• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال:۔ نمل یونیورسٹی (میانوالی )تقریباً50فیکلٹی ممبرز ،450طلبہ وطالبات اور 150اسٹاف خواتین ومرد پر مشتمل ہے ۔ یہ میانوالی ضلع کے شہر’ رکھی‘ سے تین کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے ،شہر سے یونیورسٹی تک خالی جگہ ہے ، فصلیں ہیں ، آبادی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی کچہری ،گراؤنڈ وغیرہ یعنی یونیورسٹی فنائے شہر سے بھی باہر ہے ،یونیورسٹی سے مُتصل ایک گاؤں ہے ،جس میں ایک خاص برادری کے پندرہ سے بیس گھر ہیں ، انہوں نے مسجد بنائی ہے ، اس میں جمعہ نہیں ہوتا ، آبادی کے لوگ جمعہ پڑھنے شہر جاتے ہیں۔ یونیورسٹی کے اندر جائے نماز میں ظہر ،عصر اور مغرب کی نمازیں اداکی جاتی ہیں ۔ یونیورسٹی میں نہ رہائش گاہیں ہیں اورنہ ہاسٹل ہے ، جمعہ کی نماز کے لیے شہرجانا پڑتاہے ،جس سے دشواری ہوتی ہے ،کیا جس جمعہ یونیورسٹی میں لوگ موجود ہوں ، اس جمعہ کو یہاں نماز جمعہ قائم کی جاسکتی ہے ،کیاان لوگوں پر جمعہ فرض ہے ، بالخصوص کورونا کی وبا کے دوران ؟ (شکیل احمد سلطان ،نمل یونیورسٹی ، میانوالی )

جواب: نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے اَحناف کے نزدیک چھ شرائط ہیں ،جن میں سے ایک ’’شہر ‘‘ ہونا ضروری ہے ۔احادیث میں ہے :(۱)ترجمہ:’’ابو عبدالرحمنؓ بیان کرتے ہیں : حضرت علی ؓنے فرمایا :’’شہر اور بڑے قصبہ کے سوانہ جمعہ ہے، نہ تشریق، نہ عیدالفطراور نہ عید الاضحی ، (اَلْمُصَنَّف ابْنِ أَبِی شَیْبَہ:5059)‘‘۔(۲)ترجمہ:’’ حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا:’’ دیہات والوں پر جمعہ نہیں ،جمعہ صرف شہر والوں پر ہے ،(اَلْمُصَنَّف ابْنِ أَبِی شَیْبَہ: 5060) ‘‘۔

علامہ علاء الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفیؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ ’’تحفہ‘‘ میں امام ابو حنیفہؓ سے یہ روایت منقول ہے: شہر اس بڑی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں گلیاں اور بازار ہوں ،مضافاتی علاقہ ہو اور اس میں ایک ایسا حاکم ہو جو اپنے اقتدار کے دبدبے (اور طاقت سے) اور اپنے (ذاتی )علم یا دوسرے کے علم سے (یعنی گواہی کے ذریعے ) مظلوم کو ظالم سے انصاف دلاسکے ،لوگ اپنے پیش آمدہ معاملات میں اس کی طرف رجوع کریں ،یہی صحیح تعریف ہے، (بدائع الصنائع ،جلد1، ص:385 )‘‘۔ اس تعریف کے لحاظ سے شہر کے ثبوت کے لئے مندرجہ ذیل امور ضروری ہیں : (1) اشیائے ضرورت کے لیے بازار اور دکانیں (2) قوتِ حاکمہ اورعالمِ دین ۔نمازِ جمعہ قائم کرنا ایسا نہیں ہے کہ جو چاہے ،جب چاہے قائم کرلے ،شرائط کا پایاجانا لازم ہے ۔ 

(…جاری ہے… )