• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

  السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

لکھنؤ کے نوابوں کی آن بان شان

دیکھیے، ہم نوابوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے آپ ہمارے خطوط ایڈٹ نہ کیا کریں۔ ہمارے ساتھ خصوصی رعایت کیا کریں اور ہمارے مشوروں پر بھی عمل کیا کریں۔ ہمیں آج بھی اگر کوئی ایک بار دیکھ لے ناں، تو لکھنؤ کے نوابوں کی آن بان شان یاد آجائے۔ ہماری درخواست ہے کہ ہمیں بھی ایک بار سنڈے میگزین میں ماڈلنگ کا موقع دیا جائے۔ ویسے آپ کی ماڈل صاحبہ نے اس بار کائو بوائے ہیٹ کیوں پہن رکھا تھا؟ آپ لوگوں کو کوئی ڈھنگ کی ماڈل نہیں ملتی۔ اپنی ماڈلز کو پہلے تہذیب و سلیقہ تو سکھائیں۔ اور آپ نے ’’اسٹائل‘‘ کی تحریر لکھنا کیوں چھوڑ دی۔ کم از کم اپنی ذمّے داری تو نبھائیں۔ (نواب زادہ بےکار ملک، سعید آباد، کراچی)

ج: وہ کیا ہے کہ ’’تُوں کی جانیں بھولئی مجّے، انارکلی دیاں شاناں‘‘ تو لکھنؤ کے نوابوں کا صرف نام ہی سُن رکھا ہے یا کبھی دیکھے بھی ہیں۔ اور آپ اپنا یہ ماڈلنگ کا شوق، سیلفیز لے کے پورا کرلیں، کیوں کہ ہمارا نہیں خیال کہ ہمارے انتقال کے بعد بھی سنڈے میگزین کا معیار کبھی اس سطح تک گرے گا۔

باغ و بہار سلسلہ

اس مرتبہ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمّد احمد غزالی کی تحریر پڑھنے کو ملی۔ حضرت جنید بغدادی پر بہت اچھا مضمون تحریر کیا۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں سیّد علی شاہ گیلانی پر منور راجپوت کی تحریر کا بھی جواب نہیں تھا۔ محمّد ارسلان فیاض نے نایاب جانوروں، پرندوں پر خُوب صُورت رپورٹ تیار کی۔ ’’اِن اینڈ آئوٹ‘‘ کی صُورت کیا باغ و بہار سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ منور مرزاکے تجزئیات کا تو کیا ہی کہنا۔ سرِوق کی ماڈل اچھی تھی۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں انگور پر ڈاکٹر شاہد ایم شاہد نے اچھی معلومات فراہم کیں۔ کافی عرصے بعد کنول بہزاد کی ’’روم میٹ‘‘ پڑھنے کو ملی، پسند آئی۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)

گونگا ڈھونڈ لیں

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دو ہی شماروں پر تبصرہ کروں گا۔ دونوں میں ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کے متبرّک صفحات موجود تھے، پڑھ کر برکت پائی۔ سانحۂ کربلا پر مضمون پڑھ کر آنکھیں بھیگ گئیں۔ بلوچستان کے مزارات، درگاہوں، خانقاہوں کا ذکر عُمدگی سے کیا گیا۔ موٹیویشنل اسپیکر، ٹرینر، سیّد قاسم علی شاہ سے مفصّل گفتگو لاجواب تھی۔ سماجی کارکن گوہر تاج سے بات چیت بھی خُوب رہی۔ ’’ایٹم بم کے بعد دنیا کیسے بدلی اور امریکا کا جاپان پر ایٹمی حملہ‘‘ دونوں مضامین پڑھ کر دل خون کے آنسو رویا۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں نواسۂ رسولؐ سیدنا حسین ابن علیؓ کی شہادت اور ان کے اہلِ و عیال کی قربانیوں کی تاریخ رقم تھی۔ پیارا وطن سے جنوبی پنجاب کے مَری، فورٹ منرو سے متعلق جاننے کا اتفاق ہوا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ پہلی فرصت میں وہاں ضرور جائیں گے۔ شہزادہ بشیر محمّد اورخادم ملک کو اس بار کرارے جوابات ملے، تو اسماء خان دمڑ کو مفت مشورہ کہ ماں سے کہو، تمہارے لیے کوئی گونگا ڈھونڈ لیں۔ ہاہاہا… (پرنس افضل شاہین، نادر شاہ بازار، بہاول نگر)

ج: آپ کو بڑی ہنسی آئی ہے، اِس بات پر۔ کہیں گھر میں زوجہ محترمہ کےسامنے آپ بھی’’میاں گونگے‘‘ ہی تو نہیں۔

سرپرستی سے محروم

مَیں خاصا سینئر ہونے، معیاری و عُمدہ کلام لکھنے کے باوجود کوئی مقام حاصل نہیں کرپایا، شاید اس لیے کہ کسی کی سرپرستی سے محروم ہوں۔ (سیّد سخاوت علی جوہر، کراچی)

ج: آپ کا کلام ہمارے یہاں ایک سے زائد مرتبہ شایع ہوچُکا ہے۔ اور جو نہیں شایع ہوا، اُس کا سبب پہلے بھی گوش گزار کیا گیا تھا کہ خدارا! چھوٹے چھوٹے پھرّوں پر آگے، پیچھے، اوپر نیچے لکھ لکھ نہ بھیجا کریں، کچھ تو صحافتی اخلاقیات کا خیال کریں۔ اب یہ تازہ کلام بھی آپ کی اِسی روش کے سبب ڈسٹ بن کی نذر کیا جارہا ہے۔

اشاعت کے عوض

دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے… بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے۔‘‘ مختصر سی حاضری کی اجازت چاہتے ہیں۔ میگزین کی دل کشی دن بدن عروج پر جارہی ہے۔ تمام تحاریر اپنی مثال آپ ہوتی ہیں۔ ہمیں پوچھنا یہ ہے کہ ہماری بہت سی تحاریر کی اشاعت کے عوض کیا ہمارے کسی خط کو ’’اس ہفتے کی چِٹھی‘‘ بنایا جاسکتا ہے۔ نیز، ہمیں ماڈلنگ کا بھی شوق ہے، تو کیا ہمیں ہماری تحریروں کی اشاعت کے باعث میگزین میں ماڈلنگ کا موقع مل سکتا ہے؟ اپنی ایک تصویر بھی بھیج رہا ہوں۔ ویسے گنجا ہوں، لیکن وِگ لگاتا ہوں۔ (آصف احمد، کھوکھراپار، ملیر، کراچی)

ج: پہلے بھی تفصیلاً بتایا گیا تھا کہ آپ کی ہر تحریر کو قابلِ اشاعت بنانے میں ’’بےتحاشا‘‘ پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، مگر شاید بات آپ کے سَر سے گزر گئی۔ تو بھائی، جب تحریر کی اشاعت ہی بذاتِ خود کسی ’’انعام‘‘ سے کم نہیں، تو پھر یہ عوض، معاوضہ کیا؟ آپ کے لیے بھی یہی مشورہ ہے کہ ماڈلنگ کا شوق سیلفیز کے ذریعے پورا کرلیں کہ ہم سے تو یہ بار اُٹھایا نہ جائے گا۔

غلط تاریخِ وفات

منور مرزا ’’حالات و واقعات‘‘ کی صورت لازوال تجزئیات پیش کرتے ہیں۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمود میاں نے ’’تذکرئہ صحابیاتؓ‘‘ کی آخری قسط میں حضرت ثویبہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بیش بہا معلومات فراہم کیں۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر صاحبان نےبھی معلومات افزا مضامین تحریر کیے۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں رعنا کہکشاں انصاری نے اپنے شوہر کی تاریخِ وفات 7؍دسمبر 2021ء تحریر کردی، جب کہ ابھی اس تاریخ کے آنے میں دو ماہ باقی ہیں۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ہمارا خط موجود نہیں تھا، لیکن خادم ملک کا خط جگمگا رہا تھا، دیکھ کے خوشی ہوئی۔ اگلے شمارے کے ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں ڈاکٹر سمیحہ راحیل نے ’’یومِ حجاب‘‘ کی مناسبت سے بہترین مضمون تحریر کیا۔ افغانستان میں طالبان کی تیز رفتار فتوحات حیران کُن ہیں۔ منور راجپوت کا بچّوں سے متعلق ’’سنڈے اسپیشل‘‘ روح جھنجھوڑ گیا۔ بہت شکریہ۔ (سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)

ج: غلط تاریخِ وفات ، مضمون نگار نے نہیں لکھی تھی، یہ صفحہ انچارج کی کوتاہی تھی، جس پر اُنہیں باقاعدہ سرزنش کی گئی ہے اور آئندہ مزید محتاط رہنے کی تاکید بھی۔

آزادی کے لمحوں میں جان

؎ ’’یہ محفل جو آج سجی ہے…‘‘ آپ کے تعریفی کلمات نے ہمیں اپنے کالج کا پہلا انعام یافتہ مضمون یاد دلادیا۔ حسبِ روایت اس دفعہ بھی سنڈے میگزین آزادی کے سورج کی تابانیوں سے دمکتا، سبز و سفید رنگ سے آراستہ، آزادی کی دُھنیں بکھیرتا اور آپ کے تحریری نوٹ؎ ’’اے ارض پاک تجھ سی متاعِ حسیں کہاں…‘‘ سے مہکتا سیدھا دل میں جا اُترا۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں خُون سے رنگین آزادی کا ورق ’’یہ لہو، سُرخی ہے، آزادی کے افسانے کی‘‘ بازگشت سُنا رہا تھا، ساتھ ہی اردو زبان کی اہمیت پر شان دار تحریر بھی موجود تھی۔ 75ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے مُلک کی سربرآوردہ شخصیات کا عزم ’’ہم اس زمین کو اِک روز آسمان بنائیں گے‘‘ آزادی کے لمحوں میں جان ڈال گیا۔ ’’پاکستان ہمیں کسی نے تھالی میں سجا کر پیش نہیں کیا تھا، یہ تو سہاگنوں کے انتظار کی وہ کہانی ہے، جو پون صدی پر محیط ہے‘‘۔ وطن کی بنیادوں میں رَچے لہو کا رنگ افسانوں میں ڈھل کر رُلا گیا۔ ’’رپورٹ‘‘ نے بلوچستان کے علاقے مند میں چلتی پھرتی لائبریری کا حال احوال دیا۔ رحیمہ جلال کا اچھوتا خیال، بارش کا پہلا قطرہ بن کر اس دھرتی کو علم کے دریا سے سیراب کرتا نظر آیا۔ سنڈے میگزین کو اس قدر شان دار ’’آزادی نامہ‘‘ بنانے کا بے حد شکریہ۔ (نازلی فیصل، ڈیفینس، لاہور)

ج: آپ کچھ زیادہ ہی پیچھے نہیں چل رہیں کہ باقی لوگ تو اب ستمبر کے شماروں پر تبصرہ کررہے ہیں۔

تین ماہ کے شمارے

اُمید ہے، اپنی ٹیم کے ساتھ خیر خیریت سے ہوں گی اور حسبِ معمول خُوب محنت کر رہی ہوں گی۔ مَیں جون تا اگست کے چنیدہ شماروں پر تبصرے کی اجازت چاہوں گی۔ طلعت حسین کا انٹرویوبہت پسند آیا تھا۔ ’’ادب پہلا قرینہ ہے‘‘، بہت محبّت سے لکھی گئی تحریر تھی۔ ماحور شہزاد کا انٹرویو پڑھ کے مزہ آیا تھا اور اس جریدے کے ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے تمام لکھاریوں کے خطوط تو بہت ہی زبردست تھے۔ اگلے شمارے میں شفق رفیع کا مضمون ’’تنہائی کے چوراہے پر آن کھڑا ہوں‘‘ پڑھ کے بےحد رونا آیا کہ معاشرے کو آخر کیا ہوگیا ہے۔ 27 جون کےشمارےمیں خط شایع کرنے کا بہت شکریہ، جواب بھی عُمدہ تھا۔ کہی اَن کہی میں تابش ہاشمی کا انٹرویو زبردست تھا۔ کتابوں پر تبصرہ بھی اچھا تھا۔ اگلے شمارے کی ماڈل بہترین تھی۔ حضرت زینبؓ بنتِ علی کےبارےمیں جتنا بھی پڑھیں، تشنگی رہ جاتی ہے۔ کیسی بہادر،نڈر خواتین تاریخِ اسلام میں گزری ہیں۔ یزید کے دربار میں خطبہ تو گویا ایک انقلاب تھا۔ رکشا ڈرائیور عرب شاہ کا انٹرویو پسندآیا۔’’عیدِقرباں ایڈیشن‘‘کےتمام مضامین لاجواب تھے۔ ٹائٹل خُوب صُورت تھا۔ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘سلسلہ بہترین ہے۔ محمّد سلیم راجہ کی چِٹھی بے شک ’’اس ہفتے کی چِٹھی‘‘ کی حق دار تھی کہ بغیر نقطوں کے حروف سے بہت محنت سے لکھی گئی۔ اگلے شمارے کی ماڈل حسین لگی۔ فیشن ڈیزائنر، حسن شہریار کا انٹرویو خاصا رواں تھا۔ ’’جذبۂ پدر، فاتحِ عالم‘‘ راوئو محمّد شاہد کا لاجواب مضمون تھا۔ منور راجپوت کا ’’نسلوں کا محسن‘‘ بھی اعلیٰ تحریر تھی۔ شاہ جہاں رانا کا اپنے بچّوں کے ساتھ شوٹ خاصا کلاسیکل تھا۔ اور پھر تحریر آپ کی ہو تو لُطف دوبالا ہو ہی جاتا ہے۔ ’’کہی اَن کہی‘‘ میں علی سجاد شاہ کا انٹرویو بہت ہی بھایا۔ اگست کے شمارے کا روضۂ امام حسینؓ کا سرِورق دیکھ کےا ٓنکھیں بھرآئیں۔ سانحۂ کربلا پر مضمون بھی رقّت انگیز تھا۔ استاد سیّد قاسم علی شاہ سے بات چیت زبردست تھی۔ واقعی، انہوں نے اپنی زندگی میں کافی محنت کی ہے۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ میں 1967ء کا واقعہ شایع ہوا، پڑھ کےسادہ و قناعت پسند، گلیمر سے یک سر دُور طرزِ زندگی میں کھو کے رہ گئے۔ (عابدہ ارشد علی بٹ، غازی روڈ، لاہور)

ج:آپ کا تبصرہ اچھا ہے، لیکن ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 4 شماروں پر تبصرہ کریں۔ اس طرح درجن بھر شماروں کی بات کریں گی، تو محض سرسری تذکرہ ہی کرپائیں گی۔ نیز، دیگر خطوط نگاروں سے بہت پیچھے بھی رہ جائیں گی کہ ویسے ہی خط لکھنے سے اشاعت تک کا عرصہ دو ڈھائی ماہ پر محیط ہوتا ہے۔

اپنے صفحے کی آغوش میں…

ہمیشہ کی طرح دُعائوں کے موتی چُن چُن کر لائی ہوں کہ ایگزامزجو اختتام پذیر ہوئے۔ اس سنڈے جیسے ہی کانوں میں ’’جنگ اخبار‘‘ کی صدا پڑی۔ فوراً اُچک کے پکڑا اور ’’سنڈے میگزین‘‘ الگ کرلیا۔ پھر ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے ’’آپ کا صفحہ‘‘ پلٹا تو اپنا نام اُجاگر دکھائی دیا۔ مطالعہ شروع کیا، تو شبیر غوری اورسمیراغزل تاریخ کے صفحات پلٹتے دکھائی دیئے۔ شفق رفیع اور م۔ح سحاب کے خراجِ عقیدت کا جواب نہ تھا۔ سینٹر اسپریڈ بہت پسند آیا۔ ثناء عسکری کا انٹرویو بھی بہت مزے کا تھا۔ ’’پیارا گھر‘‘کےسجےسجائے دستر خوان پر بھی کچھ دیر استراحت فرمائی اور ’’ڈائجسٹ‘‘ سے لُطف اندوز ہوتے ہوئے ایک بار پھر اپنے صفحے کی آغوش میں آگئے۔ نازلی فیصل، رونق افروز برقی، محمّد سلیم راجا، راجہ افنان احمد، ڈاکٹر محمّد حمزہ خان، سائرہ ناز، قرأت نقوی، فہیم مقصود، افشاں حسن اور گل ریز احمد وغیرہ نے خُوب قلمی چھکّے مارے، تو آپ کے چٹ پٹے جوابات نے بھی اتوار کو یادگار بنادیا۔ ( اُمّ ِحبیبہ نور)

ج: دو تین مہربانیاں اگر کرسکو، تو ممنون رہیں گے۔ خط صفحے کے ایک جانب، سطر چھوڑ کر لکھا کرو (حاشیہ کھینچنے کی عادت تو شاید اسکول سے پڑگئی ہوگی تو وہ موجود ہوتا ہے) دوم، اُردو زبان کے الفاظ استعمال کیا کرو کہ تمہارے بعض الفاظ بلکہ جملے بیسیوں بار پڑھ کے بھی سرکےبہت اوپر سےگزر جاتے ہیں، مثلاً ’’شکریے کے ماہ پاروں کے ساتھ‘‘ ، ’’محبّتوں میں ایک اسمارٹ سا شکوہ کُناں بھی ہے‘‘، ’’خُوب صُورت سی ناراضگی کی صراحت ہرگز نہ کیا کیجیے‘‘ اور ’’قائداعظم کی عظام کلاں شخصیت کی اچانک رحلت سے ایک اور بڑا واضح احسان ہم پر واضح ہوگیا‘‘(مزید بھی کئی جملےتھے جو ایڈٹ کیے گئے)اور سوم، اپنے نام کے ساتھ مقام، مطلب شہر، گائوں کا نام بھی ضرور لکھا کرو۔

اچھے، انوکھے سلسلے

آج تین سال کے طویل وقفے کے بعد آپ کو خط لکھ رہا ہوں۔ اُمید ہے مع اسٹاف خیریت سے ہوں گی۔ ویسے مَیں ایک طویل مدّت سے ’’روزنامہ جنگ‘‘ کا باقاعدہ قاری ہوں۔ ’’سنڈے میگزین‘‘ میں شامل سارے ہی سلسلے بہت اچھے اور انوکھے ہیں خصوصاً 19ستمبر کے شمارے میں شامل مضمون ’’ایم فل، پی ایچ ڈی اسکالرز کے مسائل‘‘ ایک اہم، دیرینہ مسئلے پر شان دارمضمون تھا۔ ’’نئی کتابیں‘‘ کا صفحہ بےحد پسند ہے اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ تو واقعی ہردل عزیز ہے۔ مَیں اپنی ایک تحریر بھی ارسالِ خدمت کر رہا ہوں۔ قابلِ اشاعت ہو تو شایع فرمادیں۔ (ارشد حسین چنّا، ایم اے/ ایم فل، پمز، اسلام آباد)

ج: دوبارہ قدم رنجہ فرمانے کا شکریہ۔ تحریر قابلِ اشاعت ہوئی، تو شامل ہوجائے گی۔

          فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

5ستمبر کا شمارہ موصول ہوا، جو 6 ستمبر کی مناسبت سے’’یومِ دفاع‘‘ کے رنگ لیےتھا۔ مگر سرِورق پر ماڈل مغربی انداز میں جلوہ گر تھی اور ٹکٹکی باندھے نہ جانےکدھر دیکھےجارہی تھی۔ جلدی سے اندر کی راہ لی، شبّیر غوری نے محمّد علی جناح پر اچھا مضمون لکھا۔ اے کاش! ہمارے سیاسی ہلّڑ بازوں میں سے کوئی تو جناح ثانی بننے کی کوشش کرتا، مگر افسوس، صد افسوس7دہائیوں بعد بھی یہ خواب شرمندئہ تعبیر نہ ہو سکا۔ سمیرا غزل نے مختصر،مگرجامع لکھا۔ ویسے اُن کو افسانہ نگاری کرنی چاہیے۔ م۔ح سماب نے بھارت کی درگت کی رُوداد بہترین انداز میں پیش کی۔ شفق رفیع نے اچھے الفاظ اور بہترین انداز میں لکھا، مگر دو باتیں متنازع تھیں۔ اوّل یہ کہ9 /11القاعدہ کے دہشت گردوں نے کیا،مگر عالمی ریکارڈ کے مطابق 9/11 امریکا نے خود کروایا۔ دوم، جب مشرف نے عالمی اتحاد (نیٹو) کے سامنے سرینڈر کیا، تو اس کے بعد طالبان نے پاکستان میں دھماکے شروع کردیئے، یہ غلط ہے۔ پاکستان میں دھماکے طالبان نے نہیں شروع کیے بلکہ لال مسجد واقعے کے بعد TTP کا جنم ہوا اور پھردھماکےشروع ہوئے۔ بقول ڈی جی، آئی ایس آئی، جنرل حمید گل، قبائلی علاقہ جات میں ٹی ٹی پی نے جنم لیا اور یہ کارروائیاں شروع ہوئیں، جو قبائلی علاقوں میں بےگناہ شہید ہونے والوں کا انتقام تھا۔ ’’گفتگو‘‘ میں میجر عامر موجود تھے۔ چلو کوئی تو دبنگ موجود ہے، جو تلخ سچ بولتا ہے۔ 20سالہ مشرّفی پالیسی میں، جو دہشت گردتھے،بقول میجرعامر’’ہمارے وہ خیرخواہ اورغم گسار آگئے ہیں‘‘ اب آپ چوہدری نثار کا انٹرویو بھی کروا ہی لیں۔’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں مغربی انداز کے پہناوے تھے، ملٹی کلر پرنٹڈ شرٹ اور سی گرین کا لُک اچھا لگا۔ فاروق اقدس نے فتحِ مبین پر لکھا، اعجاز الحق کا دورئہ کابل بھی بہترین تاریخی باب تھا، جس سے روشناس ہوئے۔ منور مرزا نے بھی قلم کا خُوب جادو جگایا۔ کئی خُوب صُورت جملے اور مجموعی طور پر عُمدہ تجزیہ پڑھنے کوملا۔ کہی اَن کہی میں ثناء عسکری کا انٹرویو نہیں پڑھا۔ منور راجپوت نے نئی کتابوں پر اچھا تبصرہ کیا، خاص طور پر دیوان جعفری اور اردو کا ابلاغی مزاج پر۔ ہمارے صفحے پر پہلےہی راجہ صاحب حکومت فرما رہے تھے،اوپر سے راجہ افنان بھی آگئے۔ امّ حبیبہ اور افنان کے خطوط سمجھنا کس قدر مشکل ہوگا، خُوب اندازہ ہو رہا تھا۔ براہِ مہربانی چوہدری نثار علی خان، اعجاز الحق اور عبداللہ گل میں سے جس کا انٹرویو ممکن ہو سکے، ضرور کروائیں۔ (پیر جنید علی چشتی، ملتان)

ج: اپنی رائے کا اظہار کرنا آپ کا حق ہے، لیکن شفق رفیع نے وہی کچھ لکھا، جو طے شدہ اور تسلیم شدہ حقائق ہیں۔

گوشہ برقی خُطوط
  • بلاشبہ سنڈے میگزین بہت کام یابی اور خُوب صُورتی سے جاری و ساری ہے، لیکن جریدے کی زیادہ تعریف غالباً آپ کو اِس لیے پسند نہیں کہ کوئی ایرا غیرا نمایاں نہ ہوجائے۔ لیکن فن کار یا شاعر کا تو کام ہی اظہارِ فن ہوتا ہے۔ مَیں نے بھی اپنی شاعری بھیج رکھی ہے، آپ سرحد پار کے بھارتی شعراء کا کلام تو شایع کر رہی ہیں، مگر ہمارا نہیں۔ کیا پاکستان میں مسلمان کم ہیں یا شاعر کم پڑگئے ہیں۔ ویسے آپ کے لیے نواب زادہ خادم ملک ہی کافی ہیں۔ (صدیق فن کار)

ج: آپ کے تو نام کے ساتھ فن کار جُڑا ہوا ہے۔ آپ کی ’’فن کاری‘‘ پر کسی کو کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ مگر یہ فن کارانہ جملہ کہ ’’کوئی ایرا غیرا نمایاں نہ ہوجائے‘‘ بالکل ہی سر سے گزر گیا۔ بہرحال، اطلاعاً عرض ہے کہ ہماری پہلی ترجیح ’’میرٹ‘‘ ہے اور اس میں سرحد اندر یا سرحد پار کی کوئی تخصیص نہیں۔

  • سنڈے میگزین سے ذہنی و قلبی تعلق بہت پرانا ہے۔ پھر ہماری نگارشات شایع ہونا شروع ہوگئیں، تو تعلق مضبوط تر ہوگیا۔ ماشاء اللہ میگزین کا ہر سلسلہ ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ مَیں تو خود کو کسی مشورے کے لائق بھی نہیں سمجھتی۔ ہاں کچھ نظمیں، کہانیاں بھیج رکھی ہیں، کیا شایع ہونے کی امید رکھوں۔ (فوزیہ ناہید سیال)

ج: اگر ناقابلِ اشاعت کی فہرست میں نام شامل نہیں ہوا، تو ضرور امید رکھیں کہ باری آنے پر ہر قابلِ اشاعت تحریر شایع کردی جاتی ہے۔

  • مَیں آپ کے میگزین کے لیے کچھ لکھنا چاہتی ہوں، پلیز میری رہنمائی فرمائیں کہ میں اُردو میں لکھوں یا انگریزی میں؟ (منّت فاطمہ)

ج: منّت بی بی! اس سوال کے بعد آپ نے رہنمائی کی کوئی گنجایش چھوڑی ہے۔ ایک اُردو جریدے میں لکھنے کی خواہش ہے اور پوچھ رہی ہیں کہ اُردو میں لکھوں یا انگریزی میں؟ آپ ایسا کریں، سنسکرت میں لکھنے کی کوشش کریں کہ نہ نو مَن تیل ہوگا، نہ رادھا ناچے گی۔

  • کچھ سالوں سے اس میگزین میں لکھنے کی خواہش ہے، مگرمحض سوچ کررہ جاتی ہوں کہ پتا نہیں، تحریر شایع بھی ہوگی یا نہیں؟ (مسز صبوحی احمد، گلشن اقبال، کراچی)

ج: ای میل تو ہم نے شایع کردی ہے۔

قارئینِ کرام !

ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

تازہ ترین