اُردو ادب میں حقیقت نگاری

January 05, 2022

سلیم سرمد

حقیقت نگاری کی ابتداء تو فرانس سے ہوئی مگر اس کا باضابطہ آغاز کس مصنف کیا، اس بارے میں محققین کسی ایک نام پر متفق نہیں۔

معروف محقق ڈاکٹر شکیل پتافی اپنی کتاب ’’اردو ادب اور مغربی رجحانات‘‘ میں لکھتے ہیں کہ حقیقت نگاری کی ابتداء شان فلیوری کی تحریروں سے شروع ہوئی۔ لیکن بعد میں حقیقت نگاری کے بانی انیسویں صدی عیسوی کے عظیم فرانسیسی ناول نگار فلابیر کو ان کے شہرئہ آفاق ناول ’’مادام بواری‘‘ کی اشاعت 1858ء کے بعد مانا گیا۔

دیگر محققین کے مطابق حقیقت نگاری کی ابتداء Hondre Blazer کے ہاتھوں 1850ء کے آس پاس فرانس میں ہوئی۔ اس نے پہلی بار ادب کی تاریخ میں اپنے ناول "Lacomedie Humaine" کے ذریعے فرانس کی سماجی زندگی کا حقیقی عکس پیش کیا اس کے بعد بہت سارے مصنفوں اور ناول نگاروں نے اس روایت کو مضبوط کیا ۔

چارلیس ڈکینس نے اپنے ناولوں میں غریبوں، محتاجوں اور لاچاروں پر سرمایہ دارانہ، استعماری قوتوں اور مقتدر و مسلط طبقے کی طرف سے کئے گئے مظالم اور استحصال کو بڑے موثر انداز میں پیش کیا۔ مغرب میں یہ صنعتی انقلابی دور تھا، اس کے علاوہ بھی انہوں نے اپنی تحریروں میں صنعتی انقلاب سے پیدا ہونے والی بیروزگاری اور لاچاری کو دلدوز انداز میں بیان کیا۔ ان کے ناول "David Copperfield" کا مرکزی کردار پورے دن کام کرتا رہتا ہے لیکن اس کے کام کی اجرت بہت ہی کم دی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نجانے دن میں کتنی بار جسمانی سزا دی جاتی، مارا پیٹا جاتا ۔

’’ولیم بلیک‘‘ جن کی شاعری میں حقیقت نگاری کے اجزاء پائے جاتے ہیں، انہوں نے اپنی شاعری کو بطور آلے کے استعمال کرتے ہوئے سماجی خرافات اور مذہبی پادریوں کے کئے جانے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس حوالے سے ان کی نظمیں کافی مشہور ہیں۔

معروف مصنف ’’موپساں‘‘ Gerrge Eliaot کا کردار بھی حقیقت نگاری کے حوالے سے کلیدی مانا جاتا ہے۔ ان دونوں نے خاص طور پر دیہی زندگی کو اجاگر کیا اور اپنی تحریروں میں دکھایا کہ عورت کو محبت اور سماجی بندشوں کے نام پر کتنی مصیبتوؒں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مغرب میں حقیقت نگاری صرف شاعری اور ناول نگاری تک محدود نہ رہی بلکہ آرٹ کی دیگر جہتوں ڈرامہ اور فن مصوری میں بھی فروغ کا رجحان پایا۔ یہ تو تھا حقیقت نگاری کا مغرب کے ساتھ تعلق اور تعارف! مگر حقیقت نگاری کا باقاعدہ آغاز کس مصنف نے کیا، اس بارے فیصلہ کرنا کچھ مشکل ہے۔ مشرق (ہندوستان) چونکہ اس وقت مغربی اور برطانوی تخت کے زیرتسلط تھا، اس لئے مغرب کے مشرق میں وارد ہونے والے دیگر رجحانات کی طرح ادب و ثقافت اور مغربی ادب کے اثرات بھی ہندوستانی سماج اور ادب پر پڑے۔

مغربی ادب کے انگریزی سے اردو میں تراجم ہونے لگے اور اس لئے مغربی ادبی تحاریک اور رجحانات مثلاً ترقی پسند تحریک، وجودیت، ڈاڈازم، سرئیلزم، فطرت نگاری، علامت نگاری اور حقیقت نگاری کے اثرات بھی ہندوستانی ادب (اردو ادب) پر بہت گہرے پڑے۔ جہاں تک اردو ادب میں حقیقت نگاری کا تعلق ہے تو یہاں بھی اسے نمودار کرنے کے حوالے سے محققین کسی ایک نام پر متفق نہیں۔ کچھ محقق اس کی رونمائی پریم چند کے قلم سے منسوب کرتے ہیں تو کچھ اس کی ابتداء سر سید احمد خان کے ہاتھوں سمجھتے ہیں۔

اردو ادب میں بعض محققین اولین حقیقت نگاروں میں سر سید احمد خان کو قابل ذکر ٹھہراتے ہیں اور ان کی تحریک علی گڑھ کو حقیقت نگاری کی احساس قرار دیتے ہیں چونکہ رومانی تحریک نے ادب اور شاعری کی دنیا میں جو انقلاب بپا کیا تھا، اس نے زندگی کے مادی بوجھ سے کسی حد تک نجات حاصل کرکے آسمانی رفعتوں میں پرواز کا رجحان تو پیدا کیا مگر حقیقت نگاری رومانی تحریک کے پہلو بہ پہلو پرعمل … نظر آئی۔ ایک لحاظ سے حقیقت نگاری رومانی تحریک کی ضد تھی اور بجائے قیاس اور تصور کے زندگی کو اس کے اصل رنگ و روپ میں پیش کرنے کی سعی میں نظر آرہی تھی۔ دراصل حقیقت نگاری کا جزوخاص ہی زندگی کو اس کے اصل رنگوں میں پیش کرتا ہے۔

اگر ہم پریم چند کے بجائے علی گڑھ کی تحریک کو حقیقت نگاری کی ابتداء سمجھیں تو اس کیلئے مندرجہ ذیل وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جس میں برصغیر کے مسلمانوں کے ذہنوں پر انتہائی قدامت پسندی کا غلبہ تھا۔ معاشی تزلزل اور سیاسی ابتری نے مسلمانوں کو ذہنی امراض سے دوچار کردیا تھا۔ وہ بددل ہوکر روشن خیالی اور ترقی سے آنکھیں چرانے لگے تھے۔ اس زمانے میں وہاں کی ادبی روایت بھی کچھ صحت مند بنیادوں پر استوار نہ تھی جس کی بدولت وہ صحت مند افکار کی تبلیغ و تشہیر سے قاصر تھی۔

ان حالات میں سر سید احمد خان نے ادب کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کی افادیت کو برتا جس کے نتیجے میں انہوں نے اردو ادب کو رومانیت کے تخیل و تصور کے بجائے حقیقت نگاری کا طرز دیا مگر حقیقت نگاری کے حوالے سے جو پختہ اور صحت افزاء ادب پریم چند نے تخلیق کیا، وہ یقیناً اپنی مثال آپ ہے۔ پریم چند سے پہلے اردو ادب کا محور رومانیت کے گرد گھومتا تھا لیکن پریم چند نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں گائوں اور شہر کی زندگی کے حقیقی عکس پیش کئے۔

بطور حقیقت نگار پریم چند کی انفرادیت یہ کہ انہوں نے بجائے کسی ایک قوم، ذات، فرقہ، دھرم اور مذہب کے تمام انسانوں اور معاشرے سے جڑے ہر فرد اور تمام انسانوں کو درپیش مسائل اور سماجی برائیوں کی نشاندہی کی۔ درحقیقت پریم چند نے دیہی معاشرے اور شہروں میں پھیلے صنعتی نظام کے تضاد اور اس عہد میں پھیلی سماجی برائیوں اور سیاسی، معاشی اور سماجی زندگی کے آشوب اور عوامی جدوجہد کو حقیقت پسندانہ ڈھنگ سے پیش کیا۔

اردو ادب میں پریم چند کے علاوہ اور بھی کئی نام قابل ذکر ہیں جن کا حقیقت نگاری کے حوالے سے کردار اہمیت کا حامل ہے۔ ان میں منٹو اور دیگر بھی کئی نام ہیں مگر منٹو کا نام حقیقت نگاری کے حوالے سے پریم چند کے بعد لیا جاسکتا ہے۔ منٹو کے افسانوں میں بھی بہت سے ایسے کردار ملتے ہیں جو سماجی اور معاشی ناہمواریوں کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ منٹو کی تحریروں میں جہاں جنسی برائیوں کی نشاندہی کی گئی، وہیں انسانی نفسیات کا گہرا مشاہدہ بھی ملتا ہے۔

منٹو کے ہاں بھی سماجی اور معاشی ناہمواری کے اثرات، مذہبی تفریق اور دو قومی نظریئے کی بنیاد پر تقسیم ہند کے دوران پیدا ہونے والے المیوں نے منٹو کو اپنے افسانوں میں حقیقت نگاری کے انتہائی تلخ رنگ بھرنے پر مجبور کردیا۔ اردو نثر کے علاوہ اردو شاعری میں بھی بہت سے نام ایسے ہیں جو حقیقت نگاری سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں نظیر اکبر آبادی کو محققین نے خاص اہمیت دی۔

حقیقت نگاری نے نہ صرف قدیم ادب کو ترقی دیتے ہوئے معاشرے کی تعمیر کی بلکہ اس کی اہمیت کی حامل واضح مثالیں موجودہ ادب میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ درحقیقت، حقیقت نگاری نے زندگی کے فلسفے کو سمجھنے میں آسانی فراہم کی۔ حقیقت نگاری نے ان انسانی، اخلاقی قدروں کی پامالی کی طرف معاشرے کے فرد کی توجہ دلائی جن کے بارے میں عام طور پر فرد سنجیدہ نہ تھا اور گردن تک سماجی برائیوں میں دھنسا ہوا تھا۔ بلاشبہ حقیقت نگاری ادب میں آئینہ خانہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ تازہ ترین موضوعات پر مبنی ہو، ساتھ اُن میں آپ کی دل چسپی کے وہ تمام موضوعات اور جو کچھ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، شامل اشاعت ہوں، خواہ وہ عالمی منظر نامہ ہو یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رپورٹ ہو یا فیچر، قرطاس ادب ہو یا ماحولیات، فن و فن کار ہو یا بچوں کا جنگ، نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے، آپ ہمارے صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی، تاکہ ان صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مطابق مرتب کرسکیں۔ ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ، بچوں کا جنگ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ، اخبار منزل،آئی آئی چندیگر روڈ، کراچی