• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زاہد اچھا بھلا یہ کہہ کر گھر سے نکلا کہ ’’بس، ابھی آتا ہوں۔‘‘ لیکن کسے خبر تھی کہ سڑک پر پیچھے سے آنے والا ٹرالر اُسے بائیک سمیت روندتا ہواگزر جائے گا۔ جوان موت اپنی جگہ ایک دِل خراش واقعہ تھی، لیکن ساتھ ساتھ بیوہ اور دو چھوٹے بچّوں کا یوں بے سہارا اور بے یارو مددگار ہوجانا بھی کم سانحہ نہ تھا۔ اِسی طرح نظام الدین ایک مقامی کمپنی میں اچھے عُہدے پر فائز تھے۔ دو چار دِن سے طبیعت نڈھال سی محسوس ہورہی تھی، مگر کام کا دباؤ جان کر کوئی خاص توجّہ نہ دی۔ پھر اچانک ہی تیز بخار ہوگیا۔ 

اسپتال جانے اور ٹیسٹ کروانے کے مراحل طے ہوتے ہوتے طبیعت اس قدر بگڑ گئی کہ پہلے آئی سی یو میں داخل ہوگئے، پھر وینٹی لیٹر پر گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اگلے جہان سدھار گئے۔ موجودہ دَور میں اس طرح کی خبریں بہت عام ہوتی جارہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺنے اچانک اور حادثاتی موت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تلقین کی ہے۔ 

مسنون دُعاؤں میں عافیت طلب کرنے اور ناگہانی مصیبتوں سے بچانے کی دُعائیں بھی شامل ہیں، جو صُبح و شام کے اوقات میں نماز کے بعد ضرور مانگنی چاہئیں۔ اس کے ساتھ حضورِ پاکﷺ نے بیوی،بچّوں کے مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی بھی ہدایت دی ہے۔ آپ ﷺ نے اس جانب بھی توجّہ مبذول کروائی کہ ایسا نہ ہو کہ تمہارے بعد تمہارے بچّے دوسروں کے دستِ نگر ہوں اور دَر دَر کی ٹھوکریں کھائیں۔ اپنے مال کو اہلِ خانہ پر خرچ کرنا بھی حکمِ نبویﷺ ہے اور اپنے بچّوں کے مستقبل کے لیے اسے بچا رکھنا بھی تعلیماتِ نبویﷺ سے ثابت ہوتاہے کہ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں اور کسی کو اپنی موت کے معیّن وقت کا علم نہیں۔

ہمارے یہاں عموماً اچھے ذمّے دار اور معاشی طورپر خود کفیل حضرات بھی بیوی بچّوں کو مالی معاملات سے دُور رکھتے ہیں، جس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ جیسا کہ بعض افراد بیوی بچّوں کو مالی اور کاروباری مسائل میں اُلجھا کر پریشان نہیں کرنا چاہتے اور کچھ کو یہ خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ آمدنی ظاہر کرنے سے اہلِ خانہ فضول خرچی پر مائل ہوجائیں گے۔ کہیں کہیں ذہنی ہم آہنگی اور اعتماد کا فقدان بھی اس کی وجہ بن جاتا ہے۔ مگر دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر شوہر محبّت میں بیوی کو گھر کی رانی بنا کر رکھتے ہیں، اُس کے ناز نخرے اُٹھاتے ہیں۔ 

خرچ بھی دِل کھول کر کرتے ہیں، لیکن گھر کی مالکن کو اپنے سَرتاج کے نہ تو کسی بینک اکاؤنٹ کا علم ہوتا ہے، نہ ہی چیک لکھنا اور دستخط کرنا آتا ہے، جب کہ ہمارے یہاں جوائنٹ اکاؤنٹ کا تصوّر بھی بہت کم پایا جاتا ہے۔ اِسی طرح زیادہ تر افراد کس سے کتنا قرض لیا یا کس کو دیا، کب تک واپس یا وصول کرنا ہے جیسی دیگر باتیں کہیں لکھ کر رکھتے ہیں، نہ بیوی بچّوں کو اس کی خبر ہونے دیتے ہیں۔ 

یہ غیر ضروری احتیاط کسی کے بھی اہلِ خانہ کو اُس کی ناگہانی موت کی صُورت میں مالی مشکلات سے دوچار کرسکتی ہے۔ فرض کریں، اگرکوئی فرد دِن رات محنت کرکے کمارہا ہے، اُس نے اپنے گھر والوں کو بہتر زندگی گزارنے کے لیے آسایشیں بھی فراہم کیں، مگر رضائے الہٰی سے اُس کا انتقال ہوجاتا ہے، تو اُس کی موت کے بعد اگر اس کے اہلِ خانہ کو یہ معلوم ہو کہ جانے والا بہت سوں کا قرض دار تھا، تو بچھڑنے کا صدمہ ایک طرف، قرض کی ادائی کی فکر انہیں زندہ درگور کرکے رکھ دیتی ہے۔ اسی طرح بعض افراد اپنی بچت کی رقم کسی کے پاس امانتاً رکھوادیتے ہیں، جس کی گھر والوں کو خبر نہیں ہوتی۔

ایسے میں اگر دینے والے کی نیّت میں کھوٹ آجائے، تو بیوی، بچّے یا بوڑھے والدین اس رقم سے یک سر محروم ہوجائیں گے۔ کچھ افراد ایسے بھی ہیں، جو مالی استطاعت کے باوجود ذاتی گھر نہیں بنواتے یا جائیداد وغیرہ نہیں خریدتے، بلکہ اپنی رقم کسی دوست کے ساتھ شراکت کرکے کاروبار میں لگادیتے ہیں یا بینک میں رکھ دیتے ہیں اور ماہانہ منافع لیتے رہتے ہیں، مگر بیوی بچّوں کو ان تمام معاملات سے لا علم رکھتے ہیں، انہیں یہ اندازہ نہیں ہو پاتا کہ ان کے بعد ان کا یہ عمل ان کے لواحقین کی زندگیاں عذاب بنا سکتا ہے۔

یاد رکھیے، بُرا وقت بتا کر نہیں آتا۔ موت برحق ہے، مگر بوڑھے والدین، بیوی بچّے آپ کے زیرِکفالت ہیں اور آپ کی ذمّے داری بھی، لہٰذا اُنہیں اپنے کاروباری معاملات ،خصوصا مالی معاملات میں لازماًشریک رکھیں۔روپے پیسے کےلین دین اور مالی حالات کا درست اندازہ آپ کے اہلِ خانہ ہی کو ہونا چاہیے۔اگر بچّے بڑے اور سمجھ دار ہوں، تو مختلف محکموں کے دفاتر اور مالیاتی اداروں میں انہیں اپنے ساتھ لے کر جائیں۔ گھر میں اعتماد کی فضا قائم رکھیںاور گھر والوں کو احتیاط بھی سکھائیں۔ 

کسی فرد یا بینک سے قرض، خاص طور پر سودی لین دین سے مکمل گریز کریں۔ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا عقل مندی ہے اور اِسی میں دُنیا و آخرت کی بھلائی بھی پوشیدہ ہے۔ کسی کو قرض دیں، تو اس کی تحریری دستاویز محفوظ رکھیں، کسی کو گواہ بنائیں اور گھر والوں کو بھی اس بارے میں ضرور بتائیں۔ اس طرح کے لین دین کے معاملات اہلِ خانہ سے راز میں نہ رکھیں۔ اللہ کے نبی ﷺنے وصیّت لکھ رکھنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں کسی مستند عالم یا ادارے سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ چھوٹی ہی سہی،مگر گھر کی چھت بیوی بچّوں کو ضرور دیں۔ 

زندگی کے حقائق تلخ ہیں، ان سے انکار ممکن نہیں، لیکن روزی روٹی کا بندوبست تو پھر بھی کسی نہ کسی صُورت ہو ہی جاتا ہے۔ البتہ اہلِ خانہ کے سَروں پر اپنی چھت ہو، اس بات کو یقینی بنائیں۔ اللہ سب کو عافیت میں رکھے اور دُنیا و آخرت میں بہتری عطا فرمائے۔

سنڈے میگزین سے مزید