آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
لاس اینجلس سے واپسی قریب آ رہی تھی اور میں گل لالہ سے ایک بار اور ملنا چاہتا تھا تاکہ اس غریب الوطن افغان خاتون کی دانش اور داستان الم سے مزید دریوزہ گری کر سکوں۔ چنانچہ موصوفہ نے دو دن بعد اپنے اپارٹمنٹ پر ہی ایک نشست کا بندوبست کر لیا، جس میں اس کی ماں اور درجن بھر دیگر افغان خواتین و حضرات کے علاوہ ایک پاکستانی کپل اور دو امریکی خواتین بھی موجود تھیں۔ قصہ درد کا آغاز کرتے ہوئے بولی کہ میں ادھر ہی تھی کہ نومبر 2008ء کے پہلے ویک اینڈ پر ایک دل ہلا دینے والی خبر ملی۔ میری ماں کی واحد زندہ بہن ہوائی حملے میں ہلاک ہو گئی تھی۔ اپنے سے نو برس چھوٹی بہن پلوشے ماں کو بہت عزیز تھی۔ اس کے ذکر سے چہرے پر بشاشت آ جاتی، اکثر بچپن کی یادیں دہراتی۔ قصے کہانیاں، کھیل تماشے اور بہت سی باتیں کہ کس طرح وہ اسے گود میں اٹھا کر کھیلنے کے لئے گلی میں لے جایا کرتی تھی اور ایک دفعہ جب وہ ہم جولیوں کے ساتھ کھیل کود میں مشغول تھی تو کس طرح سے ننھی پلوشے نے ایک بچھو کو ادھ موا کر کے دانتوں سے چبا ڈالا تھا۔ جس کا ذکر اس نے گھر میں کسی سے نہیں کیا تھا مگر خود رات کو اٹھ اٹھ کر اسے دیکھتی رہی کیونکہ اسے یقین تھا کہ بچھو کے زہر کی وجہ سے وہ زندہ نہیں بچے گی مگر وہ بھلی چنگی رہی اور اسے کچھ بھی نہ ہوا تھا اور کس بے دردی سے اس نے بڑی بہن کے کندھے

کو کاٹ کھایا تھا اور زخم کا نشان اس قدر گہرا تھا کہ ماں اکثر کندھے پر سے قمیض سرکا کر وہ نشان دکھایا کرتی تھی۔ سو خالہ پلوشے کی المناک موت کی خبر ماں سے چھانا چاہتی تھی کیونکہ میں جانتی تھی کہ اس میں مزید دکھ سننے اور سہنے کی سکت نہیں رہی۔ پورا ایک ہفتہ یہ بوجھ سینے پر لئے پھرتی ری مگر جب برداشت جواب دے گئی اور حواس چٹخنے لگے تو سب کہہ دیا۔ اس کے بعد جو ہوا، نطق بیان کرنے سے قاصر ہے۔
تفصیلات آئیں تو پتہ چلا کہ یہ افسوسناک واقعہ شادی کی ایک تقریب میں پیش آیا تھا۔ ہماری خالہ ننگرہار کے گاؤں کمالا میں بیاہی ہوئی تھی۔ سسرالیوں نے ہجرت کی تھی مگر کچھ عرصہ بعد وطن لوٹ آئے تھے۔ 19 سالہ فرید اس کے شوہر کے بھائی کا بیٹا تھا۔ ذاتی ٹیکسی کار چلا کر روٹی روزی کمانے لگا تو گھر والوں کو شادی کی سوجھی۔ قریبی بستی دیہہ بالا میں عزیزوں کی ایک لڑکی پسند آگئی۔17سالہ فرحین خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ دھیمے مزاج کی مہذب سی لڑکی تھی اور فرید کے گھر والوں کے دل میں کھب کر رہ گئی تھی۔ ہمارے ہاں کی شادیوں کی بہار الگ ہی ہوتی ہے۔ مغرب والے جس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ دولہا اور دلہن کے گھروں میں مہینہ بھر شادی کی تیاریاں نہایت زور شور سے ہوتی رہیں۔ تین روز تک تو رقص و موسیقی کے پروگرام چلتے رہے۔ خالہ پلوشے ایسی تقریبات کی جان ہوا کرتی تھی، ایسا رنگ بھر دیتی کہ دیکھنے والے عش عش کر اٹھتے۔ فرید تو اس کا اپنا بھتیجا تھا۔ چنانچہ کوئی کسر نہیں رہی تھی۔ وہ دھما چوکڑی مچی کہ ہر کوئی دلشاد ہوا۔
6 نومبر 2008ء کی صبح کمالا والوں کے لئے بے حد سہانی تھی کیونکہ کچھ ہی دیر بعد وہ فرید کی بارات کے ساتھ دلہن کے گاؤں جانے والے تھے۔ بچوں اور عورتوں کی تیاریاں اور جوش و خروش دیدنی تھا۔ رنگ برنگے بھڑکیلے لباس اور گہنے خوب بہار دکھا رہے تھے۔ سبھی باراتی ایک دوسرے کو جانتے ہی نہیں تھے بلکہ کسی نہ کسی طور آپس میں رشتہ دار بھی تھے۔ بارات صبح 8 بجے روانہ ہو گئی تاکہ شام سے پہلے لوٹ سکے، سب کچھ پروگرام کے عین مطابق تھا۔ کھانے، نکاح اور دیگر رسومات سے وقت پر فارغ ہوگئے تھے۔ واپسی کا سفر شروع ہوا تو اگلے دن کا پروگرام ڈسکس ہونے لگا۔ بڑے بزرگ ولیمے کے کھانے اور دیگر جزئیات طے کر رہے تھے۔ کھیلتے کودتے، گرد اڑاتے بچے سب سے آگے تھے۔ اس کے بعد خواتین جن میں دیگر براتیوں کے علاوہ دلہن اور خالہ پلوشے بھی شامل تھی۔ آخری ٹولہ بزرگوں کا تھا۔ بارات دلہن کے گاؤں سے نکل رہی تھی کہ بمبار طیاروں نے آ لیا۔ پہلا بم بچوں پر گرا اور لمحہ بھر میں سب شوخیاں موت کے سناٹے میں بدل گئیں۔ باراتی ابھی سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ طیارے نیچی پرواز کرتے ہوئے واپس آ گئے۔ اب خواتین نشانے پر تھیں۔ دوسرے بم سے سب ڈھیر ہوگئیں۔ صرف دلہن اور میری خالہ بچی تھی جو ذرا ایک طرف تھیں۔ اتنے میں ایک اور دھماکہ ہوا اور وہ بھی مر گئیں۔ میری ماں کا سگا چچا اور رشتے میں میرا دادا حاجی خان بھی ننھے پوتے کی انگلی تھامے باراتیوں میں شامل تھا۔ دھماکے کی شدت سے 75 سالہ حاجی خان اپنی جگہ سے اڑا اور کئی میٹر دور گر کر بیہوش ہوگیا۔ ہوش میں آیا تو زخموں سے چور تھا۔ پوتے کا کچھ پتہ نہ تھا۔ البتہ اس کی انگلی بدستور دادا کے ہاتھ میں تھی۔47 لوگ تو موقع پر ہی شہید ہوگئے تھے، کئی ایک نے بعد میں دم توڑ دیا تھا۔ دیہہ بالا کے سانحہ پر صدر حامد کرزئی بھی تڑپ اٹھے تھے اور صدر اوباما کے نام مراسلہ میں انہوں نے لکھا تھا
"Our demand is that there is no civilian casualties Afghanistan. We commit with the war against terrorism eith atrocities"
اور پھر ایک دن ماں اچانک کہنے لگی کہ وہ افغانستان جانا چاہتی ہے۔ اس جگہ کو دیکھنا چاہتی ہے جہاں اس کی بہن نے دم توڑا تھا اور اس کی آخری آرام گاہ پر دعا کرنا چاہتی ہے۔ ہم نے انہیں لاکھ سمجھایا کہ افغانستان کے حالات ٹھیک نہیں اور پھر دیہہ بالا کے شہیدوں کو تو الگ الگ قبریں بھی نصیب نہیں ہوئی تھیں۔ ایک ایک مرقد میں کئی کئی جسموں کے لوتھڑے دفن کئے گئے تھے مگر اس کی ایک ہی رٹ تھی اور کچھ نہیں تو مرنے سے پہلے، اس سرزمین کو ہی دیکھ لوں گی جہاں میں نے جنم لیا تھا، جہاں میرے ماں باپ رہتے تھے، جہاں میں اپنی پلوشے کے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔ اگر میں نے اپنی جنم بھومی کی فضا میں پھر سے سانس نہ لیا تو میں مر جاؤں گی، میرا دم گھٹ جائے گا۔ جب ماں کی مانے بغیر چارہ نہ رہا۔ تو سفری کاغذات درست کئے، دفتر سے دو ہفتے کی رخصت لی اور ایک صبح ہم کابل کے ہوائی مستقر پر ٹیکسی تلاش میں تھے، جو ہمیں ننگرہار کی بستی کمالا لے جائے۔ دس گھنٹے کے پراذیت سفر کے بعد منزل پر پہنچے تو وہاں کوئی بھی ہمارا استقبال کرنے والا نہیں تھا۔ ایک گڈریے سے سانحہ دیہہ بالا کے شہیدوں کی قبروں کا پوچھا تو اسے کچھ علم نہ تھا۔ بڑی مشکل سے ایک شخص ملا، جس نے گھاس اور جڑی بوٹیوں سے ڈھکی چند ڈھیریوں کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا کہ ان بدنصیبوں کو یہیں کہیں دفن کیا گیا تھا۔ ہم نے وہیں کھڑے کھڑے ان کے لئے دعا کی اور بوجھل قدموں سے گاڑی میں آبیٹھے۔ اگلی منزل کمالا کے نواح میں واقع ہماری خاندانی حویلی تھی، جہاں میری ماں بیاہ کر آئی تھی اور جہاں اس نے ایک بیٹے کو جنم دیا تھا۔ بمشکل دو کلو میٹر ہی سفر طے کیا ہوگا کہ سیاہ پتھروں کی ڈھیریاں دکھائی دیں۔ ماں گاڑی سے اتر آئی۔ مختلف نشانیوں سے اندازہ لگایا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں کبھی ان کی عالی شان حویلی ہوا کرتی تھی۔ زندگی اور رونق سے بھرپور اور آج وحشت کا یہ عالم کہ ماں بھی اس کی تاب نہ لا سکی۔ کچھ دیر پھٹی پھٹی نظروں سے اردگرد کا جائزہ لیتی رہی پھر تیزی سے پلٹی اور گاڑی میں آبیٹھی۔ مزید بربادی دیکھنے کی اس میں ہمت نہیں رہی تھی۔ چلّائی، یہاں سے فی الفور نکل چلو۔ جن جگہوں کی زیارت کے لئے وہ ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے آئی تھی، اس کے لئے بے معنی ہو رہی تھیں۔ انسان کی بھی کیا سائیکی ہے یا تو بعض چیزوں کے لئے مرا جا رہا ہوتا ہے یا پھر ان کی ایک جھلک بھی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے اور جس ٹرپ کے لئے ہم دو ہفتے لے کر آئے تھے، دو دنوں میں ہی سمٹ گیا تھا۔