• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا تیز، پھر پابندیاں، اندرون ملک پروازوں اور ٹرانسپورٹ میں کھانے کی فراہمی بند، ایس او پیز پر سختی سے عمل کی ہدایت، کل وزرائے تعلیم کا اجلاس طلب


کراچی ( اسٹاف رپورٹر، جنگ نیوز)کورونا تیز، پھر پابندیاں ،اندرون ملک پروازوں اور ٹرانسپورٹ میں کھانے کی فراہمی بند، ایس او پیز پر سختی سے عمل کی ہدایت، سندھ میں شادی ہالز، مارکیٹس، عوامی مقامات پر ماسک نہ پہننے والوں پرجرمانہ ہوگا۔

شادی تقریبات میں کھانا باکس میں دینے کی ہدایت،سرکاری ملازم بھی ماسک پہننے کا پابند ہوگا،خلاف ورزی پر ایک دن کی تنخواہ کاٹنے کی تجویز ،این سی او سی کا کہنا ہے کہ وزرائے صحت کل کے اجلاس میں سماجی و شادی تقاریب، انڈور، آئوٹ ڈور، ڈائننگ، ٹرانسپورٹ شعبے میں ایس او پیز تجاویز پر غور کرینگے، جبکہ کل وزرائے تعلیم کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا۔

ادھر ملک بھر میں کورونا کے 4286نئے مریض سامنے آئے، نصف 2622کیسزسندھ سے رپورٹ ہوئے جبکہ 92فیصد کراچی میں سامنے آئے،صوبے میں فعال کیسز بڑھ کر 18ہزار 585ہوگئے، 229مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

گزشتہ روزوزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورونا سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام پبلک مقامات ، شاپنگ مالز، شادی ہالز ، سرکاری دفاتر میں ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور اجلاس میں فیصلہ کیا کہ صوبے میں اسکول کھلے رہیں گے اور تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں گی مگر تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں ماسک پہننا لازمی ہوگا اور ایس او پیز پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائے گا۔

شادی ہالز میں مہمانوں کو ماسک پہننے کا پابند کیا جائے اور متعلقہ شادی ہالز کی انتظامیہ کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ آنے والے مہمانوں کے ماسک اور ویکسی نیشن کارڈ چیک کریں، اسکے علاوہ شادی ہالز میں مہمانوں کو کھانا باکسز میں دیا جائے، اجلاس میں حکومت کی ویکسی نیشن مہم پورے صوبے میں تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیااور یکم فروری سے ڈور ٹو ڈور ویکسی نیشن مہم شروع کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کرکے ہی ہم کورونا کے پھیلاؤ پر قابو پاسکتے ہیں۔ 

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں تمام سرکاری افسران و اہلکاروں کو ماسک لازمی پہننا ہوگا اور اگر کوئی سرکاری افسر یا اہلکار ماسک نہیں پہنے گا تو اسکی اس دن کی تنخواہ کاٹنے کی تجویز ہے۔ 

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ تمام اسپتال، سرکاری و نجی اسپتالوں کا سروے کیاجائے گا اور سروے میں اسپتالوں کی گنجائش کا جائزہ لیا جائے گا کہ اسپتالوں میں کتنی گنجائش ہے اور مزید کتنی ضرورت ہے ۔ 

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مارکیٹس / شاپنگ مالز میں آنے والوں کے ویکسین کارڈ چیک کئے جائیں اور بغیر ماسک کے کسی کو بھی آنے کی اجازت نہ دی جائے۔ 

انتظامیہ کو ویکسی نیشن کارڈ کا رکارڈ چیک کرنا لازمی ہوگا، اجلاس میں ریسٹورانٹس پر بھی نگرانی رکھنے کیلئے فیصلہ کیا گیا اورجو ریسٹورنٹس کورونا ایس او پیز پر عمل نہیں کریں گے انکے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کچھ دنوں کے بعد دوبارہ صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس بلایا جائے گا اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد مزید فیصلے کے جائیں گے ۔

ادھر ملک بھر میں کورونا وائرس کی وباء پر قابو پانے کے حوالے سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے سندھ میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت سے تعاون کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

این سی او سی نے 17جنوری کو صوبائی وزرائے صحت اور تعلیم کا اجلاس بلا لیا،نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے طے کیا کہ اندرونِ ملک پروازوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں کھانے کی فراہمی پر 17 جنوری سے مکمل پابندی ہو گی۔

این سی او سی نے ہدایت کی کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی ماسک کے استعمال کو یقینی بنائے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے ہدایت کی کہ وفاق کی تمام اکائیاں کورونا ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کریں۔اجلاس میں تعلیم کے شعبے، سماجی اور شادی کی تقریبات میں کورونا وائرس کی ایس او پیز کی تجاویز پر غور بھی کیا گیا۔

این سی او سی کے اجلاس میں اِن ڈور اور آؤٹ ڈور ڈائننگ اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کورونا ایس او پیز کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے ویکسی نیشن مہم اور اس کے اہداف کو حاصل کرنے کی کوششوں کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

ادھر پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) نے پیر 17 جنوری سے دوران پروازکھانا دینے پر پابندی عائد کر دی تاکہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے پھیلائو کو روکا جا سکے۔

مزید برآں پاکستان میں عالمی وبا کورونا کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 4 افراد انتقال کر گئے اور 4286 نئے مریض بھی سامنے آئے، 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 52522 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 4286 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ وائرس سے مزید 4 افراد انتقال کر گئے۔

اہم خبریں سے مزید