لاہور (صابر شاہ) 65؍ سال کے سرکردہ پاکستانی بزنس مین جاوید سیف اللہ، جن کے پاس اپنے خاندان کی 34؍ میں سے 17؍ آف شور کمپنیاں ہیں، امریکا کی باوقار کارنیگی میلن یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں۔ سیف اللہ خاندان نہ صرف با اثر ہے بلکہ معزز بھی تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ آف شور کمپنیاں قانون کے مطابق قائم کی گئی ہیں یا نہیں۔ کئی معتبر کمپنیاں قانون کے مطابق آف شور کمپنیوں کے ذریعے کاروبار کرتی ہیں۔ 1973ء میں پٹسبرگ یونیورسٹی سے ایم بی اے کرنے کے بعد جاوید سیف اللہ پاکستان منتقل ہو کر خاندان کے کاروبار میں شامل ہوگئے۔ 1979ء میں جاوید سیف اللہ نیو یارک میں قیام پذیر ہوئے تاکہ اپنے خاندان کے ٹیکسٹائل کے کاروبار کو فروغ دے سکیں۔ 1981ء میں جب وہ چھٹیوں پر اسلام آباد پہنچے تو ان کی والدہ نے خاندان کے سب لوگوں کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ وہ خاندان کا کنٹرول سنبھال لیں کیونکہ ان کے بھائی سلیم سیف اللہ اس وقت صوبۂ سرحد میں بحیثیت وزیر خزانہ عہدے کا حلف اٹھانے والے تھے۔ جاوید سیف اللہ جاوید گروپ آف کمپنیز کے چیف ایگزیکٹو رہے ہیں جس کے کاروبار میں ہیلتھ کیئر، سیمنٹ، ٹیکسٹائلز، ریئل اسٹیٹ اور توانائی اور ٹیلی کمیونیکیشن وغیرہ کا شعبہ شامل ہے۔ سیف گروپ کے ٹیکسٹائل ڈویژن میں تین کمپنیاں ہیں: سیف ٹیکسٹائل ملز (88 ہزار 476 اسپنڈلز نصب ہیں)، کوہاٹ ٹیکسٹائل ملز (44 ہزار 400 اسپنڈلز نصب ہیں) اور میڈی ٹرینین ٹیکسٹائل کمپنی (یہ کمپنی مصر میں ہے)۔ اسی کاروباری گروپ نے 1994ء میں میسرز موٹرولا کے اشتراک کے ساتھ پاکستان میں جی ایس ایم سیلولر فون سروس متعارف کرائی۔ اس کمپنی کو موبی لنک کا نام دیا گیا۔ لیکن 2007ء میں سیف گروپ نے یہ کمپنی فروخت کر دی۔ جاوید سیف اللہ خیبر پختونخوا کی مرحومہ سیاست دان بیگم کلثوم سیف اللہ کے صاحبزادے ہیں، جن کا انتقال جنوری 2015ء میں ہوا۔ جاوید کے والد سیف اللہ خان نے جنگ عظیم دوم کے آغاز کے دوران ڈبہ بند مصنوعات کا کاروبار شروع کیا تھا۔ ان کا انتقال 1964ء میں ہوا تھا۔ ان کے دو ماموں، یوسف خٹک اور اسلم خٹک، کئی برسوں سے سیاست میں سرگرم ہیں۔ اسلم خٹک نے مختلف حکومتوں میں مختلف عہدوں پر کام کیا ہے۔