاہیں بلدیاتی انتخابات پر ہی مرکوز تھیں البتہ الیکشن کے التوا کیلئے حکومت کو عدالت عظمیٰ کی اجازت لینی ہوگی بصورت دیگر الیکشن کمیشن واضح کرچکا ہے کہ بلدیاتی انتخابات مزید ملتوی نہیں کئے جاسکتے اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس کٹھن مرحلہ پر خود کو کیسے نکال پاتی ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ بلدیاتی انتخابات اب جلد سے جلد ہوجانے چاہئیں، ادھر پاکستان پیپلز پارٹی نے خیبر پختونخوا میں ایک مرتبہ پھر کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کیلئے وہی روایتی فارمولا آزمانے کی مشق شروع کردی ہے جس کے تحت ایک اور صوبائی صدر ہمایون خان کی قربانی دی جاچکی ہے، انجینئر ہمایون خان جو دعوے کرکے صوبائی صدارت کی کرسی پر براجمان ہوچکے تھے۔ 

یقینی طور پر وہ ان وعدوں اور دعوؤں کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں کیونکہ ان کے دور صدارت میں پیپلز پارٹی صوبہ میں عام انتخابات میں کوئی کارکردگی نہیں دکھا پائی تھی حتیٰ کے پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھی اسی صوبہ میں شکست سے دوچار ہونا پڑا ، اس میں کوئی شک نہیں کہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو خیبر پختونخوا میں کوئی مضبوط صوبائی قیادت میسر نہیں آسکی ہے چنانچہ وہ جماعت جو آفتاب شیرپاؤ کی قیادت میں اس صوبہ میں مختصر عرصہ میں دو مرتبہ صوبائی حکومت بناچکی تھی۔ 

وہ رفتہ رفتہ پس پردہ جاتی گئی اور اگر اب جائزہ لیا جائے تو پی پی صوبہ کی چھوٹی جماعتوں کی صف میں دکھائی دیتی ہے، پارٹی کی مرکزی قیادت نے گزشتہ دو عشرےکے سیاسی حالات اور حقائق کا تجزیہ کئے بغیر ایک مرتبہ پھر صوبائی صدر کی تبدیلی سے نتائج کی جو توقع باندھی ہوئی ہے وہ یقیناً پوری کرنا نئے صوبائی صدر نجم الدین خان کیلئے ناممکن دکھائی دے رہا ہے کیونکہ پارٹی کے اندر موجود اندرونی کشمکش اور سیاسی تقسیم کی لکھیر مزید واضح ہورہی ہے، نجم الدین خان اور ان کے گروپ سے اختلاف رکھنے والے پارٹی قائدین انہیں ٹف ٹائم دینے کی تیاری کرچکے ہوں گے، اس لئے اگرمرکزی قیادت صوبہ کے حالات پر توجہ نہیں دے گی تو نئی پارٹی قیادت سے توقعات رکھنا عبس ہی ہوگا۔ 

نئے صوبائی صدر نجم الدین خان بھی یہ عزم دوہرا رہے ہیں کہ پارٹی چھوڑنے والے تمام رہنماؤں کیساتھ رابطے کرکے انہیں واپس پارٹی میں لایا جائیگاحالانکہ یہ اب ایک روایت بنتی جارہی ہے کہ پیپلز پارٹی کا جو بھی نیا صوبائی صدر آتا ہے وہ کم از کم آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی واپسی کیلئے دعوے ضرور کرتا ہےچنانچہ موجودہ صوبائی صدر بھی اپنی پہلی پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ دوہرا چکے ہیں بلکہ نجم الدین خان نے تو ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اپنے سابق ساتھی اور موجود وزیر دفاع پرویز خٹک کو بھی پیپلز پارٹی میں واپس آنے کی دعوت دی ہے، پرویز خٹک کا تو فی الوقت کوئی موقف سامنا نہیں آیا ہے تاہم آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے انہیں اور پیپلز پارٹی کو کھری کھری سنا دی ہے، اور کہا ہے کہ’’ ان کا پیپلز پارٹی میں واپس جانیکا کوئی ارادہ تھا نہ ہے بلکہ یہ باب 20 سال پہلے بندہوچکا ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید