• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

کیا پختونخوا میں پیپلز پارٹی دوبارہ متحرک ہوسکے گی؟

خیبر پختونخوا میں کنٹونمنٹ بورڈکے انتخابات میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے میدان مارلیا تاہم صوبائی دارالحکومت پشاور میں حکمران جماعت کے امیدوار بری طرح ہار گئے اور پشاور کینٹ کے 5 وارڈز میں سے صرف ایک پر کامیابی حاصل کرلی۔ مجموعی طور 33 نشستوں پر 137 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا ، تمام وارڈز میں ایک لاکھ 31 ہزار 711 رجسٹر ووٹرز تھے جن میں 60 ہزار 576 مرد اور 53 ہزار 135 خواتین ووٹرز تھے۔ چراٹ کینٹ اور کالا باغ کینٹ میں دو دو امیدوار پہلے سے بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف نے مجموعی طور 18، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 5، عوامی نیشنل پارٹی نے2، پیپلز پارٹی نے 3 اور آزاد امیدواروں نے 9 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ پشاور میں پانچ، نوشہرہ میں چار، رسالپور میں تین، مردان میں دو، کوہاٹ میں تین، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور حویلیاں میں دو دو جبکہ ایبٹ آباد میں 10 نشستوں پر انتخاب ہوئے کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات کے موقع پر فول پروف سیکورٹی انتظامات کئے تھے اور تمام پولنگ سٹیشنز کے باہر پولیس کے دستے تعینات کئے گئے تھے۔

خیبرپختونخوا میں پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت کی تبدیلی کے بعد پیپلز پارٹی کے نئے صوبائی صدر نجم الدین خان کی طرف سے خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کو متحرک کرنے کا فیصلہ کرلیاگیا ہے نجم الدین خان پیپلز پارٹی کے بنیادی کارکن ہیں و ہ سابق وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیںاور انکی پارٹی کیلئے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں انکے ساتھ سابق صوبائی صدر ظاہر علی شاہ ٗ صوبائی سیکرٹری اطلاعات امجد آفریدی بھی کافی زیادہ متحریک ہوچکے ہیں جس سے پیپلز پارٹی کے جیالوں میں ایک بار پھر جذبہ بڑھتا جارہا ہے۔ 

صوبائی صدر نامزد ہونے کے بعد جب نجم الدین خان جلوس کی شکل میں پشاور پہنچے تو سابق صوبائی صدر سید ظاہر علی شاہ کی طرف سے پشاور کی تمام شاہراہوں اور بازاروں کو پیپلز پارٹی کے جھنڈوں سے نہایت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا اور اس طرح سابق صوبائی صدر سید ظاہر علی شاہ یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوگئے کہ پیپلز پارٹی اب بھی ایک بڑی سیاسی قوت ہے پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا میں پہلے ہی سے سیاسی جمود کا شکار تھی اور اندرونی طورپر کئی گروپوں میں بٹی ہوئی تھی نئی قیادت کی طرف سے خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر فعال اور متحرک بنانے کیلئے صوبہ بھر میں پیپلز پارٹی کے ناراض رہنمائوں و کارکنوں کو منانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ 

تاہم اس سلسلے میں ابھی تک کو ئی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی ہے نئی قیادت کی طرف سے آفتاب احمد شیرپاؤ سے بھی رابطہ کرنے کا عندیہ دیا گیا تاہم آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی طرف سے رابطوں سے پہلے ہی واضح طورپر جواب دیدیا گیا کہ انکے لئے پیپلز پارٹی کا باب بند ہوچکا ہے اگر خیبر پختونخوا میں پہلی کی طرح کارکنوں کو اعتماد میں لیکر پارٹی کی تمام تنظیمیں کارکنوں کے مشورے سے بنانے اور پارٹی سے ہر میدان پر وفاداری کرنے والے لوگوں کو آگے لایا گیا تو خیبرپختونخوا میں جیالے ایک بار پھر سرگرم ہوسکتے ہیں اور یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کی ایک اہم سیاسی قوت ہے پیپلز پارٹی کی نئی صوبائی قیادت پریہ ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ پارٹی کے اندر کارکنوں میں پائی جانیوالی مایوسی کا خاتمہ کرکے انکو متحرک کیا جائے۔

پیپلز پارٹی کے نئے صوبائی صدر نجم الدین خان کی طرف سےاعلان کیاگیا کہ کارکنوں سے ملاقاتیں کی جائیں گی اور صوبے بھر میں رابطہ عوام مہم کا آغاز کرکے پیپلز پارٹی کو منظم کرکے ایک بار پھر صوبے کی سب سے بڑی سیاسی قوت اور مقبول سیاسی جماعت بنا دیا جائیگا پارٹی کے اندر پائے جانیوالے اختلافات کا خاتمہ کیا جائیگا پارٹی کے کارکنوں کو جائز مقام دلوانا اور انکی جدجہد کا احترام کرنا ان کا نصب العین ہے خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کے کارکنو ں میں پائی جانیوالی مایوسی کی وجہ سےپارٹی مقبولیت میں بہت ہی زیادہ کمی آچکی تھی۔ 

لہذا نئی قیادت کو اب کارکنوں کو یہ باور کروانا ہوگا کہ کارکنوں کو اب نہ تو صرف سیاسی مفادات کیلئے استعمال کیا جائیگا اور نہ ہی قربانی کا بکرا بنایا جائیگا اقتدار میں آنے کے بعد پارٹی کارکنوں کو اعتماد میں لیا جائیگا اور تمام فیصلے کارکنوں کی مرضی ہی کے مطابق کئے جائیں گے پیپلز پارٹی کی نئی صوبائی قیادت کے اعلان سے ایک دفعہ پھر جیالوں میں جوش و خروش بڑھتا جارہا ہے اور کارکن متحرک ہورہے ہیں اگر کارکن اسی طرح متحرک رہے تو 2023ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی ایک موثر قوت کے طورپر سامنے آئیگی۔

جب تک پارٹی کی مرکزی قیادت کی طرف سے صوبائی قیادت کو بااختیار نہیں بنایا جاتا اور ڈکٹیشن دینے کا سلسلہ بند نہیں کیا جاتا تو پھر پارٹی کو صوبے میں فعال بنانا محض ایک خواب ہوگا اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے صدر اور کابینہ پارٹی کارکنوں کو منظم کرنے اور ناراض کارکنوں و عہدیداروں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں کس حدتک کامیاب ہوتے ہیں اگر نئے صدر کارکنوں کے زیادہ قریب رہے اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں کامیاب بھی ہوگئے تو ایک بار پھر پیپلز پارٹی آنیوالے انتخابات میں ایک بھرپور قوت بن کر ابھرسکتی ہے بصورت دیگر اگر پیپلز پارٹی اختلافات کا شکار رہی تو آنیوالے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو بہت ہی زیادہ نقصان اٹھانا پڑیگا ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید