• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگلینڈ اینڈ ویلز میں ہیٹ کرائمز کی تعداد ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

لندن ( پی اے ) دی آفس فار نیشنل سٹیٹسٹکس ( او این ایس ) کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ نسل پرستی پر مبنی واقعات میں 12 فیصد اضافہ ہوا ہے اور انگلینڈ اینڈ ویلز میں پولیس کی جانب سے ریکارڈ کئے جانے والے ہیٹ کرائمز کی تعداد ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2021 تک کے سال میں 124091 ہیٹ کرائمز ریکارڈ کئے گئے تھے۔ ان میں سے 92052 ریس ہیٹ کرائمز ، 6377 مذہبی منافرت پر مبنی جرائم ،18598 سیکسوئل اورینٹیشن منافرت پر مبنی کرائمز ، 9943 ڈس ایبلٹی ہیٹ کرائمز اور 2799 ٹرانس جینڈر ہیٹ کرائمز شامل ہیں ۔ 12-2011کے بعد ریکارڈز شروع ہونے کے بعد ہر سال ان کرائمز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ہوم آفس کا کہنا ہے کہ کرائمز کی تعداد میں اضافہ کی وجہ کرائمز کی ریکارڈنگ میں بہتری ، آگاہی میں اضافہ اور نفرت انگیز جرائم کی بہتر شناخت ہے ۔ گریٹر مانچسٹر کے 2021 کے اعداد و شمار اس میں شامل نہیں ہیں جو کہ مارچ 2020 تک کے اعداد و شمار پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مارچ 2021 تک وہاں 114958 ہیٹ کرائمز کے واقعات ہوئے جو 9 فیصد سالانہ اضافے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً تین چوتھائی یعنی 85268 آفنسز کا محرک نسلی منافرت تھی جو سالانہ 12 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں یعنی 9000 سے زیادہ ایسے واقعات ہوئے ہیں ۔ ڈس ایبلٹٹی سے متعلق ہیٹ کرائمز میں 9 فیصد سیکسوئل اورینٹیشن ہیٹ کرائمز میں 7 فیصد جبکہ ٹرانس جینڈر آئیڈنٹیٹی ہیٹ کرائمزمیں 3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ہوم آفس کا کہنا ہے کہ آخری تین شرحوں میں تبدیلی حالیہ برسوں میں دیکھی جانے والی سے کم تر ہے۔ مذہبی منافرت پر مبنی کرائمز میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 18 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور مسلسل دوسرے سال کمی ہوئی ہے ۔ نصف سے زیادہ 52 فیصد ریکارڈ کئے جانے والے کرائمز پبلک آرڈر آفنسز سے متعق تھے۔ ہوم آفس کا کہنا ہے کہ بلیک لائیو میٹرز اور فاررائٹ کائونٹر مظاہروں کی وجہ سے موسم گرما 2020 کے دوران پبلک آرڈر ہیٹ کرائمز میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا ۔
یورپ سے سے مزید