• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈی جی آئی ایس آئی، نوٹیفکیشن بدھ تک جاری ہونے کا امکان

اسلام آباد (انصار عباسی) آئی ایس آئی کے نئے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کے عہدے پر تقرر کا نوٹیفکیشن آئندہ ہفتے بدھ کو یعنی 12؍ ربیع الاوّل کے بعد جاری کیا جائے گا۔ 

ایک باخبر ذریعے نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید جلد پشاور کور سنبھال لیں گے جیسا کہ آئی ایس پی آر اعلان کر چکا ہے۔ ذریعے نے دعویٰ کیا کہ معاملہ حل ہو چکا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ڈی جی کے عہدے پر تقرر اور اس کا نوٹیفکیشن آئندہ ہفتے آ جائے گا اور یہ بدھ کو ہوگا۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے کیلئے انٹرویوز اب شاید نہیں ہوں گے۔ اس نمائندے نے ایک اور متعلقہ ذریعے سے رابطہ کیا اور انہوں نے بھی یہی کہا کہ معاملہ حل ہو چکا ہے۔ تاہم اس ذریعے کو اُس دن کا علم نہیں تھا جس دن نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ 

تاہم، انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر تقرری کے حوالے سے جس سمری پر طویل بحث ہو رہی تھی وہ جمعہ کی دوپہر تک وزیراعظم آفس کو نہیں بھیجی گئی تھی۔توقع ہے کہ جنرل ندیم انجم کو ڈی جی آئی ایس آئی لگا دیا جائے گا ۔ 

ذرائع کے مطابق موجودہ ڈی جی نے وزیراعظم کو سبکدوش ہونے کے حوالے سے اپنی خواہش سے آگاہ کر دیا تھا تاکہ وہ اپنی نئی ذمہ داری سنبھال سکیں کیونکہ یہ ذمہ داری اس قدر اہم ہے کہ آئندہ سال نومبر میں انہیں آرمی چیف کے عہدے کیلئے مقرر کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ 

کئی لوگوں کیلئے گزشتہ کچھ دن پریشان کُن رہے ہیں۔ 6؍ اکتوبر کو آئی ایس پی آر کی جانب سے تھری اسٹار جرنیلوں کی تقرریوں کے حوالے سے کیے گئے اعلان کے بعد ایک تنازع پیدا ہوگیا تھا کیونکہ وزیراعظم نے نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت دینے کی بجائے تقرری کیلئے اختیار کردہ طریقہ کار پر ہی سوال اٹھا دیے۔ 

کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں انہوں نے کابینہ ارکان کے ساتھ اس معاملے پر بحث کی اور اُن کی پارٹی کے قومی اسمبلی میں چیف وہپ عامر ڈوگر کے مطابق وزیراعظم چاہتے تھے کہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی دو سے چار ماہ تک برقرار رہیں۔ 

ایک ٹی وی شو میں عامر ڈوگر نے کہا کہ عمران خان لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو افغانستان کی صورتحال کی وجہ سے برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے منگل کو ہونے والے گزشتہ اجلاس میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ فوج کی عزت کرتے ہیں اور حکومت تمام اداروں کے ساتھ اتفاق رائے چاہتی ہے۔ 

ڈوگر کے مطابق، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم بھی اچھے پیشہ ور فوجی ہیں، اب وزیراعظم کے روبرو اس عہدے کیلئے موزوں پانچ افسران کے نام پیش کیے جائیں گے اور وزیراعظم ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ وزیراعظم کی ذاتی ترجیح کا ہے لیکن شاید اس میں ضابطے کی کوئی کوتاہی ہوگئی ہے۔ 

انہوں نے اعتراف کیا کہ وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں اصرار کیا تھا کہ وہ محض ربڑ اسٹمپ نہیں ہیں۔ عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید نے جمہوری عمل کی حمایت کی ہے اور یہ مناسب تھا کہ صورتحال وہاں نہیں جانا چاہئے جہاں اب ہے۔ 

ڈوگر نے وزیراعظم کے حوالے سے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی تقرری پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن طریقہ کار پر اُس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔ 

وزیر داخلہ شیخ رشید نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھاکہ ہر چیز کا باہمی طور پر فیصلہ کرکے اسے حتمی شکل دی جا چکی ہے اور حکومت اور فوج کے درمیان اچھی مفاہمت ہے۔

اہم خبریں سے مزید