• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سڑک پر چلتے چلتے کوئی چیز میرے پائوں کے ساتھ ٹکرائی پیشتر اس کے کہ میرا پائوں اس پر آتا، مجھے ایک مہین سی آواز سنائی دی ’’بچائو بچائو!‘‘ یہ آواز میرے پائوں کے قریب سے آرہی تھی۔ میں نے جھک کردیکھا ایک تیرہ انچ کا بونا زمین پر پڑا درد سے کراہ رہا تھا، میں نے اسے اٹھایا اور اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر کھڑا کردیا۔ میرے پائوں سے ٹکرانے کی وجہ سے اس کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا، میں اسے گھر لے آیا اور مرہم پٹی کی ۔ کچھ ہی دیر بعد وہ بھلا چنگا ہوگیا۔ اس کے چہرے پر ممنونیت کے آثار تھے۔ میرے ٹخنوں کے ساتھ لگا ہونے کی وجہ سے وہ اظہار تشکر کے لئے میرے پائوں کو بوسہ دینا چاہتا تھا مگر میں نے اسے سختی سے منع کردیا اور کہا ’’یہ چیز شرفِ انسانیت کے منافی ہے۔‘‘ یہ سن کر اس نے اپنے ننھے منے ہاتھ اپنے ’’سینے‘‘ پر باندھے اور بولا ’’میرے آقا آپ صحیح فرماتے ہیں لیکن خود میرا قدوقامت بھی تو شرفِ انسانیت کے منافی ہے‘‘ اس پر میں نے اسے پیار سے ڈانٹتے ہوئے کہا ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ میں تمہارا ٓقا نہیں دوست ہوں لہٰذا آئندہ مجھے کبھی آقا نہ کہنا اور نہ سمجھنا، دوسری بات یہ کہ قد چھوٹا یا بڑا ہونا کسی شخص کے بڑے یا چھوٹے ہونے کا پیمانہ نہیں، یہ اس کا کردار ہے جو اسے چھوٹا یا بڑا بناتا ہے لہٰذا آئندہ اپنے قد کو صرف اپنے کردار کے حوالے سے ماپنا۔‘‘

میں نے محسوس کیا کہ اس نے میری بات سن تو لی ہے مگراسے یقین نہیں آیا کہ کوئی شخص چھوٹا ہوتے ہوئے بھی بڑا ہوسکتا ہے۔ اس کی اس سوچ کا عملی مشاہدہ میں نے آنے والے دنوں میں کیا۔ وہ شدید احساس کمتری میں مبتلا تھا بلکہ لگتا تھا اس میں سے نکلنا شاید اس کے لئے ممکن نہیں۔ وہ مجھے دیکھتے ہی جھک جاتا جس سے وہ تیرہ انچ کی بجائے چھ انچ کا رہ جاتا۔ میں نے اسے بتایا کہ جھکنے سے گریز کیا کرے لیکن یہ غالباً اس کے بس میں نہیں تھا ، اس کے علاوہ مجھے خوش کرنے کے لئے میری ہاں میں ہاں ملانے میں لگارہتا۔ بعض اوقات میں نے اپنی کسی رائے کے اظہار کے لئے ابھی پہلا جملہ ہی بولا ہوتا کہ وہ بول اٹھتا ’’سر آپ صحیح کہتے ہیں‘‘ اور اسے ٹوکتا’’اگر تم خوشامد سے باز رہ ہی نہیں سکتے تو کم از کم مجھے اپنا جملہ تو مکمل کر لینے دیا کرو‘‘۔ مجھے اس کی ضرورت اس لئے بھی محسوس ہوئی تھی کہ ایک روز میں نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ ’’میں گدھا ہوں‘‘ تو اس نے کورنش بجا لاتے ہوئے کہا ’’سر آپ صحیح کہتے ہیں‘‘ حالانکہ میں کہنا کچھ اور چاہتا تھا بہرحال میں نے محسوس کیا کہ اس تیرہ انچ کے بونے کے دل سے احساس کمتری کو کھرچ کھرچ کر نکالنا پڑے گا کیونکہ احساس برتری یا احساس کمتری یہ دونوں انسان کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔

چنانچہ میں نے اپنے ایک ماہر نفسیات دوست سے مشورہ کیا کہ اس بونے کو احساس کمتری سے کیسے نجات دلائی جائے؟ اس نے مجھے دو تین مشورہ دیے مثلاً تم اس کے ساتھ بے تکلف ہو جائو کہ وہ اپنا قدوقامت بھول کر خود کو تمہارا دوست سمجھنا شروع کردے۔ میں نے اگلے دن ہی اس مشورے پر عمل شروع کردیا وہ جب آدھا چمچ چائے اور ایک سلائس کے چھٹے حصے کے ناشتے سے فارغ ہوا تومیں نے اسے مخاطب کیا اور کہا’’سنائو بھئی شہزادے رات کیسی گزری؟‘‘ وہ میرے اس دوستانہ انداز گفتگو سے پریشان ہوگیا اور ہکلاتے ہوئے بولا ’’سر.... سر..... سر‘‘ اس سے آگے اس سے کچھ نہ کہا گیا۔ میں نے اس کے کاندھے پر پیار سے تھپکی دی اور کہا ’’یار یہ تم مجھے سر سر نہ کہا کرو ہم اللّٰہ کی مخلوق ہیں اور یوں ہم مرتبہ ہیں‘‘۔ ایک دن میں نے اپنی ایک آنکھ میچ کر کہا ’’شہزادے کیا چکر ہے! آج کل بہت بنے ٹھنے رہتے ہو؟‘‘ میں نے محسوس کیا میرے حوالے سے اس کی جھجک میں کمی آگئی ہے۔ اس نے شرما کر نظریں نیچی کرلیں میں نے اپنی انگلی سے اس کی ٹھوڑی کو اوپر اٹھایا اور مسکرا کر پوچھا ’’کہیں دل وِل تو نہیں دے بیٹھے؟‘‘ اس پر وہ ہولے سے بولا ’’جی سر‘‘ میں نے کہا ’’میرا نام سر نہیں عطا ہے آئندہ تم مجھے عطا ہی کہا کرو گے‘‘۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے ان لفظوں سے اس میں اعتماد سا پیدا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا ’’کون ہے وہ؟‘‘ اس نے جواب دینے کی بجائے جیب میں سے ایک تصویر نکالی یہ کترینہ کیف کی تھی۔ اس پر میں نے اس کا کاندھا تھپتھپایا اور کہا ’’واہ استاد، لمبا ہاتھ مارا ہے‘‘۔ یہ سن کر وہ پہلی دفعہ میرے سامنے کھلکھلا کر ہنسا اور بولا ’’بس اب آپ دعا کریں اللّٰہ کامیابی عطا فرمائے‘‘۔ اس کی اس بات پر میں نے محسوس کیا کہ یہ شخص خاصا بیوقوف ہے مگر فی الحال مجھے اس کی عقل نہیںاس کا اعتماد بحال کرنا تھا چنانچہ میں نے دونوں ہاتھ فضا میں بلند کر کے اس کے عشق کی کامیابی کیلئے باقاعدہ دعا کی۔

اب اس کا اعتماد واقعی بحال ہونا شروع ہوگیا تھا اور اب اس کے قد میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی تھی یعنی اس میں بتدریج اضافہ ہورہا تھا۔ تیرہ انچ سے وہ چودہ انچ پھر پندرہ انچ اور کچھ ماہ کے بعد میں نے اسے دیکھا وہ میرے قد کے برابر ہو چکا تھا۔ میں نے اس کی یہ حالت دیکھی تو ایک دفعہ پھر اپنے ماہر نفسیات دوست کے پاس گیا ، اس نے کہا ’’میرے پاس کیا لینے آئے ہو اب بھگتو‘‘۔ میں نے کہا ’’ تم ہی نے تو کہا تھا اس میں اعتماد پیدا کرنے کے لئے اس کے ساتھ بے تکلفی کا رویہ اختیار کرو‘‘! دوست نے کہا ’’مگر تمہیں اس میں رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں اور گفتگو سے شروع ہی میں اس کے ظرف کا اندازہ ہو جانا چاہئے تھا‘‘۔

یہ سارا واقعہ جو میں نے ابھی بیان کیایہ دس سال پہلے کا ہے کل بازار سے گزرتے ہوئے ایک بار پھر میرا پائوں کسی چیز سے ٹکرایا، میں نے جھک کر دیکھا تو یہ وہی تیرہ انچ کا بونا تھا جو پورے قد کا ہونے کے بعد سے سب کو بونا سمجھنے لگا تھا۔ اس نے میرے پائوں پکڑ لئے، میں نے اسے اٹھایا اورگھر لے آیا۔ ان دنوں میں دوبارہ اس کا اعتماد بحال کرنے میں لگا ہوا ہوں۔

(قند مکرر)

تازہ ترین