شہید رانی کی سالگرہ اور زندگی سے زیادہ قیمتی تحفہ!

June 21, 2024

تحریر…شرجیل انعام میمن
وزیر اطلاعات اور ٹرانسپورٹ ، حکومت سندھ
21 جون شہید رانی محترمہ بے نظیر بھٹو کا یوم پیدائش ہے ۔ 21جون 1953ء کو سندھ کے ایک شاہی خاندان میں جنم لینے والی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے عیش و آرام کی زندگی کو ٹھکرا کر جس طرح شعوری طور پر تکلیفوں ، دکھوں اور مصائب کی زندگی کا انتخاب کیا اور مظلومیت کی موت قبول کی ، اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟یہ تاریخ کا ایک ایسا سوال ہے، جس کا جواب صرف ان لوگوں کے پاس ہے ، جو حق پر ڈٹے رہے اور اپنی سب سے بڑی متاع ’’ زندگی‘‘ کو قربان کرنےسے ذرا بھی نہیں ہچکچائے۔ اپنی کتاب ’’مفاہمت‘‘ میں شہید رانی ایک جگہ لکھتی ہیں کہ’’میں نے اپنے والد کی گرفتاری ، قید اور قتل کا عذاب جھیلا تھا اور میں جانتی تھی کہ روح کے ایسے زخم کبھی نہیں بھرتے۔ اپنے والد کی موت پر جو تکلیف میں نے جھیلی ہے ، اس سے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے میں کچھ بھی کرنے کے لیے تیار تھی ، مگر یہ واحد کام تھا ، جو میں نہیں کر سکتی تھی ۔‘‘ ان سطور سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ شہید رانی نے اس راستے کا خود انتخاب کیا ۔ اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے عظیم سانحہ کے بعد شہید رانی اگر چاہتیں تو وہ اپنی زندگی پاکستان سے باہر کسی بھی ملک میں جا کر آرام سے گزار سکتی تھیں کیونکہ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ پاکستان ان لوگوں کے لیے کس قدر خطرناک ملک ہے ، جو اپنی دھرتی اور اپنے عوام کے لیے سیاست کرتے ہیں ۔ ایک دفعہ شہید بھٹو نے بھی انہیں کہا تھا کہ وہ اگر چاہیں تو یورپ کے کسی ملک میں جا کر اپنی زندگی سکون سے گزاریں لیکن شہید بی بی نے یہی جواب دیا کہ وہ اپنے بابا کا مشن پورا کریں گی ، چاہے انہیں کتنی بھی تکلیفیں اور سختیاںکیوں نہ برداشت کرنا پڑیں ۔ شہید بی بی نے اپنی زندگی کی پروا نہیں کی لیکن جب انہوں نے اپنے بچوں کے بارے میں سوچا کہ وہ اس طرح کی تکلیف سے انہیں بچا لیں ، جس طرح انہوں نے خود اپنے والد کی گرفتاری ، قید اور قتل کی وجہ سے جھیلی تھی تو بھی انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو ایسی تکلیف سے بچانے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہیں ، مگر یہ کام نہیں کر سکتی ہیںکہ وہ پاکستان کے عوام کا ساتھ چھوڑ دیں ۔21 جون 1978 ء کو شہید رانی کی سالگرہ کے موقع پر سینٹرل جیل راولپنڈی سے ایک قیدی کی حیثیت سے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں ایک طویل خط لکھا ، جو ’’میری سب سے پیاری بیٹی‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوا ۔ اس خط میں شہید بھٹو نے اپنی سب سے پیاری بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اس جیل کی کوٹھڑی سے تمہیں کیا تحفہ دے سکتا ہوں ، جس میں سے میں اپنا ہاتھ بھی نہیں نکال سکتا ؟ میں تمہیں عوام کا ہاتھ تحفہ میں دیتا ہوں ۔ میں تمہارے لیے کیا تقریب منعقد کر سکتا ہوں ؟ میں تمہیں ایک مشہور نام اور ایک مشہور یاد داشت کی تقریب کا تحفہ دیتا ہوں ۔ تم سب سے قدیم تہذیب کی وارث ہو ۔ اس قدیم تہذیب کو انتہائی ترقی یافتہ اور انتہائی طاقتور بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرو ۔ ترقی یافتہ اور طاقتور سے میری مراد یہ نہیں کہ معاشرہ انتہائی ڈراونا ہو جائے ۔ ایک خوف زدہ کرنے والا معاشرہ ایک مہذب معاشرہ نہیں ہوتا ۔ مہذب کے معنی ہیں ، سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور طاقتور معاشرہ وہ ہوتا ہے ، جس نے قوم کے خصوصی جذبات کی شناخت کر لی ہو ۔ ’’اسی خط میں شہید بھٹو نے یہ بھی لکھا کہ ’’ میں تمہیں صرف ایک پیغام دیتا ہوں ۔ یہ پیغام آنے والے دن کا پیغام ہے اور تاریخ کا پیغام ہے ۔ صرف عوام پر یقین کرو ۔ ان کی نجات اور مساوات کےلیے کام کرو ۔ اللہ تعالی کی جنت تمہاری والدہ کے قدموں تلے ہے اور سیاست کی جنت عوام کے قدموں تلے ہے ۔ ‘‘پھر تاریخ نے دیکھا کہ شہید بھٹو نے عوام کے جس ہاتھ کا تحفہ اپنی سب سے پیاری بیٹی کی سالگرہ کے موقع پر انہیں دیا تھا ، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس تحفہ کو اپنی زندگی سے بھی زیادہ قیمتی متاع سمجھ کر سنبھالے رکھا اور اس عہد میں عوامی حقوق کی جدوجہد کو آگے بڑھایا، جو تاریخ انسانی میں دھرتی اور عوام کی سیاست کرنے والوں کےلیے مشکل ترین دور تھا ۔ یہ وہ عہد تھا ، جس میں نو فسطائی ( نیو فاشسٹ ) قوتوں نے عوام پر ایک ایسی جنگ مسلط کر رکھی تھی ، جس میں عالمی جنگوں سے بھی زیادہ خونریزی ہو رہی تھی ۔ ایک طرف تیسری دنیا کے ممالک میں عوامی جمہوری قوتوں کو کچل دیا گیا تھا اور آمریت مسلط کر دی گئی تھی اور دوسری طرف غیر ریاستی دہشت گرد عناصر کے ذریعہ عوامی جمہوری قوتوں کے پنپنے کا راستہ مسدود کر دیا گیا تھا ۔ شہید رانی نے نہ صرف دو فوجی آمروں کا مقابلہ کیا بلکہ دہشت گردوںکو بھی للکارا ۔ انہوں نے اس خوف ناک عہدمیں نہ صرف جمہوری قوتوں کو یکجا کرکے ملک میں جمہوریت بحال کرائی بلکہ نوفسطائی قوتوں کے پاکستان مخالف ایجنڈے کو بھی ناکام بنا دیا ۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کے عوام کو جمہوری حقوق دلوائے بلکہ پاکستان کو ان خطرات سے نکالا ، جو اس کی سلامتی کو درپیش تھے ۔18اکتوبر2007ء کو شہید بی بی جب8سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس آئیں تو پورے پاکستان سے عوام کا سمندر کراچی میں امڈ آیا تھا ۔ اسی دن ہی عوام دشمن قوتوں نے دہشت گردی کی کارروائی کرکے شہید بی بی کو قتل کرنے کی کوشش کی ، جس کے بعد انہیں پہلے سے زیادہ یقین ہو گیا تھا کہ عوام دشمن قوتیں ان کی زندگی کے درپے ہیں۔19اکتوبر 2007ء بلاول ہائوس میں پریس کانفرنس کے دوران جب ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ اس واقعہ کے بعد کیا وہ پاکستان میں مزید انتخابی مہم چلائیں گی تو شہید بی بی نے بلا جھجھک جواب دیا کہ ’’وہ لوگ بھی یہی چاہتے ہیں کہ میں انتخابی مہم نہ چلاوں اور واپس بیرون ملک چلی جاوں ۔ وہ لوگ چاہتے ہیں کہ ملک میں حقیقی جمہوریت بحال نہ ہو لیکن اب اگر جمہوریت بحال نہ ہوئی تو پاکستان کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے ۔ میں اپنے لوگوں کے ساتھ رہوں گی ۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ اپنے ہر جلسے میں ایک ہی بات کہہ رہی تھیں کہ ’’ ہمارا جینا اور مرنا عوام کے ساتھ ہے ۔ ہم دلائل پر بات کرنے والے لوگ ہیں ۔ ہمارے بھی نظریات ہیں اور جذبات ہیں ۔ ہمیں معلوم ہے کہ کیسے زندہ رہنا اور کیسے مرنا ہے ۔ ’’آخر27دسمبر2007کا وہ المناک دن بھی آیا ، جب شہید بی بی نے عوام کے درمیان ہی اپنی جان قربان کر دی ۔ اپنے بابا شہید بھٹو کی طرف سے اپنی سالگرہ پر دیا ہوا عوام کے ہاتھ کا تحفہ اپنی آخری سانس تک سنبھال کر رکھا ۔ آج ان کی سالگرہ پر یہ تحفہ ہر اس شخص کو سنبھال کر رکھنا ہے ، جو اپنی دھرتی اور اپنے عوام سے محبت میں شہید بی بی کا راستہ اختیار کر سکتے ہوں ۔ عوام کا ساتھ نہ چھوڑنے کا عزم ہی شہید بی بی کی سالگرہ کا تحفہ ہے ۔