پولیس ان ایکشن، اسمگلروں کی خیر نہیں....!

December 01, 2019
 

آئی جی سندھ سید کلیم امام نےاسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کے احکامات جاری کردئیے۔ سندھ کے تمام پولیس افسران کو مختلف سامان کی اسمگلنگ بالخصوص ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لانے اور ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ آئی جی سندھ کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ابتدائی مرحلے میں بعض پولیس افسران و اہل کاروں کو اس مذموم کاروبار میں ملوث ہونے کی بناء پر معطلی کی سزا دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق ،جیکب آباد پولیس نے اپنے ہی ڈپارٹمنٹ میں کریک ڈاؤن ایرانی ڈیزل ودیگر سامان کی اسمگلنگ میں ملوث ایک ایس ایچ او سمیت 5پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔

وطن عزیز میں غیر قانونی طریقے سے سامان کی اسمگلنگ کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے ادارے قائم کئے گئے ہیں، جن کی جانب سے وقتاً فوقتاً چھاپہ مار کارروائیاں کرکے غیر قانونی طریقے سے سامان کی اسمگلنگ کی روک تھام کی کوششیں ناکام بنائی جارہی ہیں۔ اسمگلنگ کے سامان کی خرید و فروخت کا کاروبارکرنے والوں کے خلاف ایک جانب محکمہ کسٹم سکھر ،بڑے پیمانے پر کارروائیاں کررہا ہے تو دوسری جانب آئی جی نے بھی اسمگلنگ بالخصوص ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ روکنے کے لئے تمام پولیس افسران کو سختی سے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔

اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے کسٹم و پولیس کی جانب سے کئے جانے واالے اقدامات سے قبل زمینی حقائق پر نظر ڈالی جائے تو اسمگلنگ کا اکثریتی سامان بلوچستان کی جانب سے سندھ میں داخل ہوکر مختلف شہروں میں سپلائی کیا جاتا ہے۔ بلوچستان سے سندھ کی طرف آنے والے 2راستے ہیں جن کی پہلی حدود سندھ میں جیکب آباد اور ضلع قمبر شہدادکوٹ ہے، 80فیصد گاڑیاں جیکب آباد سے گزر کر شکارپور، سکھر، گھوٹکی، کشمور کے راستوں سے کراچی و پنجاب کی جانب جاتی ہیں جبکہ 20فیصد گاڑیاں قمبر شہدادکوٹ سے کراچی جاتی ہیں۔

بلوچستان سے ایرانی ڈیزل سمیت دیگر اشیاء کی اسمگلنگ میں ضلع جیکب آباد اور قمبر شہدادکوٹ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ مذکورہ دونوں اضلاع کی حدود بلوچستان کی سرحد سے ملتی ہیں۔ بلوچستان سے آنے والی کوئی بھی گاڑی ان دو اضلاع سے گزرنے کے بعد ہی دیگر اضلاع کی جانب جاتی ہیں۔

محکمہ کسٹم سکھر کی جانب سے طویل عرصے سے اسمگلنگ کا کاروبارکرنے والوں کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں کی گئی تھی، اسمگلرز بآسانی بلوچستان سے کاسمیٹکس و الیکٹرونکس کا سامان، گریس، گاڑیوں کے پرزہ جات، تیل، ٹائرز، ایرانی ڈیزل، نشہ آور اشیاء، پان پراگ، گٹکے و دیگر اشیاء اسمگلنگ کرکے سندھ و پنجاب کے مختلف شہروں میں سپلائی کرتے تھے۔ تاہم چند ماہ قبل نئے ڈپٹی کلکٹر ڈاکٹر عمران رسول کی جانب سے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، ایرانی ڈیزل، پان پراگ، گٹکا، نشہ آور و ممنوعہ اشیاء سمیت دیگر سامان کی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے موثر کارروائیاں کی گئی ہیں اور پولیس بھی ان کی مکمل معاونت کررہی ہے۔

آئی جی سندھ سید کلیم امام کی جانب سے بھی سندھ بھر کے تمام پولیس افسران کو یہ احکامات دئیے گئے ہیں کہ اسمگلنگ کی روک تھام بالخصوص ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے محکمہ کسٹم کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے اور اسمگلنگ کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ آئی جی کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایس ایس پی جیکب آباد بشیر احمد بروہی نے ایرانی تیل و ڈیزل کی اسمگلنگ میں ملوث تھانہ گڑھی حسن کے ایس ایچ او سمیت 5اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ پولیس افسران و اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے ایرانی ڈیزل اسمگل کیا جارہا تھا۔

جیکب آباد میں پولیس افسران کو معطل کئے جانے سے قبل ایڈیشنل آئی جی سکھر ڈاکٹر جمیل احمد کی جانب سے ایرانی تیل، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں و دیگر سامان کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں ضلع کشمور و گھوٹکی کے 10ایس ایچ اوز سمیت 11پولیس افسران کو معطل کیا گیا تھا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کشمور و گھوٹکی اضلاع کے جن پولیس افسران کو معطل کیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک اعلیٰ پولیس افسر کی جانب سے آئی جی سندھ سید کلیم امام کو رپورٹ پیش کی گئی تھی جس میں ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ کے حوالے سے کشمور و گھوٹکی اضلاع کو سرفہرست رکھا گیا تھا، آئی جی سندھ نے ایڈیشنل آئی جی سکھر ریجن ڈاکٹر جمیل احمد کو معاملے کو دیکھنے کی ہدایات دیں، جس پر اے آئی جی نے معاملے کو دیکھنے یا تحقیقات کے بجائے براہ راست ایکشن لیتے ہوئے 11پولیس افسران کو معطل کردیا۔

کارروائی کے دوران زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کیا گیا، اگر تحقیقات کرنے کے بعد کارروائی عمل میں لائی جاتی تو وہ زیادہ موثر ثابت ہوتی اور اس میں مزید کھل کر یہ بات سامنے آتی کہ کتنے افسران ملوث ہیں اور کون ملوث نہیں ہیں کیونکہ حال ہی میں جیکب آباد میں ہونے والی کارروائی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ میں جیکب آباد اور قمبر شہداد کوٹ کے اضلاع اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ انہی دو اضلاع کی حدود بلوچستان کی سرحد سے ملتی ہیں۔ بلوچستان سے اگر کوئی بھی گاڑی سندھ میں داخل ہوتی ہے تو وہ سب سے پہلے ضلع جیکب آباد کے تھانہ صدر کی حدود سے گزرے گی اور پھر اس کے بعد جیکب آباد کے 5مختلف تھانوں کی حدود سے گزر کر قومی شاہراہ کا تقریباً60 کلو میٹر تک کی مسافت طے کرکے ضلع کشمور میں داخل ہوگی۔ بلوچستان سے ٹریفک کی آمد و رفت کے لئے دوسرا راستہ جیکب آباد سے شکارپور اور شکارپور کے بعد کشمور اور سکھر کی جانب نکلتا ہے۔

دوسرے راستے پر ضلع شکارپور کے 7پولیس اسٹیشن اور تقریباً 75کلو میٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد گاڑی ضلع کشمور کی حدود میں داخل ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بلوچستان سے ایرانی ڈیزل کی 80فیصد کھیپ براستہ جیکب آباد کراچی پنجاب کے مختلف شہروں میں جاتی ہے جبکہ 20فیصد کھیپ بلوچستان سے براستہ قمبر شہدادکوٹ کراچی جاتی ہے، اس طرح ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ میں سب سے زیادہ اہمیت جیکب آباد و قمبر شہدادکوٹ کی ہے، اگر ان دو اضلاع میں ہی اسمگل شدہ ایرانی ڈیزل و دیگر سامان لے جانے والی گاڑیوں کو روک لیا جائے تو یہ گاڑیاں دیگر شہروں میں نہیں جاسکتیں۔

یہاں اس بات قابل ذکر ہے کہ کچے کا وسیع علاقہ کشمور سے منسلک ہے جس کے باعث وہاں ڈاکوئوں کی نقل و حرکت دیگر اضلاع کےبہ نسبت بہت زیادہ ہے۔ پولیس کی زیادہ تر توجہ امن و امان کی فضاء کو بحال رکھنے، اغوا برائے تاوان سمیت دیگر وارداتوں کو روکنا ہے جس میں بڑی حد تک کشمور پولیس کامیاب ہوئی ہے اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے بھی کشمور پولیس نے متعدد کارروائیاں کی ہیں۔ کشمور ضلع میں ایسا کوئی راستہ نہیں کہ جہاں ایرانی تیل براہ راست پہنچ جائے، جن دو اضلاع میں پولیس افسران کو معطل کرکے کارروائی کی گئی ہے ان اضلاع میں براہ راست ایرانی ڈیزل آنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

اس کے باوجود جن اضلاع میں بلوچستان سے ایرانی ڈیزل کی گاڑیاں داخل ہوتی ہیں ان اضلاع کے کسی ایک بھی پولیس افسر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی، جو کہ ایڈیشنل آئی جی کی جانب سے دو اضلاع کے افسران کے خلاف کارروائی اور پولیس کی رپورٹ پر سوالیہ نشان ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ ودیگر بالا حکام کو ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے زمینی حقائق کو مد نظر رکھنا چاہیے، اگر جیکب آباد اور قمبر شہدادکوٹ میں ہی ایرانی ڈیزل و دیگر سامان اسمگل کرنیوالی گاڑیوں کو پکڑ لیا جائے تو یہ گاڑیاں آگے جا ہی نہیں سکتی، اس لئے ضروری ہے کہ حکومت سندھ اور پولیس ان اضلاع پر خصوصی توجہ مرکوز کریں اور اسمگلنگ کے کاروبار بالخصوص ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ کی روک تھام کو ناکام بناکر قومی خزانے کو خطیر رقم کا نقصان پہنچنے سے بچایا جائے۔